ڈاکٹر ہرش وردھن نے قومی نوزائیدہ ہفتہ 2020 کا آغاز کیا

Image default
Urdu News

نئی دہلی، صحت و کنبہ بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج قومی نوزائیدہ ہفتہ 2020 کے تناظر میں ایک پروگرام کی صدارت کی، جسے 15 نومبر سے 21 نومبر تک منایا جارہا ہے، تاکہ صحت کے شعبے کی اہم ترجیحات والے شعبے کی شکل میں نوزائیدہ بچوں کی صحت کی اہمیت کو مضبوط کیا جاسکے اور اعلیٰ ترین سطح پر عہد بستگی کا اعادہ کیا جاسکے۔

اس سال قومی نوزائیدہ ہفتہ کا موضوع ہے ’ہر صحت مرکز اور ہر جگہ ہر نوزائیدہ بچے کے لئے معیار، مساوات، وقار ‘۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image001L436.jpg

اس موقع پر ڈاکٹر ہرش وردھن نے سبھی کو یاد دلایا، ’’2014 میں بھارت انڈیا نیوبورن ایکشن پلان (آئی این اے پی) شروع کرنے والا پہلا ملک بنا تھا، جو گلوبل ایوری نیو بارن ایکشن پلان سے ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد نوزائیدہ بچوں اور پیدائش کے وقت مردہ بچوں کی روکی جاسکنے والی اموات کا خاتمہ کرنا ہے۔‘‘

ڈاکٹر ہرش وردھن نے سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ہی  نوزائیدہ بچوں کی شرح اموات میں کمی لانے اور اس مقصد کے لئے ایک پورا ہفتہ وقف کرنے کا تصور پیش کیا تھا۔ وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی جی کی فعال قیادت سے زچگی اور بچوں کی صحت کے لئے کئے جانے والے اقدامات کو مزید حوصلہ اور مضبوطی ملی ہے۔

مرکزی وزیر نے حصول یابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حالانکہ اعداد و شمار میں کمی آئی ہے، تاہم ایک بھی موت پورے کنبے کے لئے المیہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کا خواب ہے کہ ’’ہر بچہ زندہ رہے، پروان چڑھے اور اپنی پوری صلاحیت تک پہنچے۔‘‘ ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہے کہ حکومت سبھی نوزائیدہ بچوں کی صحت اور فروغ کے لئے کام کرنے کے تئیں پابند عہد ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہم ان چھوٹی چھوٹی چیزوں کو لے کر بھی محتاط ہیں جو نوزائیدہ بچوں کے فروغ اور پیدائش میں رخنہ انداز ہوتی ہیں یا جو نوزائیدہ بچوں کی خراب صحت یا موت کا باعث بنتی ہیں۔ وزیر موصوف نے کہا کہ حکومت نے نوزائیدہ بچوں کے زندہ رہنے اور فروغ پانے کو یقینی بنانے کے لئے متعدد پروگرام شروع کئے ہیں، جن میں پوشن ابھیان کی امبریلا اسکیم کے تحت آنے والے غذائیت سے متعلق پہلو بھی شامل ہیں۔

وزیر موصوف نے اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے، شکایات کے تدارک کی خاطر این این ایم پورٹل، سمن (ایس یو ایم اے این) کی شروعات کرنے جیسے متعدد اقدامات کی جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ روکی جاسکنے والی نوزائیدہ بچوں کی سبھی اموات کو روکنے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے آئی این اے پی اہداف اور روڈمیپ پلان پر ایک تفصیلی پروگریس کارڈ جاری کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 2017 کے اہم اہداف کو کامیابی کے ساتھ حاصل کرلیا ہے: سال 2017 کے لئے 24 کے نوزائیدہ شرح اموات (این ایم آر) کا مقررہ ہدف اور 2020 تک 19 کی اسٹل برتھ ریٹ (ایس بی آر) کا ہدف حاصل کرنے کے لئے کی گئیں کوششیں۔ انھوں  نے کہا کہ اب ہمارا سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) 2018 اور یونائٹیڈ نیشنز انٹر – ایجنسی گروپ فار چائلڈ مورٹالیٹی اسٹیمیشن (یو این آئی جی ایم ای) کے مطابق ہر ایک ہزار زندہ پیدائش میں سے 23 نوزائیدہ شرح اموات  اور سیمپل رجسٹریشن سسٹم (ایس آر ایس) کے مطابق 4 کا سیمپل اسٹل برتھ ریٹ اور یو این آئی جی ایم ای تخمینہ کے مطابق 14 کا سسٹم اسٹل برتھ ریٹ ہے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image0022XR3.jpg

ڈاکٹر ہرش وردھن نے نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تعلق سے رویے میں تبدیلی لانے اور مانگ کی تخلیق کرنے اور اطلاعات کی اشاعت کرنے کے لئے قومی نوزائیدہ ہفتہ آئی ای سی پوسٹرس کی بھی نقاب کشائی کی۔ انھوں نے نوزائیدہ بچوں کی دیکھ بھال سے متعلق صحت سہولیات فراہم کرنے والوں کی صلاحیت سازی کے لئے نیوبارن اسٹیبلائزیشن یونٹ اور نیوبارن کیئر کارنر پر دو خاص طور سے ڈیزائن کئے گئے ٹریننگ ماڈیول کا بھی اجرا کیا۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے شراکت داریوں کے اہم رول پر روشنی ڈالتے ہوئے اپنے اختتامی ریمارک میں نوزائیدہ بچوں کی صحت کے تعلق سے قومی پروگراموں میں انڈین ایسوسی ایشن آف پیٹریاٹرکس (آئی اے پی)، نیشنل نیونیٹولوجی فورم (این این ایف)، فیڈریشن آف آبس ٹیٹرک اینڈ گائینیکولوجیکل سوسائٹیز آف انڈیا (ایف او جی ایس آئی)، انڈین ایسوسی ایشن آف نیونیٹل نرسنگ (آئی اے این این)، کلاوتی سرن ہوسپیٹل، اور عالمی ادارۂ صحت، یونیسیف، بل اینڈ ملنڈا گیٹس فاؤنڈیشن، یو ایس اے آئی ڈی، سیو دی چلڈرین، این ایچ ایس آر سی، این آئی پی آئی جیسے دیگر ترقیاتی شراکت داروں کے ذریعے کئے گئے تعاون کی ستائش کی۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image003K0WM.jpg

پروگرام میں مرکزی صحت سکریٹری جناب راجیش بھوشن، ایڈیشنل سکریٹری (قومی صحت مشن) محترمہ وندنا گرونانی، ایڈیشنل سکریٹری (زچگی و صحت اطفال) جناب منوہر اگنانی اور وزارت صحت کے دیگر سینئر اہلکار بھی اس تقریب میں موجود تھے۔

پروگرام میں سبھی پیشہ ور شراکت داروں اور ترقیاتی شراکت داروں کے بھارت میں نمائندے، کونسلر اور صدور کانفرنس کے توسط سے شریک ہوئے۔

https://static.pib.gov.in/WriteReadData/userfiles/image/image004SF5S.jpg

Related posts

طبی برادری کو جدید طرززندگی کے سبب درپیش صحت خطرات کے بارے میں ملک گیر بیداری مہم کی شروعات کرنی چاہئے: نائب صدر جمہوریہ ہند

خواتین کو بااختیار بنانا نہ صرف ایک قومی مقصد ہے، بلکہ عالمی ایجنڈہ بھی ہے:نائب صدر جمہوریہ ہند

ہریانہ میں زلزلے سے متعلق آزمائشی مشق سے قبل مذاکرات کا انعقاد