پندرہویں مالیاتی کمیشن کی حکومت راجستھان کے ساتھ میٹنگ – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » پندرہویں مالیاتی کمیشن کی حکومت راجستھان کے ساتھ میٹنگ

پندرہویں مالیاتی کمیشن کی حکومت راجستھان کے ساتھ میٹنگ

نئی دہلی، پندرہویں مالیاتی کمیشن نے  چیئرمین  جناب این کے سنگھ کی صدارت میں   اپنے  ارکان اور سینئر افسروں کے ساتھ آج  راجستھان کے   وزیراعلی  جناب اشوک گہلوت  ، نائب وزیر اعلی جناب سچن پائیلٹ اور  ان کے   کابینہ کے ارکان اور ریاستی  حکومت کے سینئر افسروں کے ساتھ میٹنگ کی۔

کمیشن  کا مشاہدہ  ہے کہ:

  1. رقبے کے لحاظ سے راجستھان  سب سے بڑی ریاست ہے۔  اس کے پاس   ریاست کے کل رقبے کا 10.45 فی صد حصہ ہے۔
  2. ریاست میں  ملک کی مجموعی آبادی کا 5.76 فی صد حصہ رہتا ہے  اور یہاں پر  شہر کاری کی  شرح  24.9 فی صد ہے۔
  3.  راجسھتان میں آبادی کی گنجانی  200 ہے  جو کہ  ملکی سطح کے اوسط 382 کے  مقابلے میں قومی اوسط سے بہت کم ہے۔
  4. یہاں پر  اگرچہ  ملک کی مجموعی آباد  ی کا 5.76 فی صد حصہ آباد ہے    لیکن  14ویں مالی کمیشن   میں ریاست کو تفویض کیا گیا حصہ 5.495 تھا۔
  5. دیگر عام زمرے کی ریاستوں   کے مقابلے میں  جی ایس وی اے کے لئے بنیادی شعبے کا تعاون زیادہ ہے۔ سال 18-2017  میں  جی ایس وی اے نےبنیادی   ثانوی اور ثلاثی شعبے کا حصہ بتدریج   33،23 اور 44 فی صد ہے۔
  6. یہاں پر  18-2017 میں  فی کس آمدنی  98،078 روپے  قومی سطح کے اوسط  1،14،958 کے اوسط سے کم ہے۔
  7. 18-2017 میں ریاست سے موصولہ  مجموعی ریونیو   میں سے  مرکز کے ذریعہ    ریاست کو  تقریباً 48.6 فی صد کی  منتقلی کی گئی۔
  8. راجستھان تیسری   سب سے زیادہ  شمسی  صلاحیت    یعنی  3072.43 میگاواٹ  (مارچ 2019 تک) والی ریاست بھی ہے۔
  9. راجستھان اسٹیٹ  انڈسٹریل  ڈیولپمنٹ  اینڈ انویسٹمنٹ  کارپوریشن لمیٹیڈ لمیٹیڈ (آر آئی آئی سی او)  اور جاپان ایکسٹرنل   ٹریڈ آرگنائزیشن  (جیٹرو) نے  2006 سے 2016 تک کی مدت کے دوران راجستھان ریاست میں جاپانی سرمایہ کاری   کی سہولت فراہم کرانے کے لئے تعاون کیا ہے۔
  10. او این جی سی کے ذریعہ چلائے جانے والے بامبے  ہائی   آف شور  فیلڈ کے بعد   راجستھان ، ہندستان میں  دوسری سب سے زیادہ  خام تیل پیدا کرنے والی ریاست ہے۔

راجستھان میں سیاحت کے امکانات:

ریاست میں  اورغیر ملکی سیاحوں کے ساتھ ساتھ  گھریلو سیاحوں کے لئے بھی   سیاحت کے ایسے بہت سے امکانات ہیں   جن سے ابھی تک   استفادہ نہیں کیا گیا ہے  ا س سے  روزگار سے مزید   مواقع پیدا ہونے کے ساتھ ساتھ معیشت     کے فروغ  کو تعاون ملے گا۔

