یہ سروس- اوریئنٹڈ مسافر اور مال ڈُھلائی کے مختلف پروجیکٹوں پر تیزی سے عمل درآمد کو ظاہر کرتا ہے جس پر ریلوےپورے ملک میں کام کررہی ہے:جناب پیوش گوئل

Image default
Urdu News

ریلوے،کامرس وصنعت اورصارفین کےامور،خوراک اورعوامی نظام تقسیم کےمرکزی وزیر،حکومت ہند جناب پیوش گوئل نے آج ویڈیو کانفرنسنگ کے توسط سے کیرالہ، تمل ناڈو، مدھیہ پردیش ، مغربی بنگال اور کرناٹک میں مختلف ریلوے اسٹیشنوں پر بنیادی سہولیات کے پروجیکٹوں، مسافروں کی سہولیات اور دیگر سہولیات سے متعلق پروجیکٹوں کا افتتاح اور انہیں وقف کیا۔1000کروڑ روپے سے زیادہ لاگت کے 88ریلوے پروجیکٹوں کو آج قوم کے نام وقف کیا گیا، جس سے بھارتی ریلوے مستقبل کے لئے تیار ہوسکے۔ اس موقع پر مختلف مقامات پر کئی سرکردہ شخصیات بھی موجود تھیں۔

کیرالہ میں ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ریاست میں کنکٹی وٹی میں بہتری لانا انتہائی اہم ہے، جوبھارتی وراثت  اور اس ریاست میں مختلف سہولیات کا استعمال کرنے والے ریلوے مسافروں کی پاسبان ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم کیرالہ میں ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں بڑی اصلاحات کریں۔ ہم کیرالہ کو ملک کے باقی حصوں سے جوڑنے کی سہولیات کو فروغ دے رہے ہیں۔ہم اس شعبے میں مزید اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دینے کےلئے ریاست کیرالہ کے ذریعے ریلوے نیٹ ورک میں بڑی تبدیلی کررہے ہیں۔ کیرالہ کے لئے مختص کیا جارہا بجٹ سال در سال ، مسلسل بڑھتا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں اور مہینوں میں کیرالہ میں ایک بہترین ریلوے نیٹ ورک فراہم کرنے کےلئے عہد بستہ ہیں۔

کیرالہ میں تین مقامات ، کولّم، کُندارا اور کوچوویلی میں کل 9.56 کروڑ روپے کی لاگت سے فُٹ اوور برج کی تعمیر کی گئی ہے۔ان فُٹ اوور برج سے مسافروں کی آمدو رفت میں تیزی آئے گی اور ان اہم اسٹیشنوں پر بھیڑ کوکم کرنے میں مدد ملے گی۔

خاص طورسے معمر افراد ، بیمار اور دِویانگ مسافروں کے لئے پلیٹ فارم اور بھیڑ بھار والے مقامات  تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔کانہاگڑھ اور الووامیں 1.60کروڑ روپے کی کل لاگت سے لفٹ لگائی گئی ہیں۔

ریلوے اسٹیشنوں پر مسافروں کی سیکوریٹی کو مستحکم کرنے کےلئے ، جدید ویڈیو نگرانی نظام 15 مقامات پر نصب کئے گئے ہیں، جن کی کل لاگت 9.45لاکھ روپے ہے۔ چنئی میں مرکزی نگرانی نظام کے ساتھ، ایلیپی، الووا، چینگنّور، ارناکولم ٹاؤن، کایانکولم، تروولّا، کوٹائم، بڈاگرا، کنّور، کاسرگوڑ، پلکّر جنکشن، تیرور، تھالاسیری، کانہاگڑھ اور پیّانور جیسے ریلوے اسٹیشن ویڈیو نگرانی نظام سے لیس کئے جائیں گے۔

