ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہند – آسیان تجارتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہند – آسیان تجارتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے ہند – آسیان تجارتی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کیا

نئی دہلی: شمال مشرقی  خطے کی ترقی ( ڈونیئر )  کے مرکزی وزیر  مملکت ( آزادانہ چارج ) ، وزیر اعظم کے دفتر ، عملے ، عوامی شکایات  ، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نے کہا ہے کہ وزیر اعظم  جناب نریندر مودی کی زیر قیادت پیدا ہوئے امید  افزاء ماحول کے ساتھ ہندوستان جلد ہی 5 ٹریلین امریکی ڈالر کی ہدف شدہ معیشت  حاصل کرلے گا ۔ انہوں نے کہا کہ آسیان  ممالک کے ساتھ  اشتراک ہندوستان کو 5 ٹریلین امریکی ڈالر کی معیشت کا ہدف  حاصل کرنے میں اہم رول ادا کرے گا اور اس میں شمال مشرقی ریاستوں کے تعاون کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے ۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ  آج یہاں ، ہند – آسیان تجارتی کانفرنس  کے افتتاحی اجلاس  سے خطاب کر رہے تھے ۔

          ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ تجارت میں آسانی  پیدا کرنے کے لئے تین چیزیں  بے حد ضروری  ہیں ، وہ ہیں : ( 1 ) رابطے   یا کنکٹیویٹی  ، (2 ) مواصلات اور ( 3 ) ضوابط  میں نرمی ۔ شمال مشرق کی مثال دیتے ہوئے ، وزیر موصوف نے کہا کہ موجودہ  حکومت  کی شمال مشرق میں کنکٹیویٹی  پر توجہ  مرکوز کرنا اہم ترجیح ہے ۔ اس سلسلے میں ، سکم میں گذشتہ  برس پہلا ہوائی اڈہ  قائم کیا گیا ۔ انہوں نے اروناچل پردیش   او رمیگھالیہ  میں ٹرین   کنکٹیویٹی  کا بھی ذکر کیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اگرتلہ سے بنگلہ دیش  تک پہلی ٹرین کو ہری جھنڈی  دکھانے کے  عمل میں  ہیں  ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ حکومت کے ذریعے دریائے برہم پتر  ، جو دنیا کے سب سے  بڑے دریاؤں  میں سے ایک ہے  ، اندرون ملک  ( اِن لینڈ  واٹر وے ) آبی راستوں  کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔  وزیر موصوف نے معیشت  کے لئے آبی  گزر گاہوں  کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے بتایا کہ آبی  راستوں سے کارگو ٹرانسپورٹیشن  کے اخراجات  ٹرین کے مقابلے میں ایک چوتھائی ہیں ۔

          وزیر موصوف نے کہا کہ  وزیر اعظم  جناب نریندر مودی  کی سربراہی  میں اٹھائے گئے کچھ اقدام  ایسے ہیں ، جن کے بارے میں پہلے تصور بھی نہیں  کیا جا سکتا تھا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  وزیر اعظم  نے آسیان  مملاک کے ساتھ  قریبی اور فروغ افزا اشتراک  کا اعادہ کیا ہے اور ہندوستان  کے شمال مشرقی  خطے کے فروغ   پر توجہ مرکوز کرنے    کو بھی  دوہرایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ  یہ کاروبار  اور تجارت  کے فروغ کے لئے بہت اہم ہے ۔ ڈاکٹر جتیندر سنگھ  نے کہا کہ شمال مشرقی خطہ میں  لا محدود  صلاحیتیں  اور امکانات  ہیں ، جن کو تلاش کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  شمال مشرقی  خطے کے امکانات کے ساتھ آسیان  اشتراک  کے نئے انجن کو مزید فروغ حاصل ہو گا ۔ انہوں نے اس  موقع پر شمال  مشرق میں شروع  کی گئی دیگر  پہلوں جیسے برہم پتر اسٹڈی سینٹر ، بروچ  کینسر  انسٹی ٹیوٹ  کا ٹاٹا میموریل  انسٹی ٹیوٹ  کے ساتھ الحاق  ، آئی آئی ایم  شیلانگ میں اے  پی جے عبد الکلام  اسٹڈی  سینٹر وغیرہ  کے بارے میں بھی بات کی ۔ انہوں نے برسوں پرانے ‘‘ انڈین فوریسٹ  ایکٹ آف  1927 ’’ میں ترمیم  کے حکومت کے فیصلے  کے بارے میں بھی  ذکر کیا اور اس ترمیم  میں جنگلات  سے غیر جنگلاتی  اراضی پر اگائے گئے بانسوں  کو مستثنیٰ رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پہلا بانس  صنعتی پارک آسام کے دیما ہساؤ ضلع میں قائم کیا  جا رہا ہے ۔ وزیر موصوف نے مزید بتایا کہ اسی طرح  کے پارک جموں و کشمیر میں  بھی قائم  کئے جا سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایپّل  فوڈ پارک ، اسٹرا بیری  فوڈ پارک  کھولنے کے امکانات  تلاش کئے جا سکتے ہیں ۔   انہوں نے  بتایا کہ اب تک کا پہلا سٹرس فروٹ پارک ، اسرائیلی  اشتراک کے ساتھ میزورم میں تیار کیا جا رہا ہے ۔ وزیر موصوف نے زور دے کر کہا کہ  ہمیں اپنا نظریہ  مستقبل کے لئے رکھنے کی ضرورت ہے ۔