  •  ایک نظر میں سیاحت سےمتعلق اعدادوشمار 2018 کے مطابق  سال 2017 میں ملک میں آنے والے تمام  غیر ملکی  سیاحوں کو  اپنی جانب راغب کرنے والی ہندستان کی سبھی ریاستوں میں    راجستھان کا درجہ  پانچواں رہا۔  سال 2017 میں راجستھان ریاست  نے ہندستان آنے والے    تمام غیر ملکی سیاحوں   کے چھ فی صد حصے کو راغب کیا۔
  • سال 2017  میں    ملک   کا دورہ کرنے والے  گھریلو سیاحوں   کو راغب کرنے والی تمام ہندستانی ریاستوں میں راجستھان کا درجہ دسواں رہا۔  سال 2017 میں راجستھان ریاست میں    تمام گھریلوں سیاحوں میں سے 2.8فی صد سیاحوں کو راغب کیا۔

مثبت نکات:

  1. غربت: ۔ ریاست میں  غریبی کو  کم کرنے میں  قابل ذکر  کامیابی حاصل کی ہے، اس نے اس طرح  ایس ڈی جی 1  کے تئیں  اپنی  عہد بندی ظاہر کی ہے۔  سال 05-2004 میں ریاست میں غربت کا تناسب  34.4 (تناسب   غریبی کی سطح سے  نیچے رہنے والی آبادی تندولکر طریقہ کار) فی صد  کم ہوکر  12-2011 ،میں 14.7 پرآگیا ۔
  2. تعلیم

اے ایس  ا ی آر 2018 رپورٹ (اسکولوں میں کھیلوں کی بنیادی ڈھانچوں سے متعلق حصہ)  کے مطابق  اعلی سطحی ریاستوں  کے درمیان  راجستھان میں  تقریباً آدھے اسکولوں میں  اسی کام کے لئے  وقت  فزیکل ایجوکیشن ٹیچر دیکھا گیا۔   اس معاملے میں     کیرل، بہار اور کرناٹک   کے بعد ا سکا نمبر آتا ہے۔

  1. پرائمری اسکولوں میں طلبا کی حاضری  2016 کی سطح سے   تین فی صد  یا اس سے بھی زیادہ بہتر ہوئی ہے۔
  2. جنگلات کی موجودگی: فاریسٹ سروسے آف انڈیا کے مطابق ریاست میں  2015 کے مقابلے میں  2017 میں  جنگلات میں  2.48 کا اضافہ   دکھایا گیا ہے۔    اس سے    ریاست میں   ماحولیاتی  توازن    برقرار رکھنے میں ریاست کی عہد بندی کا پتہ چلتا ہے۔
  3. ریاست میں خواندگی کی کم شرح اور  تعلیم کی  کم  سطح    جیسے معاملات کو حل کرنے کے لئے   درج ذیل   قسم کے   کئی اقدامات کئے گئے ہیں۔
  • 2 لاکھ ٹیچروں کا تقرر۔  ہر ایک پنچایت میں   ماڈل اسکولوں کا قیام۔
  • اسکیموں کو چلانے   ، ان کی نگرانی کرنے اور جائزہ  لینے  کے لئے  خواندگی   کے  گرا م پنچایت کے انچارج کے طو رپر   پنچایت  ایلمنٹری ایجوکیشن   آفیسر (پی ای ای او) کا عہدہ قائم کیا گیا ہے۔
  • لڑکیوں کو مفت سائیکلوں کی تقسیم ، اسمارٹ ورچوئل کلاس وغیرہ۔
  1. ریاست میں  انٹی گریٹیڈ فائنینشل  منجمنٹ سسٹم (آئی ایف ایم ایس) کی تیار کے معاملے میں  کافی  پیش رفت ہوئی ہے:
  •  بجٹ تیار کرنے کا کام  بجٹ موڈیول کے ذریعہ  اور  اکاؤنٹنگ کا کام  ٹریزری موڈیول کے ذریعہ کیا جارہا ہے۔
  • سی اے جی /اے جی انٹرفیس موڈیول  اور آن لائن  ریکنسیلیشن  موڈیول  نافذ کئے جانے کے عمل میں ہیں۔
  • مقامی اداروں جو کہ  فی الحال ریاست میں  اکاؤنٹنگ  کی سب  سے کمزور کڑی ہے، کےذریعے فنڈ کے استعمال   کی نگرانی   کی سہولت   مہیا کرانے کے لئے آئی ایف ایم اے میں مقامی اداروں کی اکاؤنٹگ  کی یکجائی  ۔
  1. متوازن میمورنڈم : ریاست کے ذریعہ جمع کرائے گئے میمورنڈم میں  مساوات اور اہلیت کے اشاریوں کے  ریاست نے قومی ترجیح  کے پروگرام   مثلاً جی ایس ٹی نیٹ کی توسیع اور اسے گہرا بنانے  کی ریاستی کوشش دوسرا    اہم اسکیموں  ، پائیدار ترقیاتی مقاصد وغیرہ کے حصول کی کوششیں  سے   متعلق  اشاریوں کی بنیاد پر  کارکردگی کے لئے مختلف   اشاریے  پیش کئے ہیں۔

