‘‘میں 10 ریاستوں کے 38 اضلاع میں پھیلے 130 سے زیادہ مقامات پر شجر کاری کے لئے کوئلے کی وزارت کو مبارکباد دیتا ہوں’’: مرکزی وزیر داخلہ

Image default
Urdu News

نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ جناب امت شاہ نے آج یہاں کوئلے، کانکنی اور پارلیمانی امور کے مرکزی وزیر  جناب پرلہاد جوشی  کی موجودگی میں  کوئلے کی وزارت کی شجر کاری مہم  ‘‘ورکشا روپن ابھیان’’ کا آغا ز کیا۔ اپنی رہائش گاہ پر  آغاز کی تقریب کے دورا ن مرکزی وزیر داخلہ نے   6 ایکو پارکوں  / سیاحی مقامات  کا افتتاح کیا اور سنگ بنیاد  بھی رکھا۔ شجر کاری کی مہم  ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ  10 کوئلے /لگنائٹ والی  ریاستوں کے 38 اضلاع میں پھیلے  130 سے زیادہ مقامات پر  چلائی گئی۔ جناب امت شاہ نے کہا کہ ‘‘میں 10 ریاستوں کے 38 اضلاع میں پھیلے  130 سے زیادہ مقامات پر  6 لاکھ پیڑ لگانے کے لئے کوئلے کی وزارت کو مبارکباد دیتا ہوں ’’۔

اس موقع پر  کوئلے کی وزارت کے سکریٹری جناب انل کمار جین، کوئلے کی وزارت کے جوائنٹ سکریٹری جناب بی پی  پتی اور دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔160 مقامات سے  اس ورچوول تقریب میں  تقریباً 32000 لوگ جڑے ہوئے تھے۔ ایم پی اور ایم ایل اے اور ریاستی سرکاری افسروں  سمیت ریاستوں سے  300 سے زیادہ معززین نے  اس ورچوول تقریب میں شرکت کی۔

http://pibcms.nic.in/WriteReadData/userfiles/image/image001O5XE.jpg

 اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ  آب و ہوا کی تبدیلی نے دنیا پر اثر ڈالا ہے اور  اس بحران کا  صرف ہریالی ہی  واحد حل ہے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ثقافت میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ  کسی کو قدرت کا استحصال نہیں کرنا چاہیے بلکہ  اس کی جگہ قدرت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے۔

جناب امت شاہ نے کہا ‘‘بھارتی وراثت  کا مول منتر یہ ہے کہ  ہمیں اپنے قدرتی وسائل سے فائدہ اٹھانا چاہیے لیکن  ان کا استحصال نہیں کرنا چاہیے۔ ہم نے  اپنی خود کی بربادی کے لئے  اس اصول کو نظر انداز کیا ہے، جس سے  اوزون پرت کو نقصان پہنچا ہے  اور اوزون میں چھید ہوگئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہمیں گلوبل وارمنگ اور آب و ہوا کی تبدیلی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔اس مسئلے کا صرف ایک ہی حل ہے اور اس کا ذکر  رشیوں پر پرانوں میں کیا ہے کہ  درخت  انسانیت کے دوست ہیں اور  صرف ہریالی ہی ہمیں  اس بحران سے نکال سکتی ہے۔ درخت ہمیں  زندگی کو بچانے والی آکسیجن دیتے ہیں،  کاربن کے اخراج کو کم کرنے میں مدد کرتے ہیں اور  اوزون کی پرت کا بھی تحفظ کرتے ہیں’’۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ آج کوئلے کا شعبہ  نہ صرف کوئلے کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لئے تیار ہے، بلکہ   ماحولیات کے استحکام  کے بارے میں بھی اتنا ہی حساس ہے۔ انہوں نے کہا کہ  وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں  حکومت کوئلے کے مختلف خطوں  میں  ماحول کی بازیافت اور  جنگلات  کو فروغ دے رہی ہے۔جناب امت شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے  کانکنی کے علاقوں کی ترقی کے لئے  39000 کروڑ کی رقم کے ساتھ  ڈسٹرکٹ منرل فنڈ  قائم کیا ہے اور 35 ہزار چھوٹے پروجیکٹ مکمل کئے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ کوئلہ کا شعبہ  بھارتی معیشت کا ایک اہم ستون ہے اور آنے والے وقت میں بھی اس کی اہمیت برقرار رہے گی۔

جناب امت شاہ نے کہا  کہ  وزیراعظم کی قیادت میں ‘کاروبار کرنے میں آسانی’ اور آتم نربھر بھارت کے لئے کوئلے کی وزارت کے ذریعہ متعدد اقدامات کئے گئے ہیں۔ بھارت  کوئلے کی درآمدات  کو کم کرکے زیرو کرنے کی جانب بڑھ رہا ہے۔ حکومت نے  24۔2023 تک کوئلے کی  ایک بلین ٹن  (سالانہ) پیداوار کا شاندار نشانہ رکھا ہے۔

