اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی: درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کی حکمت عملی کی سفارش کی – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی: درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کی حکمت عملی کی سفارش کی

اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش کی: درآمدات پر انحصار کو کم کرنے کی حکمت عملی کی سفارش کی

نئی دہلی، تیل اور گیس کے  سرکاری سیکٹر کے یونٹوں کے  آر اینڈ ڈی مراکز  ، ٹیکس معاملات  اور  جی ایس ٹی سے   فائدہ حاصل کرنے کے طریقوں کے در میان  تال میل پیدا کرنے کی خاطر  ایک ایکشن پلان تیار کرنے کے لئے  حکومت ہند  کے ذریعے  تشکیل دی گئی اعلیٰ سطحی کمیٹی نے  آج اپنی رپورٹ  پیٹرولیم اور قدرتی گیس  اور  ہنر مندی کے فروغ اور صنعت کاری  کے مرکزی وزیر  جناب دھرمیندر پردھان کو پیش کردی ہے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی  نے ، جو  سرکردہ سائنس داں ڈاکٹر  انل کاکودکر  ، مالی اور ٹیکس امور کے ماہر  جناب سری سدھارتھ پردھان  پر مبنی ہے ، تیل اور گیس کے سرکاری سیکٹر کے یونٹوں کے انضمام ، تحویل  اور  مستحکم بنانے  اور مشترکہ پروجیکٹوں کے بارے میں بھی غور کیا  اور  پوری دنیا میں تیل اور گیس کے سیکٹر  کے لئے  اہل  افراد قوت  کی سپلائی  اور تیل خدمات  سے نمٹنے کے لئے  ایک نئی اکائی  کی تشکیل کی  ضرورت   کے امکانات کو تلاش کیا۔

 توانائی کی سکیورٹی بھارت کے لئے  اہم کلیدی  ترجیح ہے۔ 2018 کے دوران  بھارت نے  204.92 ایم ایم ٹی  پیٹرولیم  مصنوعات  کا استعمال کیا اور 58.64  بی سی ایم  قدرتی گیس  کا استعمال کیا، جس میں  خام تیل اور  قدرتی گیس کی گھریلو پیداوار   تقریبا ً  اپنی جگہ قائم رہی ۔اس سال کے دوران خام تیل  اور  ایل این جی  کی درآمد پر انحصار بالترتیب  82.59  فیصد اور  45.89  فیصد رہا، جس کے آنے والے دنوں میں  اضافہ ہونے کی امید ہے۔ سال  2018 کے دوران  پیٹرولیم کی در آمدات  (7028.37 ارب روپے)   کُل مجموعی در آمدات   ( 30010.2 ارب روپے) کا  23.42 فیصد تھا۔ بھارت کی  تیل کی امکانی مانگ  2016 سے  2030 کے دوران  سی اے جی آر  4 فیصد  تک  اضافہ ہونے کی  امید ہے ، جبکہ  دنیا کا اوسط  ایک فیصد ہے ۔ اس کے باوجود امریکہ اور چین کے مقابلے  تیل کی مانگ  کافی کم  رہنے کی امید ہے۔  یہی وجہ ہے کہ بھارت  ایک بے یقینی کی صورت حال میں پھنسا ہوا ہے اور  پائیدار طریقے سے  اپنی توانائی کی ضروریات کی کفالت کے لئے  عام طریقوں سے ہٹ کر نئے حل کی ضرورت ہے۔ اس عمل میں  تحقیق و ترقی ایک اہم رول ادا کرسکتی ہے۔

اعلیٰ سطحی کمیٹی نے اس عمل میں  مختلف  تیل اور گیس اور سرکاری سیکٹر کے یونٹوں  کے تحقیق و ترقی کے مراکز اور تربیتی اداروں کا دورہ کیا۔ کمیٹی نے  اپنی سفارشات  تحریر کرنے سے پہلے  سیکٹر کے کاروبار کو سمجھنے اور  درپیش چیلنجوں اور مواقع  کے بارے میں جاننے کے لئے  تیل کے سیکٹر  سی ایم ڈیز  اور  سینئر ایگزیکیٹو  کے ساتھ بھی تبادلہ خیال کیا۔ کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں مختصر مدت کے لئے  اوسط مدت کے لئے اور طو یل مدت کے لئے حکمت عملی کی سفارش کی ہے، جس  میں    ملک  کی در آمدات کے انحصار کو کم کرنے کی واضح حکمت عملی  مرتب کی گئی ہے۔

 پیٹرولیم اور قدرتی گیس کی وزارت    مذکورہ معاملے میں  پالیسیاں مرتب کرتے ہوئے کمیٹی کے ذریعے  پیش کی گئی سفارشات پر غور کرے گی ۔

About admin