این سی وی ٹی سی کووڈ-19 کی روک تھام کیلئے اپنے زیر اختیار کام کرنے والا – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » این سی وی ٹی سی کووڈ-19 کی روک تھام کیلئے اپنے زیر اختیار کام کرنے والا

این سی وی ٹی سی کووڈ-19 کی روک تھام کیلئے اپنے زیر اختیار کام کرنے والا

نئی دلی، سائنس اینڈ انجینئرنگ ریسرچ بورڈ (ایس ای آر بی) نے اس مطالعہ کی حمایت کےلئے اپنی منظوری دے دی ہے، جسے ہریانہ میں ضلع ہسارمیں نیشنل سینٹر فار ویٹرینری ٹائپ کلچرس (این سی وی ٹی سی)، آئی سی اے آر –این آر سی میں انجام دیا گیا ہے۔ اس کے تحت 94 ازحد چھوٹے کیمیاوی انہبیٹرس پر مبنی ان کی لائبریری کی اسکریننگ کی جائے گی تاکہ کورونا وائرس کی روک تھام کے لئے اینٹی وائرل عناصر حاصل کئے جا سکیں۔

مولیکیولس کے بارے میں  ایسا یقین کیاجاتا ہے کہ یہ سیلیولر کیناسیس، فاسفیٹس اور ایپی جنیٹک ریگولیٹرس کے اثرات کو کم کرتا ہے یعنی ہسٹون میتھی، ٹرانسفیئرس، ہسٹون ڈیسیٹائلس اور ڈی این اے مائتھل وغیرہ کو بے اثٖر کر دیتا ہے۔ ان مانع اثرات کو کینسر میں بخوبی طور پر دیکھا جا سکتاہے۔ تاہم وائرس کے لائف سائکل میں ابھی تک ان کے کردار کے بارے میں کوئی پختہ جانکاری نہیں حاصل ہوئی ہے۔ منتخبہ عناصر جن کے ساتھ مانع کورونا وائرس عناصر داخل کئے جائیں گے، وہ اپنے طور پر کورونا وائرس کی سرگرمی پر اثرانداز ہوں گے اور یہی پہلو اس مطالعہ کا موضوع ہے یعنی مولیکیولر میکانزم کا طرز عمل سمجھنا۔ ساتھ ہی ساتھ اس امر پر بھی غور کیاجائے گا کہ ممکنہ طور پر ادویات  کو بے اثر کرنے والے مختلف النوع وائرس کون کون سے ہو سکتے ہیں۔

کلاسیکی طور پر وائرل کی نفی کرنے والی ادویہ  براہ راست مخصوص وائرل پروٹین کو نشانہ بنانے کی غرض سے وضع کی جاتی ہیں۔ تاہم اکثر یہ حکمت عملی اس وجہ سے نا کام ہو جاتی ہے کہ وائرس بذات خود اپنے اندر ادویہ کی مخالفت کی صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔ اعلیٰ آرگینزم کے برخلاف، ایک وائرل پالیمرس اپنے طور پر اپنی شکل بدلتا ہے اور ا س کا نیو کلک تیزا ب(آر این اے)، پروف ریڈنگ کی صلاحیت نہیں رکھتا ۔ لہذا آر این اے وائرس مثلا کورونا وائرس میں ایسا میکانزم نہیں ہوتا، جس سے برعکس اثرات والے نیوکلوٹائڈس کو علیحدہ کیاجا سکے۔ (وائرل آر این اے) کے بلاک بنائے جا سکیں۔ یہ تمام ترعمل وائرل جینوم کے یکجا ہونے پر انجام پاتا ہے۔ پروف ریڈنگ کی صلاحیت نا ہونے کی وجہ سے وائرل جینوم میں  برعکس عناصر جمع ہو جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وائرل پروٹین میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اسی موقع پر تبدیلی کے عمل سے گزاری گئی وائرل پروٹین مانع وائرل ادویہ کے خلاف صلاحیت پیدا کر لیتے ہیں۔ وائرسوں کے اندر پنہاں تیزی سے خود کو بدل دینے کی اور بار بار ایسا کرلینے کی صلاحیت ہی  سائنس دانوں کے لئے مانع وائر ل ڈرگ بنانے کے راستےمیں سب سے بڑی چنوتی ہے۔

وائرس صرف اپنے میزبان خلیہ کے اندر ہی اپنے جیسا دوسرا وائرس بنا سکتے ہیں۔ ایک میز بان (انسان)، کا خلیہ تقریبا 25ہزار پروٹین کا حامل ہوتا ہے۔ جب وائرس اپنے جیسے دوسرے وائرس تیار کرتے ہیں، تو اس دوران متعدد داخلی رد عمل ہوتے ہیں یعنی سیلیولر پروٹین کے ساتھ انہیں کئی مرحلے طے کرنے پڑتے ہیں۔ ایک وائرس کو اپنے میزبان خلیہ کے اندر اپنے سے مماثل دوسرا وائرس پیدا کرنے کے لئے ایک ہزار سے زائد مختلف النوع سیلیولر پروٹینیں درکار ہوتی ہیں۔

ایس ای آر بی کے سکریٹری پروفیسر سندیپ ورما نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادویہ جاتی طبیعاتی تحقیق میں کیمیاوی لائبریری اسکریننگ ایک منفعت بخش طریقہ کار ہے، جو خاطر خواہ طور پر ڈرگ ڈسکوری کے عمل کے طوالت کو کم کرتا ہے، ڈیولپمنٹ سائکل کو بھی گھٹا تاہے۔ خاص طو رپر نو شناخت شدہ عناصر مثلا ایس اے آر ایس-سی او وی-2 کے سلسلے میں ایسا کرتا ہے۔ یہ طریقہ کار بڑی تیزی سے مفید فارکوفورس تک پہنچنے میں مددگار ہوتاہےا ور ترجیحاتی طور پر درکار مولیکیولر کی تلاش میں بھی معاون ہوتا ہے۔ سی او وی-2 ٹیکہ ترقیات پروگرام کی حمایت کرتے ہوئے یہ بات بھی لازم ہے کہ مانع کورونا وائرس دوا کی تلاش  کا جو کام جاری ہے، اس پر وافر توجہ مرکوز رکھی جائے۔

این سی وی ٹی سی کےسائنس داں ڈاکٹر نوین کمار ایک متبادل حکمت عملی کی تلاش میں ہیں تاکہ اس طرح کی سیلیولر پروٹین، پروٹین-پروٹین (وائرس میزبان)، تغیراتی عمل کو نشانہ بنایا جا سکے اور اینٹی وائرل ڈرگ بنائی جا سکے۔ اس طریقہ کار کو میزبان کی مدد سے اینٹی وائرل تھیریپی یا معالجے کی دریافت کا نام دیا جاتا ہے۔ میزبان کے توسط سے تیار کئے جانے والےاینٹی وائرل کے اندر کم سے کم رجحانات ہوتے ہیں یعنی وہ ادویہ کے خلاف ردعمل اور صلاحیت نہیں پیدا کر پاتے، کیونکہ کسی وائرس کے لئے محض جگہ بدل کر کھوئے ہوئے سیلیولر فنکشن کو دوبارہ حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر کمار کو توقع ہے کہ وہ اپنی کوششوں میں کامیابی کے بہت قریب ہیں ا وراس طریقے سے وہ کووڈ-19 کےلئے اینٹی وائرل ہتھیار ضرور بنا لیں گے۔

About admin