کومت کا جانوروں کی صحت اور قرض خدمات تک کسانو ں کی رسائی بڑھاکر مویشیوں کے شعبے کی ترقی کو یقینی بنانا مقصد ہے: جناب پرشوتم روپالا

Urdu News

ماہی پروری   ، مویشی پروری  اور ڈیری کے مرکزی وزیر جناب پرشوتم روپالا نے آج نئی دلی میں  75 صنعت کار اور 75 دیسی نسل کے مویشیوں  کے کانکلیو   ‘‘اُنّت  پشودھن سشکت  کسان کانکلیو ’’ کا افتتاح کیا۔ وزیرمملکت  ،ایف  اے ایچ ڈی ڈاکٹر ایل موروگن  اور وزیر مملکت ، ایف اے ایچ  ڈی ڈاکٹر سنجیو کمار بالیان  مہمان اعزازی کے طور پر موجود تھے اور انہوں نے  تقریب سے خطاب  بھی کیا۔ ڈاکٹر ایل موروگن اور ڈاکٹر سنجیوکمار بالیان کے ساتھ ساتھ  جناب پرشوتم روپالانے بوائن/بکرے جیسے جانور، پرندوں سے متعلق /خنزیر جیسے جانور کی پرجاتیوں سے   75 بہترین  دیسی نسل کے جانوروں   کو دکھانے کے لئے ڈجیٹل نمائش کا افتتاح کیا۔ ڈجیٹل نمائش میں   75 دیسی نسل کے مویشیوں  اور ڈیری  اور پولٹری کسانوں  ، ایف پی او ز، اختراعی صنعت  کار ، اسٹارٹ اپس  اور صنعت کی کامیاب کہانیوں کو دکھایا گیا ہے۔ڈی اے ایچ ڈی  کے سکریٹری  جناب اتل چترویدی   اور ڈی اے ایچ ڈی  کے جوائنٹ سکریٹری اس تقریب میں موجود تھے۔این ڈی ڈی بی  کے چئیرمین جناب مینیش شاہ  ، سی اواو –ڈیری اور  مشروبات    ،آئی ٹی سی لمٹیڈ ، بانس کاٹھا ضلعی  کو آپریٹو  ملک پروڈیوسرز  یونین لمٹیڈ  کے ایم ڈی  جناب  سنگرام چودھری اور ڈیری شعبے کے  دیگر نمائندگان  بھی موجود تھے۔اس تقریب میں  1200سے زیادہ کسان موجود تھے۔ ملک بھر کے کسان  ایک ہزار عام خدمات کے مراکز کے ذریعہ اس تقریب میں شامل ہوئے ۔ آزادی کا امرت مہوتسو کے حصے  کے طور پر مویشی  پروری اور ڈیری  کے محکمے ، ایف اے ایچ  ڈی  کی

آزادی کا امرت مہوتسو  کے ایک  حصے کے  طور پر وزارت   نے سی آئی آئی کےساتھ مل کر ڈیری  اور پولٹری کسانوں  ، اختراعی صنعت کا ر ،اسٹارٹ اپس اور صنعت پر توجہ مرکوز کرنے کے لئے کانکلیو کا اہتمام  کیا ہے۔کانکلیو سے قبل جناب روپالا نے آج گؤ پوجا کی ۔

کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے جناب روپالا نے بتایا کہ تمام شراکتداروں  کے مشترکہ تعاون کی بدولت  ہندوستان میں ڈیری کا شعبہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت کا ہدف ، جانورو ں کی صحت اور قرض خدمات  تک کسانوں کی رسائی   بڑھا کر مویشی کے شعبے  کی ترقی  کو یقینی بناناہے۔

