ڈجیٹل انڈیا پہل قدمی سے اس طرح کے سب سے بڑے اراضی سروے میں فوری طور پر فیصلہ لینے میں مدد حاصل ہوئی

Urdu News

دفاعی جائیداد دفاتر کے ریکارڈس کے مطابق، وزارت دفاع کے پاس تقریباً 17.99 لاکھ ایکڑ کے بقدر اراضی کا ایک بڑا حصہ ہے، جس میں سے تقریباً 1.61 لاکھ ایکڑ اراضی 62 نوٹیفائیڈ چھاؤنیوں میں ہے۔ اراضی کا تقریباً 16.38 لاکھ ایکڑ حصہ چھاؤنیوں سے باہر مختلف پاکٹوں میں پھیلا ہوا ہے۔ 16.38 لاکھ ایکڑ اراضی میں سے تقریباً 18000 ایکڑ یا تو سرکاری کرائے کی زمین ہے یا اسے دیگر حکومتوں، محکموں کو منتقلی کی وجہ سے ریکارڈس سے ہٹانے کی تجویز ہے۔

دفاعی اراضی کی واضح حد بندی اور باؤنڈری اور دفاعی اراضی کے تحفظ ، وزارت دفاع کے ٹائیٹل کا تحفظ، اراضی ، نقشہ کے ریکارڈ کی جدید کاری اور زمین پر قبضے کے روک تھام  ، کے لیے حدود کا تعین ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے، ڈائریکٹوریٹ جنرل ڈیفنس اسٹیٹس، وزارت دفاع نے اکتوبر 2018 سے دفاعی اراضی کے سروے کا آغاز کیا۔

چھاؤنیوں کے اندر تقریباً 1.61 لاکھ ایکڑ دفاعی اراضی  کا جائزہ اور چھاؤنیوں کے باہر 16.17 لاکھ ایکڑ (مجموعی طور پر 17.78 لاکھ ایکڑ) اراضی کے سروے کا کام مکمل کیا جا چکا ہے۔ یہ ایک غیر معمولی حصولیابی ہے ، کیونکہ آزادی کے بعد پہلی مرتبہ مکمل دفاعی اراضی کو مختلف ریاستوں  کے محکمہ مالیہ کی مدد سے متعدد پاکٹوں میں سروے سے متعلق جدید تکنالوجیوں کا استعمال کرتے ہوئے یہ کام انجام دیا گیا  ہے۔  ملک بھر میں تقریباً 4900 پاکٹوں میں زمین کی وسعت،  اور متعدد جگہوں پر ناقابل رسائی قطعہ زمین اور مختلف حصہ داروں کی شرکت نے اس سروے کو ملک میں اراضی کا سب سے بڑا سروے بنا دیا ہے۔

اس سروے میں الیکٹرانک ٹوٹل اسٹیشن (ای ٹی ایس) اور ڈفرینشیل گلوبل پوزیشننگ سسٹم (ڈی جی پی ایس) جیسی جدید جائزہ تکنالوجیوں کا استعمال کیا گیا۔ سروے کے عمل کو مزید تیز رفتار بنانے اور قابل اعتماد، بہترین اور معینہ مدت کے اندر نتائج حاصل کرنے کے لیے ڈرون امیجری اور سیٹلائٹ امیجری پر مبنی سروے کا استعمال کیا گیا۔

پہلی مرتبہ راجستھان میں لاکھوں ایکڑ دفاعی اراضی کے سروے کے لیے ڈرون تصاویر پر مبنی سروے تکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ پورے علاقے کاسروے بھارت کے جائزہ افسر کی مدد سے محض چند ہفتوں میں مکمل کیا گیا، جبکہ اس سے قبل اس طرح کے سروے میں برسوں لگ جاتے تھے۔

اس کے علاوہ متعدد دفاعی اراضی پاکٹوں ، خصوصاً بعض پاکٹوں کے لیے لاکھ ایکڑ دفاعی زمین کی دوبارہ پیمائش کے لیے، پہلی مرتبہ سیٹلائٹ امیجری پر مبنی سروے کیا گیا۔

بھابھا ایٹمی تحقیقی مرکز (بی اے آر سی) کے ساتھ ڈجیٹل ایلی ویشن ماڈل (ڈی ای ایم) کا استعمال کرتے ہوئے پہاڑی علاقوں میں دفاعی اراضی کی بہتر تصاویر کے لیے 3ڈی ماڈلنگ تکنیکات کا استعمال کیا گیا ہے۔

