ہندوستان کے دو مزید ساحلوں کو بین الاقوامی بلیو فلیگ سرٹیفکیٹ

Urdu News

 وسائل  کے بھرپور مینجمنٹ کے ذریعہ ساحلی اور سمندری ماحولیاتی نظام کو محفوظ کرنے اور محفوظ رکھنے کے لئے ہندوستان کے پختہ عزم کو ایک بار پھر تسلیم کیا گیا ہے۔عالمی طور پر تسلیم شدہ بین الاقوامی ایکو لیبل ‘‘بلیو فلیگ’’ نے اس سال دو نئے ساحلوں کو بلیو فلیگ سرٹیفکیٹ سے نوازا ہے۔ یہ ساحل ہیں:تملناڈو میں کوالام اور پڈوچیری میں ایڈن۔

ڈنمارک کا  ادارہ فاؤنڈیشن فار اینوائرنمنٹ ایجوکیشن نے ، جو عالمی طور پر تسلیم شدہ ایکو لیبل بلیو فلیگ سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے،8 نامزد ساحلوں کے لئے نئے سرٹیفکیٹ جاری کئے ہیں۔ان میں گجرات میں شیوراج پور، دیو میں گھوگھلا،کرناٹک میں کسرکوڈ اور پڈوبڈری،کیرالہ میں کپاڈ، آندھرا پردیش میں روشی کونڈا، اڈیشہ میں گولڈن اور انڈمان ونکوبار میں رادھا نگر شامل ہیں۔ان کو گزشتہ سال بلیو فلیگ سرٹیفکیٹ دیا گیا تھا۔

ایک ٹوئٹر پیغام میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے، ماحولیات، جنگلات  اور موسمیاتی تبدیلی کے وزیر جناب بھوپندر یادو نے مسرت کااظہار کیا اور ہر شخص کو یہ کہہ کر مبارک باد دی کہ یہ وزیراعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں صاف اور سرسبز ہندوستان کی طرف  جاری سفر میں  ایک اور سنگ میل ہے۔

ہندوستان کے ساحلی علاقوں کے پائیدار ترقی کے پروگرام کی پیروی کرتے ہوئے ماحولیات ، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے ایک عظیم الشان اور فلیگ شپ پروگرام شروع کیا ہے،جس کا نام ہے،ساحلی ماحول اور جمالیات مینجمنٹ خدمات(بی ای اے ایم ایس)۔یہ ان اقدامات میں سے ایک ہے،جو آئی سی زیڈ ایم نظام کے تحت ہندوستان کے ساحلی علاقوں کی پائیدار ترقی کے لئے ماحولیات، جنگلات اور موسمیاتی تبدیلی کی وزارت نے کئے ہیں۔اس کا اہم ترین مقصد وسائل سے بھرپور استفادہ کرتے ہوئے ساحلی اور سمندری ماحولیاتی نظام کو محفوظ کرنا اور محفوظ رکھنا ہے۔

اس کامقصد عالمی سطح پر تسلیم شدہ بین الاقوامی ایکو لیبل بلیو فلیگ کو حاصل کرنا تھا ۔ جوآئی یو سی این،یو این ڈبلیو ٹی او،یواین ای پی،یونیسکو وغیرہ کے ارکان پر مشتمل بین  الاقوامی جیوری کے ذریعہ دیاجاتا ہے۔ ڈنمارک کاادارہ فاؤنڈیشن فار اینوائر نمنٹ ایجوکیشن مقررہ 33 معیارات کی سختی سے پابندی کے لئے مسلسل نگرانی اور آڈٹ کرتا ہے۔بلیو فلیگ کا دیاجانا 33سخت معیارات کی سو فیصد پابندی  اور ساحل کی بہت اچھی حالت کا ایک اشارہ ہے۔

 بی ای اے ایم ایس کے پروگرام کامقصد ساحلی پانیوں میں سے آلودگی کو کم کرنا، ساحلی سہولیات کی پائیدار ترقی کو فروغ دینا،ساحلی ماحولیاتی نظام اور قدرتی وسائل کو محفوط اور ان کی نگہداشت کرنا اور مقامی حکام اور ذمہ داران کو اس بات کے لئے دعوت دینا کہ وہ ساحل کی سیر کرنے والوں کے لئے ساحلی ماحول اور قوانین کے مطابق صفائی ستھرائی اور حفاظت کے معیارات کے لئے سخت کوشش کریں اور ان کو برقرار رکھیں۔گزشتہ تقریبا تین برسوں کے دوران ہماری وزارت نے ان 10 ساحلوں کے ماحولیاتی نظم ونسق میں قابل تعریف نتائج حاصل کئے ہیں۔ان میں سے کچھ کا ذکر ذیل میں کیاجارہا ہے:

  1. ریت کے تودوں کی بحالی اور تقریباً 95 ہزار مربع کلو میٹر کے علاقے میں دیسی طریقے سے پودے لگا کر اس کی ترقی۔
  2. گزشتہ تین برسوں کے دوران سمندری کچرے میں 85 فیصد اور سمندری پلاسٹک میں 78 فیصد کی کمی۔
  3. 750 ٹن سمندری کچرے کو سائنٹفک اور ذمہ دارانہ طریقے سے ٹھکانے لگانا۔
  4. سائنٹفک پیمائشی نظام کے ذریعہ صفائی کی سطح میں ‘‘سی’’(کمزور) سے‘‘اے++(بہترین)تک ترقی۔
  5. ریسائکلنگ کے ذریعہ سالانہ  1100 ملی لیٹر سرکار کی طرف سے فراہم کردہ پانی کی بچت۔
  6. نہانے کے پانی کی کوالٹی کی مسلسل جانچ(جسمانی، کیمیائی اور حیاتیاتی آلودگی)  اور صحت کے خطرات کی نگرانی کے لئے 3سال کا ڈاٹا بیس۔
  7.  ساحل کی سیر کو جانے والے تقریباً 1,25,000افراد کو ساحلی علاقوں میں ذمہ دارانہ طور طریقے اختیار کرنے کے لئے تعلیم دی گئی۔
  8. فٹ بال اور تفریحی سرگرمیوں میں تقریباً 80 فیصد کااضافہ جو اقتصادی ترقی کا باعث ہوا۔
  9. آلودگی میں تخفیف، تحفظ اور خدمات کے ذریعہ 500 ماہی گیر کنبوں کے لئے متبادل ذریعہ معاش کے مواقع۔

اس کے علاوہ وزارت اپنے  آئی سی زیڈ ایم پروگرام کے تحت آنے والے پانچ برسوں کے دوران  100 مزید ایسے ساحل تیار کرنے کے  اور ان کو ترقی دینے کاعزم رکھتی ہے۔

Related posts

مرکزی وزیر مملکت برائے داخلی امور، جناب جی کشن ریڈی نے نیشنل سکیورٹی گارڈ (این ایس جی) کو اس کے یوم تاسیس کے موقع پر مبارکباد پیش کی

ریلوے کو اطلاعاتی ٹکنالوجی کے لحاظ سے آراستہ پیراستہ کرنے کی غرض سے بھارتی ریلوےنے تین آن لائن ایپلی کیشنس کل ہند پیمانے پر استعمال کےلئے جاری کیں

بڑے پشتوں کی صحت اور تحفظ میں نمایاں خدمات کے اعتراف میں مرکزی آبی کمیشن کو سی بی آئی پی خصوصی اعتراف ایوارڈ -2018