انہوں نے کہا   ‘‘کوئلے کے پی ایس یو اور  کیپٹو مائنر نے بھی  کوئلے کی پیداوار میں اضافے کے لئے  اقدامات شروع کئے ہیں جبکہ  2020 سے 2024 تک کی مدت کے دوران  بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی اسکیم کے تحت  ایک لاکھ 25 ہزار کروڑ روپے کی  سرمایہ کاری کی جارہی ہے، جس کے لئے  534 پروجیکٹ شناخت کئے گئے ہیں’’۔

جناب امت شاہ نے  کہا کہ  آج شروع کی گئی  شجر کاری کی مہم  اس لئے مزید اہم ہوجاتی ہے  کہ یہ لوک مانیہ بال گنگا دھر تلک  اور چندر شیکھر آزاد کا  یوم پیدائش  بھی ہے جنہوں نے  قوم کی خدمت میں اپنی زندگی لگادی تھی۔

انہوں نے کہا ‘‘لوک مانیہ تلک نے  آزادی کے لئے  جو منتر دیا  کہ ‘آزادی میرا پیدائشی حق ہے’ اس سے آج کے نوجوان بھی تحریک حاصل کرتے ہیں۔ بھارت کے  احیا نو کے پیچھے انہیں کا جذبہ کار فرما ہے۔ آزاد بھارت کے بیٹے تھے جنہوں نے  کبھی سر نہیں جھکایا اور  ان کی قربانی نے بھارت کی آزادی کے لئے بہت سے نوجوانوں کو تحریک دی’’۔جناب امت شاہ نے  کوئلے کی وزارت سے کہا کہ وہ  لوک مانیہ تلک اور  چندر شیکھر آزاد کی یاد میں  ایکو پارکوں اور سیاحتی مقامات کے نام رکھیں۔

http://pibcms.nic.in/WriteReadData/userfiles/image/image004GBPB.jpg

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے  کوئلے،کانکنی اور  پارلیمانی امور کے وزیر  جناب پرلہاد  جوشی نے کہا کہ  آج  ماحول کو بچانے اور اس کے تحفظ کے لئے   10 ریاستوں کے 38 اضلاع میں 600 ایکڑ کے رقبے میں  6 لاکھ پودے لگائے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ  اس موقع پر  مقامی لوگوں کو  5 لاک پودے تقسیم بھی کئے جائیں گے۔ پانچ ایکو پارکوں اور ایک   سال پلانٹیشن پروجیکٹ  کی کل لاگت  27.60  کروڑ روپے ہے۔

http://164.100.117.97/WriteReadData/userfiles/image/image003KGOF.png

جناب پرلہاد جوشی نے کہا کہ  سال  14۔2013 میں  کل ہند سطح پر کچے کوئلےکی پیداوار  565 ایم ٹی تھی۔ جو کہ  20۔2019 میں بڑھ کر 729 ایم ٹی ہوگئی ہے یعنی   پیدا وار میں  163 ایم ٹی کا اضافہ ہوا ہے جبکہ  اس  پہلے کے  5 برسوں کے دوران   یہ 73 ایم ٹی کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ کول انڈیا لمیٹیڈ نے 24۔2023 میں  ایک بی ٹی کوئلے کی پیداوار حاصل کرنے کا نشانہ رکھا ہے جو کہ  مانگ اور سپلائی کے خلا کو کم کرنے میں اہم ہوگا۔ ایس سی سی ایل، این ایل سی آئی ایل اور  دیگر کیپٹیو کمپنیاں بھی  پیداوار میں اضافے کی کوشش  اور گھریلو کوئلے کی سپلائی میں  اضافہ کرنے میں تعاون کرنے کے لئے تیار ہیں۔

جناب پرلہاد جوشی نے کہا کہ کوئلے کی کمرشیل کانکنی   آتم نربھر بھارت   کی سمت میں  ایک اہم ہونے والی ہے، جس کا مقصد  بھارت کو  خود کفیل اور  عالمی مسابقت  کا اہل بنانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ  کوئلے کو شعبے کو کھولے جانے سے  عالمی پیمانے کی  کمپنیاں  جدید ٹکنالوجی اور سرمایہ لیکر  آئیں گی اور  بھارت کو  عالمی کمپنیوں کے مزید قریب لائیں گی۔

