ڈاکٹر ہرش وردھن نے ویڈیو کانفرنس کےذریعے این اے ایم وزرائے صحت کی میٹنگ میں شرکت کی – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » ڈاکٹر ہرش وردھن نے ویڈیو کانفرنس کےذریعے این اے ایم وزرائے صحت کی میٹنگ میں شرکت کی

ڈاکٹر ہرش وردھن نے ویڈیو کانفرنس کےذریعے این اے ایم وزرائے صحت کی میٹنگ میں شرکت کی

صحت اور خاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج یہاں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے  غیرجانب دار تحریک (این اے ایم) ملکوں کے وزرائے صحت کی میٹنگ میں شرکت کی۔

اس میٹنگ کی صدارت جمہوریہ آزربائیجان  کے وزیر صحت جناب  اوبٹے شیرالی ییف نے کی۔

این اے ایم چوٹی میٹنگ کا انعقادایسے وقت میں کیا جارہا ہے جب بین الاقوامی برادری  کو ایک عالمی وبا درپیش ہے جس نے  دنیا بھر کے  کروڑوں لوگوں کی زندگیوں اور ذریعہ معاش کو متاثر ہے۔ این اے ایم  ملکوں نے  کووڈ-19 کے سبب  درپیش عالمی خطرات کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی اور مناسب تیاری  ، احتیاطی تدابیر ،صلاحیت سازی اور وسیع پیمانے پرقومی ، علاقائی  اوربین الاقوامی اشتراک وتعاون کے ساتھ اس وبا کے خلاف لڑائی کا عہد کیا۔

اس موقع پر ڈاکٹر ہرش وردھن کےذریعے کی گئی تقریر درج ذیل ہے:‘‘جناب چیئرمین  ، عالی مرتبت صاحبان ، خواتین وحضرات!

میں اپنی بات کی شروعات اس کانفرنس کے چیئرمین اور جمہوریہ آزربائیجان کے وزیر صحت کو مبارکباد دینے کے ساتھ کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے اس نہایت اہم اور بروقت کانفرنس کا انعقاد کیا۔

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ  ہماری  کرۂ ارض کی  تاریخ میں یہ ایسا وقت ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔کووڈ-19 نے تین لاکھ  سے زیادہ قیمتی جانیں لی ہیں۔40 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اس نے متاثر کیا ہے اور کروڑوں لوگوں کےذریعہ معاش کو اس نے چھین لیا ہے۔ مجھے دنیا بھر میں اُن   خاندانوں کو دلی تعزیت  پیش کرنے دیجئے جنہوں نے  اس مہلک  بیماری سے اپنے  عزیز واقارب  کو کھو دیا ہے۔

جناب چیئرمین، کووڈ-19 نے ہم سب کو اس بات کااحساس کرا دیا ہے کہ ہم پہلے سے  کہیں زیادہ ایک دوسرے کے ساتھ مربوط  اور ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ اس نے ہمیں اس بات کا بھی احسا س کرادیا ہے کہ انسانوں کے ذریعے  پیدا کردہ چیلنجز جن کا سامنا  آج  ہماری کرۂ ارض کو ہے ، جیسے کہ آب وہوا کی تبدیلی اور سرکاری  صحت کی ہنگامی صورتحال ، اس کا مقابلہ صرف ایک ساتھ  رہ کر ہی کیاجاسکتا ہے، ہم مختلف رہ کر  اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ہیں، اس کے لئے  باہمی اشتراک وتعاون کی ضرورت ہوتی ہے۔

موجودہ عالمی وبائی بحران ہمیں اس بات کی بھی یاد دلارہا ہے کہ گورننس کے عالمی اداروں کو مزید جمہوری  ، شفافیت سے بھرپور اور قابل اعتماد اور مؤثر ہونے کیلئے نمائندگی کا حامل ہونا چاہئے۔ اصلاح شدہ کثیر رخی نظام  وقت کی ضرورت ہے۔

ہندوستان اپنی سطح پر مضبوط سیاسی جذبے کے ساتھ کووڈ-19 کے خلاف  لڑائی لڑرہا ہے۔ہمارے وزیراعظم جناب نریندر مودی نے  اس بحران سے نمٹنے کیلئے  تیز رفتاری ،حجم اور عہد کو یقینی بنایا ہے۔ ہندوستان نے  اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ہر ممکن قدم اٹھایا ہے کہ ہم  اس وائرس  کے پھیلاؤ کو روک سکیں۔ ہم نے  اس بات کو بھی یقینی بنایا ہے کہ کووڈ-19 پر اپنی توجہ مرکوز  کرنے کے دوران دیگر بیماریوں سے متاثرہ مریضوں کو نظرانداز نہ کریں۔