مالیاتی کمیشن   کے باعث تشویش   معاملات درج ذیل ہیں:

  1.  ریاست  میں جی ایس ڈی پی  کے بڑھتے ہوئے  بقایا قرض کی   تعداد میں  اضافہ کا رجحان دکھائی دے رہا ہے۔  جی ایس ڈی پی سے قرض کے تناسب  جو کہ  سال 13-2012  میں  23.87 فی صد  تھا،   18-2017 میں بڑھ کر 34.15 فی صد ہوگیا۔
  2. یو ڈی اے وائی:  سال 16-2015 اور 17-2016 کی مدت کے دوران  راجستھان حکومت نے   62،422 کروڑ روپے کے کل قرض  کے 75 فی صد سے زیادہ حاصل کیا۔  گزشتہ برسوں میں راجستھان حکومت کی   2 عددی   قرض میں نمو کی شرح  مالیاتی  عاقبت اندیشی  کی  شرائط کی خلاف  ورزی ہے۔

ریاست کے   ذریعہ محصولات کی وصولی اور محصولات کے اخراجات کے درمیان بڑھتا ہوا فرق –

  1. ۔ریاست میں محصولات کی وصولی اور اخراجات  میں اضافہ کی  ناپائیدار  صورتحال نظر آرہی ہے جہاں  محصولات کی حصولیابی   کی نمو  میں بڑا انتشار دیکھا  گیا ہے۔

بجلی کے شعبے، خصوصی طور پر یو ڈی  اے وائی  کے معاملے میں :

  1. ریاست نے  فیڈر میٹرنگ  ،  دیہی  فیڈر آڈٹ اور فی یونٹ  اے سی ایس- اے آ ر آر  کا فرق کم کرنے   کے معاملے میں   سو فی صد   ترقی کی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ  حکومت  راجستھان نے یو ڈی اے وائی  اسکیم کے مطابق  تمام مالیاتی   تشکیل نو  (قرض سبسڈی ، ایکویٹی) کے کام انجام دیئے ہیں۔   لیکن    کام کاجی اصلاحات اور    صلاحیت سے متعلق اصلاحات کے معاملے میں  اہداف سے پیچھے ہے۔
  2. ریاست نے   دیہی علاقوں میں ڈی ٹیز کی  ابتدائی میٹرنگ نہیں کی ہے    ۔فیڈر علیحدگی کے معاملے میں    کمزور کارکردگی دیکھی گئی ہے۔ ریاست نے 19-2018 تک اے ٹی اینڈ سی  کے نقصان کو 15 فی صد کم کرنے  کا ہدف حاصل نہیں کیا ہے۔
  3. جولائی 2018 تک  مجموعی طور پر  92.21 لاکھ  گھروں  میں سے   71.82 لاکھ گھروں  (77فی صد) تک بجلی پہنچائی گئی ہے۔  بقیہ 20.38 لاکھ  (22.10)   گھروں تک ابھی بجلی نہیں پہنچی ہے۔
  4. دیہی گھریلو   شخصی  صارفین تک   بجلی کی 24 گھنٹے بلارکاوٹ مناسب سپلائی   کے مقصد سے    بجلی کی سپلائی اور خدمات  میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔
  5. ٹی اینڈ ڈی نقصان اور ڈسٹری بیوشن ٹرانسفارمرس (ڈی ٹی)  کی خرابی کی شرح  کو کم کرنا  ریاستی حکومت کی ترجیح ہونا چاہئے۔
  6.  صارفین کی غلط  زمرہ بندی اور  صارفین کو بل نہ بھیجے جانے  یا تاخیر سے  بل بھیجے جانے پرروک لگنی چاہئے۔

کمیشن نے محسوس کیاکہ :

