ہندستان اور جاپان کے مابین وزرائے دفاع کی سطح پر مذاکرات کے بارے میں مشترکہ پریس بیان

Image default
Urdu News

نئی دہلی، جاپان کے وزیر دفاع جناب   اتسونوری   اونوڈیرا   ہندستان کی وزیر دفاع محترمہ نرملا ستیا رمن کی دعوت پر 19 سے 20 اگست 2018 تک ہندستان کے دورے پر آئے ہوئے ہیں۔   دونوں وزرا نے   20 اگست 2018 کو دہلی میں   وزرائے دفاع کی سطح کی سالانہ  میٹنگ میں شرکت کی۔    جناب  انوڈیرا نے   آج ہی کے دن وزیراعظم جناب نریندر مودی سے بھی  ملاقات کی۔

دونوں وزرا نے   اس حقیقت کو نوٹ کیا   کہ جاپان اور ہندستا ن کے وزرائے اعظم نے    ستمبر 2017 میں    دونوں ملکوں کے درمیان  اسٹریٹیجک شراکت داری کو بڑھاوا دینے کے لئے    دفاع اور سیکورٹی تعاو ن کی اہمیت پر زور دیا تھا۔     انہوں نے    تعمیری  اور وسیع النظری کے انداز میں تبادلہ خیال بھی کیا تھا  ۔  دونوں وزرا نے   اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ  ‘جاپان –انڈیا اسپیشل  اسٹریٹیجک اینڈ گلوبل پارٹنر شپ’ کے تحت    دفاع  اور سیکورٹی تعاو ن کو مزید مستحکم بنانے کی ضرورت ہے   ۔ اس شراکت دار ی سے   مشترکہ مقاصدکے حصول کے لئے  ایک ساتھ کام کرنے کی  ہندستان کی ‘ ایکٹ ایسٹ پالیسی’ کے ساتھ جاپان کی  ‘فری اینڈ اوپن انڈو پیسفک اسٹریٹیجی’ کو بڑی تقویت ملتی ہے۔

دونوں وزیروں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ بحرہ ہند اور بحرالکاہل کا امن اور استحکام   ہندستان  بحرالکاہل علاقہ میں امن اور   خوشحالی میں  یقینی بنانے کے لئے    انتہائی   اہمیت کا حامل ہے   نیز  دونوں  وزرائے دفاع نے   ہندستان بحرالکاہل علاقہ میں  سلامتی کی   موجودہ صورتحال پر    آزادانہ تبادلہ خیال کیا جس میں   کوریائی جزیرہ نما کے حالات بھی شامل تھے  ۔   دونوں وزیروں نے   رائے سینا  مذاکرات میں   جاپان کے    جوائنٹ اسٹاف کے    چیف آف اسٹاف کی شرکت کا خیر مقدم کیا۔  ہندستان کی حکومت   ان مذاکرات کی حمایت کرتی ہے    جو  جاپان کی  وزارت دفاع کی طرف سے   مذاکرات میں   پہلی شرکت کی  حیثیت رکھتے ہیں۔

دونوں وزیروں نے اس بات کی توثیق کی کہ  انہوں نے   بحری سلامتی  میں  تعاون بڑھانے    یکساں دلچسپی کا اظہار کیا ہےا ور انہوں نے اس  حقیقت کا خیرمقدم کیا ہے کہ   جاپان میری ٹائم  سیلف ڈیفنس فورس (جے ایم ایس ڈی ایف)  اور ہندستانی بحریہ   اور گہرے تعاون کے سلسلہ میں    سمجھوتے پر  عمل درآمد  پر  دستخط کرنے والے ہیں۔  یہ تعاون   جے ایم ایس ڈی ایف  اور ہندستانی بحریہ کے  درمیان ہوگا ۔    اس شعبے میں  باہمی تعاون کو   اور گہرا کرنے کے مقصد سے    دونوں وزرا نے    ہندستان بحرالکاہل کے ملکوں کے ساتھ    تعاون    کرنے کے   پروگرام کی بھی توثیق کی۔

 دونوں وزرا نے   یہ بات نوٹ کی کہ   دونوں  ملکوں کے دفاعی اداروں کے درمیان  تمام سطحوں پر   باضابطہ رابطے سے      مندرجہ ذیل شعبے میں تعاون اور تبادلوں کو فروغ حاصل ہوگا۔  دونوں وزیروں نے  زیادہ   مستحکم  اور موثر   زمینی   ، بحری اور فضائی تعاون    کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ۔