کیرالہ کے دو اسٹیشنوں، ترواننت پورم سینٹرل اور تریشور میں ہوائی  اڈوں کے طرز پر پلیٹ فارموں کی روشنی کا بندوبست کل 42 لاکھ روپے کی لاگت سے کیا گیا ہے۔ اس سے ٹرین مسافر ایک نیا تجربہ حاصل کرسکیں گے اور ان کے سفر کو یادگار بنانے میں مدد ملے گی۔

مسافروں اور خاص طور سے بزرگوں اور دِویانگ مسافروں کے ریل گاڑی میں چڑھنے اور اُترنے میں سہولت کے لئے تینور میں 1.39کرو ڑروپے کی لاگت سے پلیٹ فارم کی جدید کاری کا کام مکمل کرلیا گیا ہے۔توانائی کے مؤثر استعمال اور بجلی کی بچت کی تدابیر کے طورپر ، تریشور اور ترو اننت پورم میں 100کے ڈبلیو پی شمسی توانائی کا پلانٹ نصب کیا گیا ہے، جس کی لاگت 42 لاکھ روپے ہے۔

تمل ناڈو میں ریل پروجیکٹو کا افتتاح کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ہم تمل ناڈو  ریلوے کو پوری طرح سے الیکٹریفائیڈ نیٹ ورک بنانے کے لئے پرعزم ہیں، تاکہ ریلوے کی وجہ سے کوئی آلودگی نہ ہو۔ہم نے پچھلے چھ سے برسوں میں برق کاری کی رفتار دوگنی کردی ہے۔اگلے دو ڈھائی برسوں میں ریاست کے پورے ریل نیٹ ورک کی برق کاری کردی جائے گی۔ہم اب تک کے پہلے ورٹکل برج، پمبن برج کی بھی تعمیر کررہے ہیں، جو رام سیتو کو جوڑے گا اور اُس علاقے میں رامیشورم اور دھنش کوڈی آنے والے زائرین  کو باآسانی پہنچانے میں مدد گار ہوگا۔ ہم نے تمل ناڈو ریاست کے سبھی ریلوے اسٹیشنوں اور سروس بلڈنگس میں 100 فیصد ایل ای ڈی کا نظم ہے۔یہ پہلا گرین کوریڈور بھی ہے، جو رامیشورم سے مانمدُرا تک 114 کلو میٹر طویل ہے۔ یہ ہندوستان کا پہلا گرین ریلوے کوریڈور ہے۔ 17 فروری کو وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی نے  ایک نئی ہفتہ وار ریل گاڑی کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا تھا، جو تمل ناڈو کو کیوڑیا میں ہندوستان کے مرد آہن  سردار ولبھ پٹیل کے اسٹیچو آف یونٹی کے نزدیک پہنچاتے ہوئے چنئی سے جوڑے گی۔ انہوں نے کہا بھارتی ریلوے تمل ناڈو کی ترقی میں تیسری جہت کو جوڑ رہی ہے، اس لئے اب تک مرکزی اور ریاستی حکومت ڈبل انجن کےساتھ ریاست کی ترقی میں شراکت دار کے طورپر کام کررہی ہے اور اب  تمل ناڈو کی ترقی کے لئے ہمارے پاس بھارتی ریلوے کے ذریعے تیسرا انجن فراہم کیا گیا ہے۔

مسافسروں کی سہولت اور سیکورٹی کےلئے ، تمل ناڈو میں 10 مقامات پر امبتور، ارکّونم، ایلاوُر، مامبلم، میٹوپالیم، تروپور، گنگئی کونڈان، کادیانلّور، ناگرکوئل جنکشن، وانچی منی چَوچی میں کل 23.32کروڑ روپے کی لاگت سے فُٹ اوور برج فراہم کرائے گئے ہیں۔ اِن پُلوں کی تعمیر سے مسافروں کے آمدو رفت میں آسانی ہوگی اور اِن اہم اسٹیشنوں پر مسافروں کے ہجوم کو کرنے میں اور کسی بھی حادثے کو روکنے میں بھی  مدد ملے گی۔

