26 C
Lucknow
Online Latest News Hindi News , Bollywood News

‘مشترکہ تربیتی حکمت عملی بھارتی مسلح دستے ۔2017’کااجرأ

‘Joint Training Doctrine Indian Armed Forces – 2017’ Released
Urdu News

نئی دہلی:عملے کے سربراہان سے متعلق کمیٹی کے چیئرمین اوربحریہ کے سربراہ ایڈمیرل سنیل لامبا نے کل یہاں منعقدہ ایک سادہ سی تقریب میں  ‘مشترکہ تربیتی حکمت عملی بھارتی مسلح دستے ۔2017’کااجرأکیا۔ مسلح دستوں کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس طرح کے کلیدی دستاویزات پرمبنی سلسلے کو مشتہرکیاگیاہے ۔ یہ دستاویزتمام ترتینوں خدمات کے صدردفاترکے تعاون و اشتراک سے کالیجیٹ طریقے پرتیارکیاگیاہے ۔ اوراسی تیاری میں گذشتہ برس ماہ اپریل میں جاری کئے گئے مشترکہ حکمت عملی کے دستاویزات سے بھی مدد لی گئی ہے ۔

          اس ڈاکٹرائن یا حکمت عملی یاپالیسی کا مقصد یہ ہے کہ تینوں خدمات کے مابین تال میل اورہم آہنگی کو فروغ دیاجائے او رساتھ ہی ساتھ دیگرشرکائے کارکے ساتھ بھی ہم آہنگی کا ماحول پیداکیاجائے تاکہ اثرانگیزی میں اضافہ ہواوروسائل کا بہترسے بہتراستعمال ممکن ہوسکے ۔ اس کے علاوہ اس اصول کے دیگربہت سے فائدے ہیں ۔اس دستاویز کے ذریعہ تینوں خدمات کے مابین آنے والے وقت میں ترقیاتی اقدامات کو فروغ دینے اور اتحاد واتفاق کو بڑھاوادینے کے لئے خلاقیت کا راستہ ہموارکرنے میں مدد ملے گی ۔

          اس اصول کے تحت مجموعی سطح پرمشترکہ تربیت ، بنیادی اصولوں ، مقاصد ، مشترکہ ڈھانچوں منصوبہ بندی ،مسلح افواج میں موجودہ انتظامات اوردیگرپہلوؤں کو بہتربنانے پرزوردیاجائے گا اور 15سال سے زائد کے طورطریقوں اورتجربات کی روشنی میں صدردفاترمربوط دفاعی عملے کے تجربات سے استفادہ کیاجائے گا۔ نظریہ یہ ہے کہ مشترکہ تربیت کا اہتمام تدبراور سول ۔ملٹری ربط وضبط کے موضوعات کو مدنظررکھتے ہوئے کیاجائے ان تمام موضوعات کا ذکراس دستاویزمیں کیاگیاہے ۔ حال ہی میں اختتام پذیراندرا2017مشق اور تین انسانی بنیادوں پرامداد فراہم کرنے والی راحت رسامشقیں جو ہرسال انجام دی جاتی ہیں ، اس مقصد کے حصول کی تابناک مثالیں ہیں ۔

حکمت عملی پرمبنی کلیدی اصول کے سہارے ان بنیادوں اور عملی اساس کو تقویت حاصل ہوگی جن کے ذریعہ آئی ڈی ایف صدردفاتراور خدمات کے صدردفاترکو عملہ کمیٹیوں سے متعلق سربراہان کے چیئرمین کی جانب سے رہنماخطوط اورحکمت عملیاں جاری کی جائیں گی تاکہ طے شدہ نظریات ڈھانچوں ، میکینزم ،صلاحیتوں ، اہلیتوں کو وقتاًفوقتاًتقویت دی جاسکے ۔

          مشترکہ تربیت کو مستحکم کرنے کے نتیجے میں مذکورہ اصول مزید بالیدہ ہوگا اوربطورنظریہ اس میں ترقی اوراضافے کی گنجائش باقی رہے گی ۔ پالیسی سازوں ، مسلح افواج کے عملے اورتعلیمی اداروں کے رہنمایان کے لئے یہ اصول ایک مثالی بصیرت کے طورپر کام کریں گے ۔

          بری فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت ، فضائیہ کے سربراہ ایئرمارشل بریندرسنگھ دھنوا اور عملہ کمیٹی کے سربراہان کے چیئرمین مربوط دفاعی عملے کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ستیش دوابھی اس موقع پرموجود تھے ۔

Related posts

Leave a Comment

This website uses cookies to improve your experience. We'll assume you're ok with this, but you can opt-out if you wish. Accept Read More