ڈبلیو سی ڈی وزارت نے بی بی بی پی کے زمرے میں فرضی فارم بھرنے کے خلاف عوام کو ایک بار پھر خبردار کیا ہے

Urdu News

نئی دہلی: حکومت ہند کی خواتین اور بچوں کی ترقی (ایم ڈبلیو سی ڈی) کو اس سال کے شروع ہونے کے ساتھ ہی سے بہت سی دھوکہ باز لڑکیوں ؍خواتین کی طرف سے فرضی نام ملتے رہے ہیں۔ ان فارموں میں بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ(بی بی بی پی)اسکیم کے تحت نقد رقم دینے کا جھوٹا وعدہ کیا گیا ہے۔ ایک فرضی فارم، ایک درخواست فارم ہوتا ہے جس میں جنس یا نقد کسی بھی شکل میں فائدی حاصل کرنے کی درخواست کی جاتی ہے۔ حکومت ہند کی خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزارت کی طرف سے ایسے کسی فارم کے بارے میں نہ تو کہیں بتایا گیا ہے اور نہ ہی یہ فارم جاری کیا گیا ہے۔ بی بی بی پی میں ایسی کوئی سہولت نہیں ہے کہ حکومت ہند کے ذریعہ انفرادی نقد ترغیبی رقم دی جائے۔ بیٹی بچاؤ بیٹی پڑھاؤ اسکیم میں انداز فکر اور سماجی نظام میں گہرائی سے پیوستہ پدرانہ غلبہ والی ذہنیت کو چیلنج کرنے میں پی سی اینڈ پی این ڈی ٹی قانون کو سختی سے لاگو کرنے، لڑکیوں کی تعلیم کو آگے بڑھانے، خواتین کے پورے عرصہ حیات کے پس منظر میں ان کو بااختیار بنانے کے موضوع پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ یہ کوئی ڈی بی ٹی (براہ راست فائدہ منتقل کرنے والی اسکیم نہیں ہے)۔ اس اسکیم پر ضلعوں میں کلکٹر؍ڈی ایم؍ڈی سی کے دفتر اور بااختیار میڈیا ایجنسیوں کے وسیلے سے ملٹی ملٹی میڈیا کی وکالت کے ساتھ رسائی حاصل کرکے، عمل کیاجاتاہے۔

یہ سازش مجرمانہ ذہنیت کے لوگوں نے شروع کی ہے، جو پہلے اترپردیش میں سامنے آئی تھی او رپھر ہریانہ، اتراکھنڈ، پنجاب، ہماچل پردیش اور دہلی جیسی پڑوسی ریاستوں میں بھی پھیل گئی۔ کچھ معاملات میں یہ فارم بہار، مغربی بنگال، راجستھان اور کیرالہ سے بھی موصول ہوئے ہیں۔ یہ فارم جو زیادہ تر رجسٹرڈ ڈاک کے ذریعے بھیجے گئے ہیں وزارت کو لاکھوں کی تعداد میں موصول ہوئے ہیں۔ ہم نے اس لعنت پر قابو پانے کے لئے متاثرہ ریاستوں کے افسران کے ساتھ بات کی ہے۔ ہم نے غیر قانونی سرگرمیوں کے خلاف بھی خبردار کرتے ہوئے عوام کو نوٹس جاری کیا ہے اور شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اس طرح کی غلط معلومات اور فرضی سرگرمیوں کا شکار نہ ہوں۔

یہ وارنگ پرنٹ میڈیا، ٹی وی، ریڈیو، سوشل میڈیا ، وزارت کی ویب سائٹ اور ڈاک گھروں کے ذریعہ دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی سرکاروں نے اپنے چینلوں اور مقامی میڈیا کے ذریعہ بھی یہ کام کیا ہے۔ اس وارننگ کو بہت بار نشر کیا گیا ہے۔ میڈیا کی اس مہم میں وزارت نے مشورہ دیا ہے کہ کوئی ذاتی معلومات کسی کو نہیں دی جانی چاہئے اور نہ ہی کسی شخص کو اس طرح کی دھوکہ دہی والی اسکیم کے لیے پیسے خرچ کرنے چاہئیں۔ حالانکہ بہت سے لوگ اب بھی اس گھپلے کے شکار ہورہے ہیں اور یہاں تک کہ اس فائدے؍اسکیم کے لیے پیسہ خرچ کررہے ہیں، جس  کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور یہ بی بی بی پی اسکیم کے نام سے فرضی طورپر پیشکش کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ لعنت ایک دم ختم نہیں ہورہی ہے۔

مندرجہ بالا صورتحال کی پیش نظر ڈبلیو سی ڈی وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ اس طرح کے فرضی اور غیر قانونی فارم جو وزارت کو موصول ہوں گے، انہیں تلف کرکے اور بغیر کوئی نوٹس جاری کرکے، ٹھکانے لگادیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ایک نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا ہے اور ایسے وزارت کی ویب سائٹ پر دیکھا جاسکتا ہے۔

لہٰذا عوام کو ایک بارپھر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اس طرح کے فرضی نام بھرنے، توانائی اور وسائل ضائع کرنے کی دھوکہ دہی کی سرگرمی کا شکار نہ ہوں۔

Related posts

عالمی بینک اور حکومت ہند نے بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کے لئے ہنگامی تدبیراتی پروگرام کے لئے 750 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے

مجلس علماء ھند کی مجلس مشارت میں شیعوں کے بنیادی مسائل کے ساتھ تین طلاق،گئو کشی ،اور بابری مسجد معاملہ پر اہم گفتگو ہوئی ،مختلف ریاستوں کے علماء نے کی شرکت

ریلویز کی وزارت نے اسمارٹ فرائٹ آپریشن آپٹیمائزیشن اینڈ ریئل ٹائم انفارمیشن

Leave a Comment