پلیٹ فارم اور ریلوے اسٹیشنوں کے دیگر حصوں میں کسی بھی پریشانی کے بغیر رسائی کو آسان بنانےکے لئے، تمل ناڈو میں چھ اسٹیشنوں ، جیسے ایگمور، مامبلم، تامبرم ، تریولّور، ایروڈ، تنجاوُر میں اسکیلیٹر کی تعمیر کی کل لاگت 16.61 کروڑ روپے ہے۔ کوئمبٹور جنکشن اور ناگرکوئل جنکشن  ریلوے اسٹیشنوں پر کل 2.38کروڑ روپے کی لاگت سے لفٹ کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔اِن اسکیلیٹر اور لفٹ سے دیگر لوگوں کے علاوہ معمر افراد اور دِویانگوں اور بیمار مسافروں کو بھی کافی فائدہ ہوگا۔

ریلوے اسٹیشنوں کی بہتر نگرانی کےلئے جدید ترین تکنیک کا سہارا لینے والے ویڈیو نگرانی نظام کو 18 مقامات پر 10.01کروڑ روپے کی لاگت سے فراہم کرایا گیا ہے۔ چنئی میں سینٹرل نگرانی نظام کے ساتھ چینگلپٹّو ، تریولّور، ایروڈ،سیلم، کنیاکماری، ترونیلویلی، توتی کورِن، مائیلادو تھُرائی، تنجاوُر، وِلوپورم اور تمل ناڈو میں 8 دیگر اسٹیشنوں پر ویڈیو نگرانی نظام نصب کئے گئے ہیں۔

تمل ناڈو کے دیگر کچھ اسٹیشنوں پر سہولیات شروع کی گئی ہیں، اِن میں  مسافروں کی سہولت میں 4 کروڑ روپے کی کل لاگت سے بہتری لائی گئی ہے۔ کَٹپڈی میں کثیر سطحی دو پہیا گاڑیوں کے لئے پارکنگ، گِنڈی میں ڈبل ڈسچارچ پلیٹ فارم، دوسرا اینٹری سرکولیٹنگ ایریا اور اَرکونم میں  بُکنگ  آفس،مدورئی میں اے ٹی ایم کمپلیکس کے ساتھ ناگر کوئل  ٹاؤن اور مسافروں کی سہولت کے مرکز ، مسافر ریزرویشن سینٹر اور اسٹیشن کی عمارت کی تعمیر شامل ہے۔

 کرناٹک میں ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ ‘‘آج، میں آنجہانی جناب سریش اَنگڑی کو ریلوے اور کرناٹک ریاست کے لئے کئے گئے مثالی کاموں کے لئے خراج عقیدت پیش کرتا ہوں۔ جب جناب نریندر مودی جی کی قیادت میں مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں ایک ٹیم کے طورپر ایک ساتھ کام کرتی ہیں، تو فروغ اور ترقی کےلئے ایک ڈبل انجن کی رفتار دیتی ہیں اور بھارتی ریلوے کے ذریعے ایک ساتھ کام کرنے سے ، کرناٹک ریاست میں خاطر خواہ ترقی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ، گُبّی سے نیتّور تک ریلوے ٹریک کو ڈبل لائن ، جبکہ یہ ایک چھوٹے سے حصے کی طرح لگ سکتا ہے، لیکن یہ بنگلورو-ہُبلی لائن پر ارسیکیرے سے تُمکورو تک ریلوے لائن کو دوہرا کرنے کے لئے ایک بڑے پروجیکٹ کا اہم حصہ ہے۔ لونڈا اور میراج کے بیچ 186 کلو میٹر کے پروجیکٹ کے اگلے دو سال میں مکمل ہونے کا امکان ہے۔ رائے باغ ریلوے اسٹیشن بھی سہولیات کے ساتھ دستیاب کرایا گیا ہے اور اِن سبھی پروجیکٹوں کو ایک ساتھ رکھا گیا ہے، جو کرناٹک کی ترقی اور معیشت کے فروغ کے لئے ایک اہم رفتار فراہم کرے گا۔ بھارتی ریلوے ریاست میں سبھی ریلوے سہولیات میں بہتری کے لئے پُر عزم ہے۔ بنگلورو میں مضافاتی ریلوے بھی کرناٹک ریاست کے ٹرانسپور ٹیشن میں  بہتری لائے گی۔کرناٹک ریاست اور بھارتی ریلوے دونوں پُرعزم ہے اور کے-رائیڈ کے ذریعے شراکت داری میں کام کررہے ہیں، جو بھارتی ریلوے اور کرناٹک حکومت کے درمیان ایک خصوصی مقصد کے لئے وہیکل پروجیکٹ ہے۔ کرناٹک میں کئی دیگر پروجیکٹ سہولیات میں بہتری لانے اور بھارتی ریلوے کا استعمال کرنے والے سبھی مسافروں کےلئے ایک اچھےاور بہتر احساس کو یقینی بنانے کےلئے چلائے جارہے ہیں۔مضافاتی ریلوے کے ساتھ بنگلورو کی میٹرو خدمات کا انٹیگریشن کرکے آسان ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