جناب روپالانےکانکلیو میں  اے- ہیلپ کے لئے  تربیتی پروگرام کی شروعات کی ۔وزیر موصوف نےتقریب کے دوران    تین  پدم شری ایوارڈ یافتہ —پروفیسر موتی لال مدن ، ڈاکٹر کشل کنور شرما   اور ڈاکٹر سوساما  ایپ  کی عز  ت افزائی کی ۔ اس کے علاوہ جناب روپالانے  کانکلیو میں  مویشی پروری  پر مبنی اسٹارٹ اپس  گرانڈ چیلنج  2.0 کے فاتحین کی عزت افزائی کی ۔اُنّت پشودھن سشکت کانکلیو میں  75 دیسی نسل کے مویشیوں  اور 75 صنعت کاروں کے بارے میں کافی ٹیبل  بک کا اجرا کیا گیا۔ تقریب کے دوران  چارکسانوں کے ویڈیو زبھی دکھائے گئے ، جنہوں نے کاشتکاری اور ڈیری کے شعبے میں  اپنی اختراعی تکنیکی صلاحیت کی بدولت  قومی اور عالمی سطح  پر شناخت حاصل کی ہے۔

ڈاکٹر موروگن نے اپنے خطاب کے دوران بتایا کہ کس طرح ہندوستان کسانوں کی دہلیز پر  جانوروں  کی صحت سے متعلق معیاری خدمات فراہم کرکے تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

ڈاکٹر بالیان نے اس  بات کی وضاحت کی کہ کس طرح  ایم پی ڈی ڈی اسکیم سے  ڈیری پیداوار اور ملک بھر میں جاری بنیادی ڈھانچے     کے قیام  کو آگے بڑھانے میں مدد مل رہی  ہے۔

کانکلیو سے خطاب کرتے ہوئے جناب اتل چترویدی  نے کہا کہ ملک بھر کے کسان ایک ہزار عام خدمات کے مراکز کے ذریعہ تقریب سے جُڑے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر او پی چودھر ی  نے  بتایا کہ  تمام شراکتداروں کو ایک طریقے سے تعاون  کرنا ہوگا تاکہ یہ یقینی بنایا جاسکے کہ مستقبل کی نسلیں  ڈیری کے شعبے سے فائدہ حاصل کرسکیں۔مویشی پرور ی  کے کمشنر ڈاکٹر  پروین ملک نے   تقریب میں موجود  سبھی افراد کا شکریہ ادا کیا۔

اس کانفرنس   میں  تکنیکی موضوعاتی سیشن جیسے   پیداوار بڑھانے اورجانوروں کی صحت کو بہتر بنانے ، ویلیو ایڈیشن   اور بازار کی رابطہ کاری اور اختراع  اور ٹکنالوجی   پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔اس کانکلیو  میں اہم رجحانات کا مظاہرہ کرنے ، مواقع کی شناخت اور  کسانوں کی آمدنی بڑھانے پرتوجہ دینے کے ساتھ ساتھ ڈیری اور مرغی  پالنے کے شعبے   کے لئے  ایک واضح  خاکہ تیار کرنے  پر توجہ  ہے۔ اس کانکلیو میں  کچھ اختراعی سالیوشن  / بہترین طریق کار کو بھی دکھایا جارہا ہے۔جس میں  ڈیری اور پولٹری  شعبے  میں تبدیلی لانا اورکسانوں کی آمدنی بڑھانے کی صلاحیت نیز ڈیری  اور پولٹری شعبے کے لئے ایک روڈ میپ تیار کرنے  کا مقصد ہوگا۔ابھرتے ہوئے مواقع میں  یہ ایک گہرا غوطہ ہے اوریہ ترقی یافتہ کسان، صنعت کاروں کےساتھ ساتھ اسٹارٹ اپس کے تجربات سے سیکھنے کا ایک پلیٹ فارم ہوگا کہ طرح  ویلیو ایڈیشن   ، متنوع   مصنوعاتی پورٹ  فولیو  مارکیٹ تک بہترین رسائی نے   ڈیری  اور پولیٹری شعبے میں   انقلابی تبدیلی لانے میں مدد کی ہے اور  آمدنی کے مواقع  بھی بڑھائے ہیں۔

Related posts

نمامی گنگے کے تحت 929 کروڑ روپئے مالیت کے 12 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی

اے آئی آئی بی کی تیسری سالانہ میٹنگ کی افتتاحی تقریب سے وزیراعظم کا خطاب

اضلاع کو معدنیاتی رائلٹی کی ادائیگی