  1. اگرچہ  تیسرے ٹیئر کے  اداروں کے ڈاٹا بیس فارمیٹ کو   ماڈل اکاؤنٹنگ سسٹم   سےمنسلک کیا گیا ہے اور اس کے     اعدادوشمار مثلاً  سالانہ    حصولیابی اور ادائیگی    ماہانہ    تصفیہ جامع    ابسٹریکٹ رجسٹر  تیار کئے جارہے ہیں لیکن     محض چند پی آر آئیز نے ماہانہ    تصفیے کئے ہیں۔
  2. گرانٹس پر انحصار اور مالیاتی  خودمختاری کا فقدان  باعث تشویش  ہے اور  نچلی سطح پر حکمرانی کو بہتر بنانے کے لئے اس کو   درست کئے  جانے کی ضرورت ہے۔

خواہش مند اضلاع

بارن  ، دھول پور ، جیسلمیر، کرولی اور سروہی   کے خواہش منداضلاع کے سماجی ، اقتصادی   ترقی کے اشاریوں  کو   بہتر بنانے پر خصوصی توجہ مرکوز کرنی ہوگی۔

تکنیکی ہنر مند لوگوں کی کمی

  1. نیتی آیوگ کے  مطابق   ریاست میں تکنیکی اہلیت رکھنے والے کارکنوں کی کمی کی تشویش کی ایک وجہ ہے ۔
  2. ہنر مند  افراد کی  متوقع دستیابی    ریاست میں   متوقع ضرورت   کے  آدھے سے تقریباً  2.17 کم ہیں۔

پینے کے پانی  کا سخت مسئلہ

  1. ریاست میں  محض  1.1 فی صد  سطح والا پانی اور  2.5 فی صد  زیر زمین  آبی وسائل ہیں۔   ہندستان میں پانی کی فی کس دستیابی   1700 مکعب میٹر  سالانہ   ہے جب کہ راجستھان میں   دستیابی  محض 640 میٹر سالانہ ہے۔
  2. ریاست میں زیر  زمین  پانی  کی حالت  گزشتہ دو دہائیوں میں بہت زیادہ پانی نکالنے  سے خطرناک    سطح تک پہنچ گئی ہے ۔ ریاست میں  کل 295 بلاکوں میں  سے محض 52 بلاک محفوظ ہیں، 191 سے بہت  زیادہ پانی نکالا گیا ہے ، 11 کی حالت خراب ہے  اور تین کا پانی پینے لائق نہیں ہے۔

ناکافی  ٹرانسپورٹ بنیادی ڈھانچہ

  1. سڑک کی لمبائی کے معاملے میں راجستھان قومی اوسط سے ابھی بہت پیچھے ہے۔
  2. 18-2017 میں ریاست میں سڑکوں کی کل لمبائی تقریباً 1 لاکھ 89 ہزار 825 کلو میٹر تھی   ۔ریاست میں قومی شاہراہوں کی لمبائی تقریباً 9271 کلو میٹر ہےجبکہ    ریاستی شاہراہوں   کی لمبائی تقریباً 15 ہزار  32 کلو میٹر ہے۔

ساتواں پے کمیشن

  1. ریاست ساتویں  پے کمیشن کے بوجھ سے دبی جارہی ہے۔ یکم جنوری 2016 سے ساتویں پے کمیشن کو نافذ کرنے   کی وجہ سے  تنخواہوں او رپنشن کے اخراجات پر کافی اثر پڑا ہے اور  گزشتہ دو   برسوں کے دوران  بڑے پیمانے پر   عہدے بھی تشکیل دیئے گئے ہیں۔

ٹرانسپورت کا شعبہ: ٹرانسپورٹ کے  شعبے  کی اصلاح اور تشکیل نو کی ضرورت ہے۔  

ٹرانسپورٹ شعبے میں  آر ایس ٹی آر سی  گزشتہ چند برسوں سے مسلسل خسارہ میں ہے    اس کی وجہ     فی کلو میٹر  آپریشن کی لاگت   فی کلومیٹر   آمدنی کےمحصولات کے مقابلے میں    زیادہ ہے۔

اس سے قبل  کمیشن نے   ریاست کی تمام جماعتوں بشمول  بھارتیہ جنتا پارٹی  ، انڈین نیشنل کانگریس ، کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا ،  کمیونسٹ پارٹی انڈیا (مارکسٹ ) اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی کے نمائندوں کے ساتھ   تفصیلی میٹنگ کی۔  کمیشن نے   پارٹیوں کے ذریعہ اٹھائے گئے تمام  معاملات کواس کی سفارش کے مطابق  معینہ مدت میں  حل کئے جانے کے لئے     نوٹ کیا  ۔

About admin