گُبّی- نیتّور(9 کلومیٹر)کے بیچ کی لائنوں کی ڈبلنگ، ارسیکیرے اور تُمکورو(96 کلومیٹر) کے بیچ بنگلورو-ہُبلی لائن پر تُمکورو اور ارسیکیرے کے بیچ ڈبلنگ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ارسیکیرے اور تُمکورو  پروجیکٹ کو 16-2015 میں 783کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی تھی۔ اس سیکشن پر ریلوے ٹریک کو دوہرا بنانے سے بنگلورو سے ہُبلی ،  بیلگاوی، ممبئی وغیرہ کو جوڑنے والی اہم لائن کی صلاحیت بڑھے گی ، جو کرناٹک کے سبھی اندرونی ضلعوں کو پار کرجائے گی اور ریل گاڑیوں کی رفتار تیز کرنے میں مدد گار ہوگی اور مختلف شہروں کے درمیان   رابطے میں بہتری لائے گی۔

گُبّی اور نیتّور کے درمیان  سیکشن کو 75.5 کروڑ روپے کی لاگت سے  ڈبل کیا گیا ہے۔ڈبلنگ کے ساتھ، 2 اہم پُلوں اور 15 چھوٹے پُلوں کی تعمیر کی گئی ہے۔

گُبّی اور نیتّور ریلوے اسٹیشن پر اضافی مسافر سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ گُبّی اور نیتّور میں ڈبلنگ کے ساتھ ساتھ پلیٹ فارم شیلٹر ، اعلیٰ معیار کے پلیٹ فارم، فُٹ اوور برج ، بیت الخلاء، بیٹھنے کے لئے بینچ اورواٹر بوتھ بنائے گئے ہیں۔

 چِکّوڈی اور رائے باغ(14 کلو میٹر) کے درمیان کی لائنوں کی ڈبلنگ، لونڈا اور میراج کے درمیان ہُبلی -میراج لائن پر لونڈا اور میراج کے بیچ ڈبلنگ پروجیکٹ کا حصہ ہے۔ لونڈا اور میراج (186 کلومیٹر) ڈبلنگ کو سال 16-2015 میں 1191 کروڑ روپے کی لاگت سے منظوری دی گئی تھی۔ ایک بار یہ پروجیکٹ مکمل ہوجانے کے بعد یہ بیلگاوی ضلع میں ریل  کے بنیادی ڈھانچے کو رفتار دے گا۔