کوئلے کے شعبے کے ذریعہ ماحول کے تحفظ کا ذکر کرتے ہوئے  جناب جوشی نے کہا کہ  مالی سال  20۔2019 تک  کوئلے اور لگنائٹ کے پی ایس یو  نے  تقریباً 157 ملین  پودے لگائے ہیں اور  مجموعی طور پر تقریباً 25 ہزار  ہیکٹئر رقبے  کو بحال کیا ہے۔کوئلے اور لگنائٹ کے پی ایس یو  نے  مالی سال 24۔2023 تک نئے  ایکو پارک تیار کرنے ،  ملک بھر میں  15 مقامات پر  واقع موجودہ ایکو پارکوں اور دیگر  سیاحتی مقامات کی توسیع کے لئے 50 کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔

 کوئلے کے سکریٹری جناب انل کمار جین نے کہا  کہ  کوئلے کی وزارت کے تحت  سرکاری شعبے کے اداروں (پی ایس یو) کے ذریعہ   ان علاقوں کے لوگوں کی ضرورتوں اور بہبود کو ذہن میں رکھتے ہوئے  ایکو پارک اور سیاحتی مقامات تیار کئے جارہے ہیں۔ ماحول کو بچانے اور اس کے تحفظ  کی عبد بندی کو  آگے بڑھاتے ہوئے  کوئلے اور لگنائٹ کے پی ایس یو   کول انڈیا لمیٹیڈ (سی آئی ایل)  سنگا رینی کولیاریز   کمپنی لمیٹیڈ  (ایس سی سی ایل)  اور این ایل سی انڈیا لمیٹیڈ  نے کوئلے کی وزارت کے تحت  ورکشا روپن  ابھیان کے تحت  شجر کاری ایک بڑی مہم شروع کی ہے۔  کوئلے اور لگنائٹ کے پی ایس یو نے  رواں  مالی سال میں  70 کروڑ روپے کی لاگت سے  1789 ہیکیٹئر رقبے میں  40 لاکھ پودے لگانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ یہ کمپنیاں  اسی مالی سال کے دوران  20 لاکھ مزید پودے تقسیم بھی کریں گی۔

ایکو پارکوں/ سیاحتی مقامات کی تفصیل

آج جھارکھنڈ اور تمل ناڈو میں تیار کئے گئے  دو ایکو پارکوں کا افتتاح کیا گیا ہے۔ جھارکھنڈ میں واقع ایکو پارکوں کا نام  پارس ناتھ ادیان  رکھا گیا ہے، جس کو  سی آئی ایل کی معاون کمپنی  بھارت کوکوکنگ  کول لمیٹیڈ (بی سی سی ایل)  نے  تیار کیا ہے اور  یہ 3.5 ہیکٹئر کےرقبے میں پھیلا ہے جس میں  جوگنگ ٹریک ، پھولوں کے باغیچے، آرام کر نے کی بنچیں  ایکویٹک ایکو سسٹم  کے ساتھ گرین ٹرنل  اور   ویسٹ ٹو ویلتھ  زون شامل ہے۔ تمل  ناڈو میں واقع ایکو پارک  این ایل سی انڈیا لمیٹیڈ نے تیار کیا ہے  جو کہ 15 ایکٹر کے رقبے میں پھیلا ہے اور اس میں  بوٹنگ  ، آرام کرنے کی بنچیں   ڈینس کور ، برڈ واچنگ زون وغیرہ شامل ہیں۔ اس ایکو پارک کی   جھیل میں مختلف قسم کی مچھلیاں ہیں اور  250 سے زیادہ  قسم کے پرندے   ہیں جو اس کی دلکشی میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔

تین ایکو پارک جن کے لئے سنگ بنیاد رکھا گیا ہے ، اترپردیش میں ہیں جن کو  سی آئی ایل کی معاون کمپنی  ناردرن کول فیلڈس لمیٹیڈ تیار کرے گی  لیلاری ایکو پارک اوڈیشہ میں ہے جس کو  سی آئی ایل کی معاون کمپنی مہا ندی  کول فیلڈس لمیٹیڈ (ایم سی ایل) تیار کرے گی اور  جھارکھنڈ میں ایکو پارک  سی آئی ایل کی معاون کمپنی سینٹرل کول فیلڈ لمیٹیڈ  (سی سی ایل) تیار کرے گی۔سنگ بنیاد اوڈیشہ میں ایک سال پلانٹیشن  پروجیکٹ کے لئے رکھا گیا ہے، جس کو این ایل سی (انڈیا) لمیٹیڈ تیار کرے گی۔

Related posts

ریلویز کے ذریعہ 2500مسافرڈبوں کو آئسولیشن کوچ میں تبدیل کیا گیا، ریلویز نے تھوڑے سے وقت میں ابتدائی نشانہ کا نصف حصہ حاصل کر لیا ہے

زندہ وراثت کی حفاظت اور بندوبست کے لئے برادریوں کو شامل کرنا ضروری : ڈاکٹر مہیش شرما

ہند – چین غیر رسمی سربراہ کانفرنس