22ویں اے ای پی سی ایکسپورٹ ایوارڈ2016-17

Urdu News

نئی دہلی، ٹیکسٹائل اور اطلاعات ونشریات کی مرکزی وزیر  محترمہ اسمرتی زوبن ایرانی نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کی وزارت اساتذہ، زرعی برادری اور صنعت کے درمیان قدرتی ریشوں کی پیداوار اور ان کی ذیلی مصنوعات کی کثیر جہتی کے بارے میں معلومات کو وسیع کرنے اور تبادلوں میں سہولت کے لئے نالج نیٹ ورک منیجمنٹ سسٹم (کے این ایم ایس) نافذ کررہی ہے۔ حکومت کے ذریعے یہ کارروائی ایک وسیع ٹیکسٹائل تجارتی تقریب، ’ٹیکسٹائل انڈیا 2017 کی کامیابی کے بعد کئے جارہے ہیں۔ وزیر موصوف نے یہ بات کل 18 دسمبر 2017 کو  نئی دہلی میں 22ویں اے ای پی سی ایکسپورٹ ایوارڈ 2016-17 کی تقسیم کے لئے منعقد ایک تقریب میں کہی۔

ٹیکسٹائل کی وزیر نے کہا ہے کہ بھارت کی برآمدکاروں کی مارکیٹ تک رسائی کو بہتر بنانے کے لئے توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور حکومت سیکٹر کے تمام شعبوں کے لئے حل تلاش کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ محترمہ ایرانی نے کہا کہ ٹیکسٹائل کے سیکٹر میں مصروف بہت سے لوگوں کی ہنر مندی میں اضافے پر زیادہ توجہ دی جارہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزارت پالیسی اقدامات پر کام کررہی ہے جس سے ریشم اور جوٹ کے سیکٹر پر زبردست اثر پڑے گا۔ وزیر موصوف نے ایوارڈ جیتنے والوں کو پرخلوص مبارک باد بھی پیش کی۔

http://pibphoto.nic.in/documents/rlink/2017/dec/i2017121902.jpg

کامرس اور صنعت کے وزیر جناب سریش پربھو نے کہا کہ وزارت ٹیکسٹائل صنعت کو اس کے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے قابل بنانے کے لئے مختلف اقدامات کررہی ہے۔ انہوں نے فروغ میں تیزی لانے کے لئے عالمی تجارت کی اہمیت کو اجاگر کیا اور نئی سرزمینوں کا پتہ لگانے اور نئی مصنوعات پیش کرنے کے لئے مارکیٹ ریسرچ کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے صنعت کو یقین دلایا کہ حکومت مختلف قسم کے باہمی اور کثیر جہتی مذاکرات اور بات چیت کے ذریعے نئی منڈیوں تک رسائی حاصل کرنے میں مدد فراہم کرنے پر کام کررہی ہے۔

ایوارڈ کے بارے میں ٹیکسٹائل کےو زیر مملکت جناب اجے ٹمٹا نے اے ای پی سی کو ملبوسات برآمد کرنے والوں کی عزت افزائی کرنے پر ستائش کی۔ انہوں نے ملک میں ہنر مند اور نیم ہنر مند ورکروں کی  بڑی تعداد کو روزی روٹی فراہم کرنے کیلئے ملبوسات کی صنعت کی اہمیت کو اجاگر کیا۔

نیتی آیوگ کے سی ای او جناب امیتابھ  کانت نے کہا کہ ٹیکسٹائل کا سیکٹر بہت اہم ہے کیونکہ یہ فروغ کے ساتھ روزگار فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آیوگ اسی وجہ سے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کے سیکٹر کو بہت زیادہ اہمیت دیتا ہے۔

22ویں اے ای پی سی ایکسپورٹ ایوارڈ 2016-17 کا انعقاد نئی دہلی کے  ہوٹل لی میریڈین میں ایک رنگا رنگ تقریب میں کیا گیا۔ یہ ایوارڈ ملبوسات کی صنعت میں شاندار کارکردگی حاصل کرنے والوں کو کل 18 زمروں میں دئے جاتے ہیں۔

اس موقع پر موجود اہم شخصیات نے ملبوسات کی برآمدات  کے فروغ کی کونسل (اے ای پی سی) کے چیئرمین جناب اشوک رجانی، ملک کے ملبوسات کے ممتاز برآمدکار اور اے ای پی سی کے سینئر عہدیدار موجود تھے۔

http://pibphoto.nic.in/documents/rlink/2017/dec/i2017121903.jpg

 اے ای پی سی ایکسپورٹ ایوارڈ بھارتی ملبوسات کی درآمد کرنے والی کمپنیوں کے اختراعی طریقہ کار اور کامیابیوں پر خراج تحسین پیش کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں۔ اس سال اے ای پی سی نے پہلی مرتبہ کل 18 زمروں میں ملبوسات کی صنعت میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والوں کو عطا کئے گئے۔ اے ای پی سی ایکسپورٹ ایوارڈ میں پائیدار اور بہترین عمل کے لئے دو نئے ایوارڈ بھی شامل کئے گئے ہیں۔

Related posts

ہندوستانی زراعت نے خوراک،پھلوں، سبزیوں،ڈیری اور ما ہی پروری کی پیداوار میں تیزی سے ترقی کی ہے: جناب رادھا مو ہن سنگھ

ڈی اے سی نے 9100 کروڑ روپئے مالیت کے آلات کی خریداری کو منظوری دی

غیر ملکی زرمبادلہ کی آمدنی میں اضافہ 10.2 فیصد کااضافہ

Leave a Comment