اس سیکشن میں ریلوے ٹریک کو دوہرا بنانے سے کرناٹک کے سبھی اندرونی ضلع کو پار کرتے ہوئے بنگلورو کو ہُبلی ، بیلگاوی، ممبئی وغیرہ سے جوڑنے والی اہم لائن کی صلاحیت بڑھ جائے گی۔یہ ٹرینوں کی رفتار کو مہمیز دے گا اور مختلف  شہروں کے بیچ رابطے میں بہتری لائے گا۔

مسافروں کے لئے جدید سہولیات کو دوگنا کرنے کے ساتھ رائے باغ ریلوے اسٹیشن پر نئی عمارت دستیاب کرائی گئی ہے۔

رائے باغ اسٹیشن پر مندرجہ ذیل سہولیات فراہم کی گئی ہیں:

  • دو نئے پلیٹ فارم
  • ایک فُٹ اوور برج
  • گھومنے پھرنے کے لئے ایریا
  • ایئرکنڈیشنڈ ویٹنگ ہال

ریل گاڑیوں کے آپریشن کو کنٹرول کرنے کےلئے جدید ترین سگنلنگ نظام اور ملک کے اندر تیار کی گئی جدید ترین الیکٹرونک اِنٹر لاکنگ سہولت کے پرویژن کے ساتھ فروغ دیا گیا ہے۔

مدھیہ پردیش میں ریل پروجیکٹوں کا افتتاح کرتے ہوئے جناب پیوش گوئل نے کہا کہ اس سال حال ہی میں عزت مآب وزیر خزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن نے 22-2021کے بجٹ میں 7700 کروڑ روپے مدھیہ پردیش میں مختلف ریلوے پروجیکٹوں کے لئے مختص کئے ہیں۔مرکزی اور ریاستی حکومتوں اور بھارتی ریلوے تین انجن کے طورپر ریاست کی خدمت کررہی  ہیں۔ ریوا میں ایک بڑا شمسی توانائی کا پلانٹ آرہا ہے۔ بھارتی ریلوے دسمبر 2023ء تک پوری طر ح سے برق کاری کے لئے پُر عزم ہے اور سبھی مسافر ٹرینیں اور مال گاڑیاں بجلی کے ٹریک پر چلیں گی اور ملک کے وسط میں واقع ریاست مدھیہ پردیش میں آلودگی کو کم کریں گی۔اگلی کڑی میں ، بھارتی ریلوے 2030ء تک قابل تجدید توانائی کے استعمال کے ساتھ اپنے پورے نیٹ ورک کو چلانے کی اہل ہوگی اور اس سمت میں کام کرنے والا یہ دنیا کا پہلا سب سے بڑا ریلوے محکمہ ہوگا۔مسافروں کو  آسانی سے سہولیات فراہم کرنے کے لئے وزیر اعظم کا نقطہ نظر بھی یہی ہے۔ اب بیشتر ریل گاڑیاں ایل ایچ بی کوچ کے ساتھ چل رہی ہیں۔ حفاظتی  بندوبست میں بہتری آئی ہے۔مارچ 2019ء کے بعد ، پچھلے 22 ماہ میں ریل حادثات میں کسی بھی مسافر کی موت نہیں ہوئی ہے۔ بھارتی ریلوے ملک کی ترقی کی میں تعاون کے لئے پُرعزم ہے۔ اس  سال بھارتی ریلوے میں تقریباً 2 لاکھ 15 کروڑ کی سرمایہ کاری ہوگی، جس سے بھارتی ریلوے میں تاریخی ترقی ہوگی۔

دِویانگ ، معمر اور بیمار مسافروں کو سہولت فراہم کرنے کےلئے گوالیار اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 1، 2، 3 اور چار پر 92 لاکھ روپے کی لاگت سے تین لفٹ لگائی گئی ہیں۔  اس کے علاوہ گوالیار اسٹیشن کو جدید بنانے کےلئے، ریل وِکاس نگم لمٹیڈ نے  از سر نور ڈیولپمنٹ کا کام کیا ہے۔اس ری-ڈیولپمنٹ کے تحت ، گوالیار اسٹیشن کو مسافروں کے لئے سفر کا بہتر احساس دلانے کےلئے عالمی معیار کے ٹرانسپورٹ مرکز میں تبدیل کیا جارہا ہے۔یہ ری –ڈیولپمنٹ  سیاحت کو فروغ دے گا، روزگار پیدا کرے گا اور سماجی و معاشی ترقی میں اضافہ کرے گا۔