ادارہ جاتی مذاکرات اور باہمی دورے

*وزرائے دفاع کی  سالانہ میٹنگ :ہندستان  کی وزیر دفاع  2019 میں  جاپان کا دورہ کریں گی۔

*2018 میں جاپان کے  جوائنٹ اسٹاف کے  چیف آف اسٹاف کے ہندستان کے   پہلے دورے کا خیرمقدم  ہے۔طرفین نے  نومبر 2018 میں  اس دورے کے انعقاد کا فیصلہ کیا تھا   اور ہندستان کے چیف آف ایئر اسٹاف 2018 کے  اختتام تک جاپان کا دورہ کرلیں گے۔

*طرفین  ساتویں   دفاع کے   نائب  وزرا   /سکریٹری سطح کی  دفاعی پالیسی بات چیت اور  چھٹی نائب وزرا  / سکریٹری سطح کی  2+2 بات چیت 2019 میں ٹوکیو میں  کرنے کی کوشش کریں گے۔

*جاپان گراؤنڈ سیلف ڈیفنس فورس(جے جی ایس ڈی ایف) اور ہندستانی فوج کے درمیان تبادلے

*جاپان کے وزیر دفاع   جناب  انوڈیرا نے    اس حقیقت کی ستائش کی  کہ ہندستانی فو ج کے افراد نے نومبر 2017 میں    جاپان-امریکہ   مشترکہ   باہمی    ایچ اے ڈی آر  مشق میں   مشاہد کے طور پر شرکت کی  تاکہ   قدرتی آفات سے   ہونے والے تجربات  سے فائدہ اٹھایا جاسکے  ۔   باہمی تعاون اور تبادلوں کو مستحکم بنانے کے تعلق سے    دونوں وزرا نے    جے جی  ایس ڈی ایف  اور ہندستانی فوج کے  درمیان دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کی غرض سے پہلی  باہمی مشترکہ   مشق  کی  تیاری کے سلسلہ میں   ہونے والی پیش رفت کا  خیر مقدم کیا ۔ یہ مشق   2018 کے خاتمہ پر منعقد ہوگی۔   دونوں وزرائے دفاع نے مشقوں  کے ذریعہ   تعاون کا سلسلہ جاری رکھنے کی توثیق کی۔

*جاپان میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورس اور ہندستانی بحریہ کے درمیان  تبادلے

* دونوں وزرا نے    جاپان ،  ہندستان  اور امریکہ کے درمیان  سہ فریقی   بحری مشق    مالا بار 2018 کی   کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا  جو  جون 2018 میں منعقد ہوئی تھی۔   اس کے علاوہ انہوں نے    مشق کے اگلے دور کے لئے   تعمیری    ، سہ رخی تبادلہ کی شروعات کا بھی خیر مقدم کیا۔

وزرا نے    باہمی   تربیتی    رابطوں کی اہمیت کو   نوٹ کرتے ہوئے   اس بے مثال   تیزی   کا بھی خیر مقدم کیا   جو جے ایم ایس ڈی ایف   اور ہندستانی بحریہ  ، وزرائے دفاع کی   آخری میٹنگ کے بعد    ایک دوسرے کی بندرگاہوں کا دورہ کرتے ہیں اور مشترکہ مشقیں کرتے ہیں۔   اس سے   باہمی تربیتی  تعاون میں  پیش رفت کا اظہار ہوتا ہے۔   دونوں وزرا نے    اس خیال کا اظہار کیا کہ   وہ   باہمی  مشترکہ   مشقوں کا سلسلہ     جاری رکھیں گے جس میں    آبدوز شکن  اسلحہ کے شعبے میں  اور  بارودی سرنگوں کا مقابلہ کرنے کی     مشقیں بھی  شامل ہیں۔