اس بات کو یقینی بنانے کیلئے ایک سیاسی عہد کے ساتھ آراستہ ہوکر ہم نے اس مہلک اور خطرناک وبا کو شکست دینے کیلئےایک ارب 35 کروڑ بھارتی شہری  ملک گیر لاک ڈاؤن کےفیصلے کو اپنی حمایت دینے کیلئے ایک ساتھ آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری شرح اموات کافی کم ہےاور ہم نے اس وبا کو پھیلاؤ کو روکا ہے۔ مائیکروشناخت، عوامی آئیسولیشن اور جلدی علاج کی ہماری پالیسی ثمرآور ثابت ہوئی اور بڑے پیمانے پر اس کے پھیلاؤ کی روک تھام اورکووڈ-19 کے سبب ہونے والی اموات  میں کافی کمی آئی۔

اگرچہ ہندوستان کے پاس ایک مستحکم حفظان صحت نظام ہے، ہم  فوراً  ایکشن میں آئے اور بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ساتھ افرادی قوت کی اپنی صلاحیت میں اضافہ کیا۔ پوری طرح سے وقف کووڈ-19 کے دس ہزار اسپتال اور معالجاتی مراکز اور20 لاکھ سے زیادہ تربیت یافتہ صحت کارکنان کے ساتھ ہم آگے بڑھے اور اس کے بعدہم نے پھر پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔

جس طرح سے ہم اپنے شہریوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اسی طرح ہم نے دیگر ملکوں کو بھی  تعاون کی پیشکش کی۔ اپنے قریبی ہم سایہ ملکوں میں ہم نے کووڈ-19 کے خلاف لڑائی کیلئے باہمی اشتراک وتعاون کو فروغ دیا اور ہندوستان کی طبی مہارت کو ایک دوسرے کے ساتھ ساجھا کر کے  صلاحیت سازی کا اہتمام کیا۔

ہندوستان نے دنیا کی فارمیسی بالخصوص کفایتی دواؤں کیلئے اپنی شناخت کو برقرار رکھا ہواہے۔ اپنی گھریلو ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ ہم نے 123 شراکت دار ملکوں کو طبی سپلائی فراہم کی ہے۔ ان ملکوں میں 59 ممالک این اے ایم کے رکن ہیں۔ ہم علاج اور ٹیکہ تیار کرنے کی عالمی کوششوں میں سرگرمی کے ساتھ حصہ لے رہے ہیں۔

کووڈ-19 بحران سے نمٹنے کیلئے ہم این اے ایم رکن ممالک کے درمیان پوری ایمانداری کے ساتھ یکجہتی  کا اظہار کرتے ہیں۔ 4مئی کو این اے ایم کنٹیکٹ گروپ کی ویڈیو کانفرنس کے دوران وزیراعظم جناب نریندر مودی نے نہ صرف غیرجانبدار تحریک (این اے ایم) ملکوں کے ساتھ بلکہ پوری دنیا کے ساتھ یکجہتی کااظہار کیا کیوں کہ ہم واسودھیوکٹمبکم کے نظریے پر مکمل یقین رکھتے ہیں جس کامطلب ہے کہ پوری دنیا ہمارا کنبہ ہے۔

جناب چیئرمین، میں یہ کہہ کر اپنی بات ختم کرناچاہوں گا کہ ترقی پذیر ممالک کی حیثیت سے ہمارے عوام ہی اس طرح کی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ ہم سبھی کو اس بات کا  ادراک ہونا چاہئے کہ ہماری  تقدیریں ایک دوسرے کے ساتھ مربوط ہیں۔اس کا اس طرح احساس پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ہندوستان تعمیری کوششوں، باہمی اشتراک وتعاون اور یکجہتی کے جذبے کے ساتھ باہمی اشتراک وتعاون کے اجتماعی سفر کے لئے آگے کی راہ دیکھ رہاہے۔ یہی  این اے ایم  ملکوں کی  خاصتیں ہیں۔

اپنی تقریر ختم کرنے سے قبل مجھے ان لوگوں کی عزت افزائی کرنے دیجئے جنہوں نے بنی نوع انسان کو شرف بخشا ہے۔ آئیے ہم سبھی ملکر کووڈ-19 کے سرکردہ جانبازوں-اپنے ڈاکٹروں، اپنی نرسوں، اپنے نیم طبی عملے، اپنے صفائی اور سیکورٹی کے عملے، اپنی فوج ، پولیس اور نیم فوجی دستوں ،اپنے صحافیوں ، وہ تمام افراد جو ہمارے لئے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالتے ہیں اور ان تمام خاندانوں کو جو اپنے افراد کو تمام خطروں کے ساتھ اس جنگ کے میدان میں بھیج رہے ہیں،ان سبھی کیلئے کھڑے ہوکر تالی بجاتے ہیں۔

ان سبھی افرادنے ہمیں ایک سبق سکھایا ہے۔ یہ سبق یہ ہے کہ ہمیں اس بات کو کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ انسانی فلاح وبہبود تمام اقتصادی ترقی کی بنیاد ہونی چاہئے۔

آپ کا بہت شکریہ’’۔

About admin