رتلام –چِتوڑ گڑھ ریل سیکشن کا برق کاری:حال میں اس 189.46 کلو میٹر طویل ریل سیکشن میں ڈیزل انجن کے ذریعے ریل گاڑیاں چلائی جارہی ہیں، جنہیں رتلام سے بجلی کے انجن کو بدلنے کےلئے اضافی وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سیکشن کی برق کاری کے بعد، ریل گاڑیوں کو بجلی کے انجن سے چلایا جائے گا، جو انجن کو بدلنے میں اضافی وقت کو ختم کردے گا اور ریل گاڑیاں بغیر کسی روک ٹوک کے تیز رفتار سے چلیں گی اور مسافر مال گاڑیاں کم وقت کے ساتھ اپنی منزل تک پہنچیں گی۔

رتلام –چِتوڑ گڑھ سیکشن کی برق کاری سے ڈیزل کی بچت ہوگی اور سبز توانائی کو تعاون ملے گا۔ اس سیکشن کے ڈیزل سے بجلی ٹریک میں تبدیلی سے ہر سال 27.54کروڑ روپے کی بچت ہوگی۔ یہ برق کاری 205.44کروڑ روپے کی لاگت  ساتھ کی گئی ہے۔

تیگاؤں کو چیچونڈا تیسری گھاٹ لائن (17 کلو میٹر)پروجیکٹ جس کی سب سے مشکل پروجیکٹ کی شکل میں  درجہ بندی کی گئی تھی۔ اس پروجیکٹ کو پورا کرلیا گیا ہے اور دسمبر 2020ء میں اس لائن پر آمدو رفت شروع ہوگئی ہے۔ اس میں 65 میں سے 1 رُولنگ ڈھال ہے، سب سے تیز موڑ 4.95 ڈگری ہے، چٹان کو کاٹنے کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 22.75 میٹر اور کناروں کی زیادہ سے زیادہ اونچائی 16.13میٹر ہے۔ اس سیکشن کے مکمل ہونے میں چیچونڈا اور تیگاؤں یارڈ میں اہم یارڈ ری-ماڈلنگ شامل  تھے۔کھڑی ڈھال کی وجہ سے، گوڈن کھاپا اور تیگاؤں یارڈ میں کیچ سلپ سائیڈنگ فراہم کی گئی ہے۔ اس پروجیکٹ کے شروع ہونے سے گھاٹ سیکشن میں اور زیادہ ریل گاڑیاں بڑھانے میں مدد ملی ہے۔

بیتول اور پانڈھرنا اسٹیشنوں پر لفٹ کے ہونے سے دِویانگ ، معمر افراد اور دیگر مسافروں کو ایک پلیٹ سے دوسرے پلیٹ فارم پر جانے میں سہولت ہوگی۔ اس پروگرام کے دوران جناب پیوش گوئل نے ریوا سے اِتواری کے لئے ایک پسنجر سروس کو بھی ہری جھندی دکھاکر روانہ کیا۔

Related posts

ہندوستان اور جنوبی افریقہ کے مابین اسٹریٹیجک تعلقات کے بیس سال

صنعت اور تعلیم کے ماہرین کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا چاہئے تاکہ ہندستان کو عالمی ڈجیٹل میدان میں رہنما بنایا جاسکے :جناب رو ی شنکر پرساد

سابق وزیر اعظم چودھری چرن سنگھ کو ان کی سالگرہ کے موقع پر وزیراعظم کا خراج تحسین