جاپان  ایئر  سیلف ڈیفنس فورس   اور ہندستان کی  فضائیہ کے درمیان  تبادلے

*دونوں وزرا نے تیزی سے بڑھتے ہوئے تبادلوں کا خیر مقدم کیا     جس میں    جاپان   ایئر سیلف ڈیفنس فورس ( جے اے  ایس ڈی ایف)  ہیلی کاپٹر عملے کا  دسمبر 2017 میں  ہندستان کے     سرساوا ایئرفورس اسٹیشن کا   دورہ بھی شامل ہے۔  انہوں نے  جون 2018 میں دوسری ایئر اسٹاف بات چیت کی کامیابی کے پیش نظرایکسرسائز      کوپ انڈیا کے اگلے دور میں     جے اے ایس ڈی ایف  کی شرکت   کی  تصدیق کی ۔  انہوں نے اس ادارے کا بھی اظہار کیا کہ    جاپان اور ہندستان   کے فضائی عملے کے  ایک دوسرے کے فضائی اڈوں کے دورے  کے    ذریعہ    دونوں ملکوں کے فضائی فوج کے  درمیان  مزید تعاون ہوسکے گا ۔

تعلیم اور ریسرچ کے تبادلہ

دونوں وزرا نے دونوں ملکوں کے دفاعی تعلیم  اور ریسرچ کے اداروں کے   طلبا کے درمیان    باضابطہ تبادلوں کا خیر مقدم کیا   ۔ ا ن اداروں نے نیشنل ڈیفس کالج آف انڈیا  اور  نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈیفنس اسٹیڈیز آف جاپان   شامل ہیں ۔ دونوں وزیروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ  سلسلہ  جاری رہے گا۔

دفاعی سامان  اور ٹکنالوجی میں تعاون

دونوں وزیروں نے  پچھلے سال کے دوران  دفاعی سامان اور ٹکنالوجی    میں   باہمی تعاون کے سلسلہ میں کی گئی   متعدد کوششوں کی تعریف کی  جس میں     جولائی 2018 میں دہلی میں     ڈیفنس ایکوئپمنٹ اینڈ ٹکنالوجی  کارپوریشن    (جے ڈبلیو جی –ڈی ای ٹی سی)  کے  چوتھے مشترکہ ورکنگ گروپ    کی باہمی بات چیت   کی پیش رفت بھی شامل ہے۔  جس کا مقصد تعاون کے   مخصوص شعبوں کی نشاندہی کرنا تھا۔

دونوں وزرا نے   جاپان اور  ہندستان کے   متعلقہ حکام کی   ان کوششوں  کو بھی نوٹ کیا جو انہوں نے    اگست 2018 میں     جاپان کی دفاعی صنعتوں کے ہندستان کی   دفاعی صنعتوں کے    دورے کے انعقاد کے سلسلہ میں  کی تھیں۔     اس دورے کا انعقاد ستمبر 2017 میں   پہلے    جاپان ہندستان دفاعی صنعتی فورم    کے قیام  کی پیروی میں کیا گیا تھا اس کا مقصد     سرکاری   اور پرائیوٹ شعبوں کے درمیان نیز جاپان اور ہندستانی کی دفاعی صنعتوں کے درمیان رابطے کو فروغ دینا تھا۔ دونوں وزر ا نے   اس بات کی تعریف کی کہ     اس طرح کی کوششوں    کی دفاعی صنعتوں کے درمیا ن باہمی     سمجھ بوجھ کو  مستحکم کرنے میں   مدد ملتی ہے    اور مستقبل کے   باہمی پروجیکٹوں کے امکانات روشن ہوتے ہیں۔

وزیر دفاع محترمہ سیتا رمن نے   جناب انوڈیرا کو  ہندستان میں   2 ڈیفنس  انڈسٹری کوریڈور وں  کے قیام   کے بارے میں   بتایا اور اس سلسلہ میں جاپانی صنعتوں کو دعوت دی۔  جناب انوڈیرا نے  اس تبادلہ خیال کا خیر مقدم کیا۔

جاپان کے وزیر دفاع نے    پرجوش خیر مقدم  اور اس میزبانی کے لئے جو ان کے   اور انکے وفد کے ارکان کے لئے ہندستان کے دورے کے دوران فراہم کی گئیں،   محترمہ سیتا رمن کا شکریہ ادا کیا۔

Related posts

مختلف نوعیت کی صلاحیت رکھنے والے بچے اختراعی نوعیت کی ا ور حوصلہ مند مہم انویاترا کے لئے بہترین سفیر ثابت ہوسکتے ہیں: نائب صدر جمہوریہ

طبی مقصد کے لئے ہندوستان میں غیرملکی سیاحوں کی آمد میں خاطرخواہ اضافہ ہوا ہے: اے جے الفونس

امید ہے کہ سرنگ پروجیکٹ کی تکمیل موجودہ حکومت کی میعاد پوری ہونے سے پہلے مکمل ہوجائے گی: جناب گڈکری