          شمال مشرق میں سیاحت  کے امکانات پر اپنے خطاب میں ڈاکٹر جتیندر نے کہا کہ سیاحت  نے حالیہ  برسوں میں بہت   تیزی سے ترقی  کی ہے اور خصوصی طور پر  خطے میں گھروں میں ٹھہرنے کے ساتھ  سیاحت  نے  بہت تیزی سے ترقی کی ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت  ، اروناچل پریش  میں فلمز  اینڈ ٹریننگ  انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا  ( ایف ٹی آئی  آئی ) قائم کرے گی ۔ انہوں نے کہا کہ شمال مشرق میں  مناسب اور سٹیک  اسٹارٹ  اَپس  کے لئے متعدد اقدامات کئے گئے ہیں ۔ ان میں ، ڈونیئر وزارت کی جانب سے پیش کئے جا رہے ٹیکس  ہولی ڈے ، پروویژن  آف ایگزٹ پپریڈ  اور وینچر فنڈ  شامل ہیں  ۔ ان اقدامات سے خطے کے نو جوانوں  کو نئے  مواقع حاصل ہوئے ہیں ۔

          اس موقع پر  اپنے خطاب میں  ، ایمبیسیڈر  رائل تھائی  ایمبسی  اور آسیان  خطے کے چیئر پرسن  جناب چوٹنٹورن  گونگ  ساکڈی نے کہا کہ  ہمیں ہندوستان میں تجارت  کرنے کے لئے دستیاب  مواقعوں  کو شناخت کرنے کی ضرورت ہے ۔ انہوں نے کنکٹیویٹی  ، جن میں زمینی ، فضائی اور سمندری  رابطے شامل ہیں ، کو  منسلک کرنے پر زور دیا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ  رکن معیشتوں  کے لئے ڈجیٹل  ٹیکنا لوجی  ترقی کے لئے ضروری  ہے  اور اس کے لئے انہوں نے ای – کامرس کی مثال دی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماحولیاتی  ، سماجی اور کارپوریٹ  گورننس  پر توجہ  مرکوز کرنے کے ساتھ عوام / افراد  ، مرکزیت اور جامع معیشتوں کو مقصد بنانا چاہیئے ۔

          ‘ ہند – آسیان  تجارتی کانفرنس ’ جس کا عنوان ہے ، ‘‘ آج  ، کل ، ساتھ ساتھ ’’ کا انعقاد  آسیان  معیشتوں  کے ساتھ تجارت اور سرمائے کے بہاؤ کو مستحکم کرنے کے لئے کیا جا رہا ہے ۔ اس کانفرنس  کا مقصد ہند اور آسیان  ممالک  ٹریڈ  ٹریجنکیٹری  کے درمیان ہندوستان کے لئے اعلیٰ سینئر  سرکاری حکام  اور آسیان   مملاک ، جن کاروباری  کمیونٹیز  کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں  اور آسیان  کے لئے باہمی یا دو طرفہ  تجارت اور سرمائے  کو فروغ  دینا ہے ۔ کانفرنس کے پہلے  روز انفرا اسٹرکچر اور سیاحت ، آئی ٹی / آئی ٹی ای ایس ، ای کامرس اور فن ٹیک اور تعلیم ، ہنر مندی  کے فروغ ، حفظانِ صحت اور فارماسیو ٹیکلز  اور زراعت  اور فوڈ  پروسیسنگ  پر تبادلۂ خیال کیا گیا  ، جب کہ کانفرنس کے دوسرے  روز بی ٹُو بی  میٹنگوں کا انعقاد کیا جائے گا ، جس میں خصوصی  توجہ  ہندوستان اور ویتنام  کے درمیان ویتنام  – گروئنگ  ٹریڈ اینڈ کامرس پر رہے گی ۔

          اس کانفرنس میں ، 10 آسیان  ممالک کے 60 وفود سے زیادہ  اور ہندوستان  سے 200 وفود سے زائد حصہ لے رہے ہیں ۔

About admin