گذشہ چھ مہینوں کے دوران، دفاعی سکریٹری کی فعال مداخلت اور سروے سے متعلق جدید تکنالوجیوں کے استعمال کے نتیجے میں ، سروے کے عمل میں تیز رفتار پیش رفت کا مشاہدہ کیا گیا، جس کا پتہ اس حقیقت سے چلتا ہے کہ 17.78 لاکھ ایکڑ زمین میں سے 8.90 لاکھ ایکڑ زمین کا سروے گذشتہ تین مہینوں کے دوران انجام دیا گیا۔

سروے کے جزو کے طور پر، دفاعی اراضی پر قبضہ کا پتہ لگانے کے لیے ٹائم سیریز سیٹلائٹ امیجری پر مبنی حقیقی وقت میں تبدیلی کا پتہ لگانے کے نظام کے لیے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔نیشنل ریموٹ سینسنگ سینٹر، حیدرآباد سے حاصل کردہ دفاعی اراضی پاکٹوں کی سیٹلائٹ تصاویر پر شروعات ٹیسٹ کیا گیا۔

ڈی جی ڈی ای اور ایم او ڈی کے ذریعہ فیصلہ سازی کے عمل کو تیز رفتار بنانے کے لیے جیو ریفرینس اور ڈجیٹل شکل والی فائلیں دستیاب کرائی گئی ہیں۔

سروے میں ریوینیو حکام کی ایسو سی ایشن بالآخر حصہ داران کے درمیان حدود کے تنازعات کو کم کرنے میں مدد کرنے کے ساتھ ساتھ مختلف سطحوں پر قانونی تنازعات کو حل کرنے میں بھی مدد فراہم کرے گی۔

نیشنل رموٹ سینسنگ سینر اور نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار جیو انفارمیٹکس سائنس اینڈ ٹکنالوجی جیسے سرکردہ اداروں کے تعاون سے ڈفینس اسٹیٹس آرگنائزیشن  کے تکنیکی اہل کاروں اور افسران  میں صلاحیت سازی کی وجہ سے اس طرح کے ایک بڑے سروے کو انجام دینا ممکن ہو سکا۔

سروے کے لیے جدید تکنالوجیوں کے شعبے میں ڈفینس اسٹیٹس افسران میں صلاحیت سازی کے لیے این آئی ڈی ای ایم  (دفاعی جائیداد انتظام کاری کا قومی ادارہ) میں اراضی جائزے اور جی آئی ایس نقشہ بندی کے لیے عمدگی کا مرکز (سی او ای) بھی قائم کیا گیا ہے۔ سی او ای کا مقصد ایک ایسا سرکردہ سروے ادارہ بننا ہے جو مرکز اور ریاستی حکومت کے محکموں کے افسران کو مختلف سطحوں کی تربیت فراہم کرنے میں اہل ہو۔ سی او ای کا مقصد بہتر اراضی انتظام کاری کے ساتھ ساتھ شہری منصوبہ بندی عمل میں ایس ایل اے ایم/جی آئی ایس تکنالوجیوں کو بروئے کار لانا  بھی ہے۔ محترم وزیر دفاع نے گذشتہ ماہ عمدگی کے مرکز کا افتتاح کرتے ہوئے ڈی جی ڈی ای تنظیم کو جی آئی ایس پر مبنی تکنالوجیوں کا استعمال کرنے میں فیلڈ سروے اور تعمیری صلاحیت میں عمدگی جاری رکھنے کے لیے ترغیب فراہم کی تھی۔

تقریباً 18 لاکھ ایکڑ دفاعی اراضی کے جائزے کی یہ زبردست مشق پورےملک بھر میں انجام دی گئی۔  جو مشق اب تک انسانی کوششوں کی بنیاد پر قائم تھی، اس نے مرکزی حکومت کی ڈجیٹل انڈیا پہل قدمی کے ساتھ مطابق رکھتے ہوئے، اراضی سروے کے لیے ابھرتی ہوئی تکنالوجیوں کا استعمال کرنے کی ایک منفرد مثال قائم کی ہے۔  یہ حقیقت کہ اس طرح کی مشق آزادی کے 75 برسوں بعد انجام دی گئی ہے، اس مشق کو ’آزادی کا امرت مہوتسو‘ کے تحت منائے جا رہے جشن کا ایک جزو بناتی ہے۔

Related posts

استربی وی آر۔ اے اے ایم کاکامیاب تجربہ

پی ایم نے بنگلہ دیش کی وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا

’’کیمیکلز‘‘ کے شعبے میں ترقی کے زبردست امکانات: جناب گوڑا