تندرستی کے لئے یوگا کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس آج نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی

Image default
Urdu News

نئی دہلی، تندرستی کے لئے یوگا کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس آج نئی دہلی میں کامیابی کے ساتھ مکمل ہوئی۔ اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سڑک ٹرانسپورٹ، شاہراہوں، جہاز رانی، آبی وسائل، دریاؤں کی ترقی اور گنگا میں نئی جان ڈالنے کے محکمےکے وزیر جناب نتن گڈکری نے کہا کہ یوگا میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کےزبردست امکانات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان امکانات سے فائدہ اٹھانے کےلئے ہمیں یوگا کی پریکٹس کرانے والوں کو پیشہ ورانہ تربیت دینےکی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ یوگا کی تعلیم کا باقاعدہ نصاب تیار کیا جانا چاہیے اور پیشہ ورانہ طریقے پر سائنسی تحقیق کو فروغ دیاجانا چاہیے۔

اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آیوش (آزادانہ چارج) کے وزیر مملکت جناب شری پد یسو نائک نے خوشی ظاہر کی کہ کانفرنس میں شرکت کےسلسلے میں پوری دنیا سے زبردست ردعمل سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس سطح پر اس کانفرنس میں شرکت کی گئی ہے اس سے ہم اس بات پر مجبور ہوئے ہیں کہ آنے والے برسوں میں اور بڑی سطح پر اس طرح کی کانفرنس کا اہتمام کیا جائے۔

جناب شری پد نائک نے وضاحت کرتے ہوئےکہا کہ مغربی ممالک یوگا میں بڑی دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں اور صرف امریکہ میں تقریباً دو کروڑ لوگ یوگا پر عمل کررہے ہیں۔ اس تعداد میں ہر سال اوسطاً پانچ فیصد کا اضافہ رہا ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ امریکہ کی فوجی تربیت کے نصاب میں یوگا کو شامل کیا گیا ہے اور بہت سے دیگر ممالک مثلاً برطانیہ، یوروپی ممالک اور جنوب مشرقی ممالک یوگا کی پریکٹس میں برابر اضافہ کرتے جارہےہیں۔ آیوش کےوزیر نےیہ بھی کہا کہ ہماری حکومت آیوش طریقہ ہائے علاج، خاص طور پر یوگا کےسلسلے میں، نہ صرف ملک میں بلکہ ملک کے باہر بھی، ان طریقوں کو ترقی دینے کےلئےعہد بند ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بہت سے جدیدطبی ادارو ں نے یوگا کو بہت سی بیماریوں کے علاج معالجہ کے لئے ایک متبادل طریقہ علاج کے طور پر اپنایا ہے۔ جناب نائک نے کہا کہ ہندوستان میں بھی یوگا نظام کی رفتہ رفتہ شہرت ہورہی ہے اور اسے جدید طبی نظام میں ایک متبادل طریقہ علاج کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ صحت اور خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر مملکت جناب اشونی کمار چوبےنے کہا کہ جدید ادویات اور یوگا دونوں کےذریعہ صحت کی مکمل دیکھ بھال کی جاسکتی ہے اور یہاں تک کہ عالمی صحت تنظیم نے بھی حال ہی میں ‘اسٹیٹ آف ہیلتھ’ کی اپنی تشریح میں صحت کی دیکھ بھال کےسلسلے میں یوگا کو شامل کیا ہے۔ جناب چوبے نے کہا کہ روحانی صحت یوگا کا ایک اہم جز ہے اور اب جبکہ عالمی صحت تنظیم نے بھی اس نقطہ نظر کو سمجھ لیا ہے، امید کی جاتی ہے کہ ان دونوں طریقہ ہائے علاج کا صحیح معنوں میں تال میل سامنےآئے گا۔ آیوش کے سکریٹری جناب سی کے مشرا ، اسپیشل سیکرٹری ویدیہ راجیش کوٹیچہ ، پتانجلی کے منیجنگ ڈائریکٹر آچاریہ بالا کرشنن، ایس۔ وی وائی اے ایس اے کے بانی وائس چانسلر جناب ایچ آر نگیندر اور آسٹریا کے معروف یوگا گرو سوامی مہیشورا نندا بھی اس موقع پر موجود تھے۔

یہ دو روزہ کانفرنس 7 تکنیکی اجلاسوں پر مشتمل تھی جس کے بعد یوگا کے بارے میں سوال و جواب کا ایک اجلاس بھی ہوا۔ اس کے دوران مختلف بیماریوں کی روک تھام میں یوگا کے استعمال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا گیا۔ کانفرنس کا مقصد آیوش اور ایلوپیتھی کے ڈاکٹروں ، تحقیق کاروں، ماہرین تعلیم، پالیسی سازوں اور طلبا کےلئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنا تھا تاکہ وہ تندرستی کے سلسلے میں یوگا کے استعمال کے مختلف پہلوؤں کو سمجھ سکیں۔

Related posts

وزیراعظم 25 دسمبر کو نئی میٹرو لائن کا افتتاح کریں گے، نوئیڈا اور جنوبی دلی کے درمیان سفر کے وقت میں کمی آئے گی

وینکیا نائیڈو کے سنکرانتی ملن میں نریندر مودی، حامد انصاری ، ڈاکٹر من موہن سنگھ شامل

بھوٹان کے وزیر اعظم نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کی

Leave a Comment