پہلی مرتبہ انڈین ریلوےنے بنگلہ دیش کے لئے خصوصی پارسل ٹرین کے ذریعہ خشک مرچےروانہ کی

Image default
Urdu News

پہلی مرتبہ بھارتی ریلوے نے ریاست آندھرا پردیش کے گنٹور ضلع میں ریڈی پالم سے خشک مرچوں کے ساتھ بنگلہ دیش میں بینا پول کے لئے خصوصی پارسل ٹرین روانہ کی ہے۔ ملک کی سرحدوں سے باہر پہلی مرتبہ خصوصی پارسل ٹرین روانہ کی گئی ہے۔

آندھرا پردیش میں گنٹور اور اس کے آس پاس کے علاقے مرچوں کی کھیتی کے لئے جانے جاتے ہیں۔ یہاں مرچوں کی کھیتی کے فارم، مرچے پیدا کرنے کی کوالٹی کے لئے بین الاقوامی سطح پر کافی مشہور ہیں اور یہ اپنے ٹسٹ اور برانڈ میں بے مثال ہیں۔ اس سے پہلے گنٹور اور آس پاس کے علاقوں کے کسان اور تاجر بنگلہ دیش کے لئے سڑک کے راستے خشک مرچے کم مقدار میں بھیجتے رہے ہیں اور انہیں فی ٹن 7 ہزار کے قریب خشک مرچے بھیجنے پر لاگت آتی تھی۔ لاک ڈاؤن کی مدت کے دوران وہ سڑک کے راستے اس لازمی فیس کو نہیں بھیج سکے تھے، لہٰذا ر یلوے اسٹاف اور افسروں سے مال بھیجنے والوں نے رابطہ کیا  اور انہیں ریل کے ذریعہ مال بھیجنے کی سہولیات سے آگاہ کیا۔ اس کے مطابق انہوں نے مال گاڑیوں کے ذریعہ بڑی مقدار میں ریل کے ذریعہ خشک مرچیں روانہ کیں، لیکن مال گاڑیوں کے مرچوں کی کھیپ منتقل کرنے کے لئے کسانوں اور تاجروں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ ہر ٹرپ میں کم از کم 1500 ٹن سے زیادہ مقدار میں مرچے بھیجیں۔

اس مسئلے کو حل کرنے او رہر ٹرپ میں زیادہ سے زیادہ 500 ٹن تک خشک مرچیں بھیجنے کے لئے ریل استعمال کرنے والوں کی آسانی کے لئے جنوبی سینٹرل ریلوے کے گنٹور ڈویژن نے پہل قدمی کی اور  بنگلہ دیش کے لئے خصوصی پارسل ایکسپریس چلائی۔  اس سے گنٹور کے کسانوں اور تاجروں کو اپنی پیداوار ملک کی سرحد کے باہر کی مارکیٹ میں بھیجنے میں مدد ملی اور خصوصی پارسل ایکٹ کے ذریعہ بڑی مقدار میں خشک مرچیں روانہ کی گئیں۔حالانکہ خصوصی پارسل ایکٹ کے ذریعہ کم مقدار میں خشک مرچیں ٹرانسپورٹ کی گئی تھیں۔

16پارسل کی وین پر مشتمل ایک خصوصی پارسل ایکسپریس ٹرین بنگلہ دیش کے بینا پول روانہ کی گئی ۔ ہر پارسل وین میں 466 خشک مرچوں کے بیگ لوڈ کئے گئے تھے، جن کا وزن 19.9ٹن تھا اور خصوصی پارسل ٹرین کے ذریعہ کل 384 ٹن خشک مرچیں بنگلہ دیش بھیجی گئیں۔ خصوصی پارسل ایکسپریس کے ذریعہ لے جائی جانے والی مرچوں پر فی ٹن لاگت 4608 روپے آئی اور جو کہ بہت سستی اور کفایتی تھی اور سڑک ٹرانسپور کے مقابلے بھی سستی پڑی، جوروڈ ٹرانسپور ٹ کے ذریعہ  7 ہزار فی ٹن کی لاگت آتی تھی۔

قابل ذکر ہے کہ بھارتی ریلوے نے کووڈ مدت کے دوران پارسل ٹرین کو فروغ دینے کے لئے بہت سے اقدامات کئے۔

چھوٹے پارسل کے سائز میں طبی دواؤں کی سپلائی، طبی آلات ، خوراک جیسے لازمی اشیا کی ٹرانسپورٹیشن بہت اہم اشیا ہیں جو کارروبار کے لئے ضروری ہیں۔ اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کے لئے بھارتی ریلوے نے ریاستی سرکاروں سمیت ای کامرس کمپنیوں اور دیگر گراہکوں کے ذریعہ بڑے پیمانے پر تیز ٹرانسپورٹیشن کے لئے دستیاب ریلوے پارسل وین بنائے ہیں۔ ریلوے مخصوص راستوں پر ٹائم ٹیبل پارسل خصوصی ٹرینیں چلاتا رہا ہے، تاکہ لازمی اشیا کی بے روک ٹوک سپلائی کو یقینی بنایا جاسکے۔

انڈین ریلوے نے 22 مارچ 2020 سے 11 جولائی 2020 تک کل  4434 پارسل ٹرینیں چلائیں، جن میں 4304 ٹرینیں اپنے وقت سے چلنے والی ہیں۔

Related posts

فولاد کے مرکزی وزیر چودھری بریندر سنگھ نے بین الاقوامی تجارتی میلے میں اسٹیل پویلین کا افتتاح کیا

نائب صدر جمہوریہ ہند نے نوجوانوں سے رواداری اور احترام کی روایات پر عمل کرنےاور ہمارے گوناگوں ثقافت کی حفاظت کرنے کی اپیل کی

سرینگر اور رائے پور ہوائی اڈوں کو قومی سیاحتی ایوارڈ 16-2015 کے تحت بہترین ہوائی اڈوں کا ایوارڈ