لوگ آن لائن سامان کی پیکنگ میں استعمال ہونے والے کے وی آئی سی کے کاغذوں کو پسند کررہے ہیں

Image default
Urdu News

نئی دہلی: کھادی اورگاوں صنعتوں کے کمیشن کے وی آئی سی نے دومہینے پہلے ای ۔ کامرس  صنعت میں کام شروع کیاتب سے ہی کمیشن سامان کی پیکنگ کے لئے ہاتھ سے بنے کاغذوں کا استعمال کررہاہے جس کا مقصد کے وی آئی سی کی ‘‘گرین کیمسٹری ’’کے اصول پرعمل کرنا ہے اور پلاسٹک کی آلودگی کو روکنا ہے ۔

کے وی آئی سی رقیق میٹریلس ( سامان ) کو چھوڑ کر ہاتھ سے بنے لفافے پیکٹ اورہاتھ سے ہی بنے کارٹن باکس کا استعمال سامانوں کی پیکنگ کے لئے کررہاہے ۔ پلاسٹک کا استعمال محض رقیق سامانوں کی پیکنگ میں کیاجارہاہے تاکہ ٹرانسپورٹیشن میں رقیق سامانو ں کا لیکج نہ ہو۔ کے وی آئی سی فیس ماسک کی بحفاظت ڈلیوری کے لئے پہلے پنّیوں کا استعمال کرتاتھا لیکن اس کے لئے بھی جلد ہی کیلے کے ریشوں سے بنے مخصوص لفافوں کا استعمال شروع کرے گا۔

ماناجارہاہے کہ کھادی اور گاوں صنعت میں یہ  قدم نیشنل گرین ٹرائبونل ( این جی ٹی ) کے اس ہدایت کو دھیان میں رکھتے ہوئے اٹھایاہے جس کے تحت ای۔ کامرس کمپنیوں کو چیزوں کی پیکنگ میں استعمال ہونے والے زیادہ ترپلاسٹک کااستعمال کم کرنے کو کہاگیاہے تاکہ ماحولیات کے لئے پیداہورہے خطرے کو کم کیاجاسکے ۔ ٹرایبونل نے سینٹرل کنٹرول بورڈ ( سی پی سی بی ) کو بھی ہدایت دی ہے کہ وہ ای ۔ کامرس کمپنیوں کے ذریعہ پلاسٹک کی آلودگی کوکم کرنے کے لئے اقدامات کرے ۔

ہاتھ سے بنے کاغذکے پیکج اورکارٹن باکسیز کا استعمال کرکے کے وی آئی سی ماحولیاتی تحفظ اور روزگارپیداکرنے کے دوہرے مقصد کو پوراکررہاہے ۔ کے وی آئی  سی ہاتھ کے بنے کاغذپیکج استعمال کررہاہے جو اس کے کماراپانیشنل ہینڈ میڈ پیپرانسٹی ٹیوٹ  جے پورمیں تیارکئے گئے ہیں  جو ہاتھ کے بنے کاغذکے پیکجنگ سامان کی مینوفیکچرنگ میں اضافی روزگارپیداکررہاہے ۔

کے وی آئی سی کے چیئرمین جناب ونائے کمارسکسینہ نے بتایاکہ کھادی کے بنے سامان دنیا کے سب سے ماحول دوست لباس ہیں اورماحولیات سے تحفظ فراہم کرتے ہیں ۔ انھیں گاہکوں تک پہنچانے کے لئے ہاتھ کے بنے کاغذ کے پیکٹ کا استعمال کرنا سب سے زیادہ ماحول سے بچانے کا ایک طریقہ ہے ۔

این جی ٹی کے حالیہ مشاہدے سے متعلق میڈیا کے بہت سوالوں کا جواب دیتے ہوئے سکسینہ نے کہاکہ کھادی مصنوعات قدرتی ہیں اور  انھیں گاہکوں تک پہچانے کے لئے ہاتھ سے بنے کاغذکے پیکٹ کا استعمال کرنا سب سے زیادہ ماحول دوست طریقہ ہے ۔ہاتھ کے بنے کاغذپیکٹس اور باکسیز نارمل پلاسٹک پیکیجنگ کے مقابلے زیادہ بھاری ہیں  ۔

کےوی آئی سی نے پیپرپیکٹس میں سامان کی ڈلیوری کے لئے اپنے آن لائن  گاہکوں سے سراہنا حاصل کی ہے ۔جودھ پورسے کھادی کے ایک گاہک سمت ماتھرنے بتایاکہ میں نے کے وی آئی سی ای پورٹل پربارہاآرڈر دیاہے اورہرمرتبہ  میں نے پلاسٹک کا تقریبا صفراستعمال پایا۔

کھادی انڈیا کی طرف سے پیپرپیکٹس کااستعمال   ماحولیات کے تئیں  بیداری کی ایک  کوشش ہے اوریہ اقدام تعریف کا مستحق ہے ۔ کرناٹک سے کھادی کی ایک اورگاہک الکابھارگونے بتایاکہ سامان کی پیکنگ میں پلاسٹک کے بجائے ہاتھ سے بنے کاغذکا استعمال ماحول کو محفوظ بنائے رکھنے کی ایک اچھی کوشش ہے ۔ اس کی تعریف کی جانی چاہیئے ۔ انھوں نے کہاکہ پلاسٹک آلودگی کو کم کرنے میں پلاسٹک کا کم سے کم استعمال سب سے اچھی پہل ہے ۔

Related posts

پندرہویں مالیاتی کمیشن کی گوا کے تجارتی اور صنعتی اداروں کے نمائندوں کے ساتھ میٹنگ

مدھیہ پردیش اور راجستھان میں سیلاب کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کابینہ سکریٹری کی صدارت میں این سی ایم سی کی میٹنگ ہوئی

کیرالامیں اگست 2018میں زبردست بارش کے بارے میں جاری کی گئی موسم سے متعلق وارننگ