پانی سے متعلق مسائل اب ہماری ترجیح ہونی چاہئے: یو پی سنگھ

Image default
Urdu News

نئی دہلی؍: آبی وسائل، دریائی ترقیات اور گنگا کے احیاء کی وزارت کے سکریٹری جناب یوپی سنگھ نے اس بات پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک کے مختلف خطوں میں پانی کے بحران کی اطلاعات کے باوجود پانی سے متعلق مسائل کو ہماری روزمرہ کی گفتگو اور ہماری سماجی تشویشات میں مناسب جگہ نہیں ملی ہے۔ ٹیلی مواصلات اور آٹوموبائل کے سیکٹر میں نئی ترقیات کی جانب نہایت آسانی سے ہماری توجہ مبذول ہوئی ہے اور ہمارے مرکزی اسٹیج میں اس کو جگہ ملی ہے، لیکن پانی جو کہ پوری زندگی کا ذریعہ  اورسرچشمہ ہے اور ہماری متعدد ضروریات کے لئے لازمی ہے، وہ  معاشرتی مسائل میں  اب بھی کوئی موضوع نہیں ہے۔ آج نئی دلی میں واٹر ڈائجسٹ کے ذریعے ‘‘پانی کی بازیابی، فطرت کی بازیابی-دوم’’ کے موضوع پر  منعقدہ کانفرنس کے  افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کا معیار صنعتی آلودگی کے سبب دن بدن بد سے بدترہوتا جا رہا ہے۔ ہماری زندگی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے، پانی کے معیار کو برقرار رکھنے کے لئے نئی ٹیکنالوجیوںکو فرو غ دینے کی ضرورت ہے۔

اس کانفرنس کا اہتمام پانی  اور متعلقہ مسائل کےبارے میں بیداری پھیلانے،نیزپانی سےمتعلق  کارروائیوں کو فروغ دینے کے لئے کیا گیا تھا۔اس کانفرنس کا بنیادی مقصداقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف(ایس ڈی جی) کے مطابق  ایک ایسا پلیٹ فارم تیار کرنا تھا، جہاں پانی کے تحفظ  اور بندوبست سے متعلق بہترین تصورات   کو اُجاگر کرنے کے لئے گفتگو کی جا سکے ۔

مرکزی آبی کمیشن کے چیئرمین جناب مسعود حسین نے پانی کے بندوبست کی ضرورت پر زور دیا تاکہ  پوری آبادی کےلئے پینے کے پانی ، آب  پاشی اور صنعتی شعبے کی  ضرورتوں کی تکمیل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ 80فیصد پانی کا استعمال زراعت کےلئے کیا جا رہا ہے۔ مائیکروآب پاشی ، چھڑکاؤ آب پاشی کے طریقۂ کار کو فروغ دیا جانا چاہئے تاکہ پانی کا مؤثر استعمال ہو سکے۔ سول سوسائٹی اب تک پانی کے بحران سے متعلق تمام پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر ہے۔ عوام کو اس بارے میں آگاہ کرنے کےلئے عوامی بیداری تحریک کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیرزمین پانی کے بہت زیادہ استعمال اور پانی کے استحصال کو چیک کرنے کے لئے دریاؤں کے پانی کی بین طاس منتقلی ، مائیکرو آب پاشی تکنیک ، پانی کی ری سائکلنگ اور پانی کو دوبارہ استعمال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

این ایم جی سی کے ڈائریکٹر جنرل جناب راجیو رنجن مشرا نے کہا کہ ہم صحیح معنوں میں اپنے دریاؤں کی حفاظت کی جانب توجہ  نہیں دے رہے ہیں، جبکہ یہ حقیقت ہے کہ دریا ہمارے وجو د اور بقا کے لئے نہایت  ضروری ہے۔ ہمیں دریاؤں کی آبی زندگی، حیاتیاتی تنوع اور  دریائی نباتات اور حیوانات سے متعلق بیداری پھیلانے کی ضرورت ہے تاکہ یہ ہمارے گھروں میں روزمرہ کی گفتگو کا موضوع بن سکے اور ہم  اپنے دریاؤں کی جانب مزید توجہ دینے والا رویہ اپنا سکیں۔

اس کانفرنس میں صنعت، سرکاری اداروں، ترقیاتی ایجنسیوں اور تعلیمی اداروں سے  تعلق رکھنے والے تقریباً 150 افراد نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران ‘‘ سبھی کے لئے پانی : پانی کے دستیاب وسائل سے متعلق گفتگو اور  پائیدار ترقیاتی اہداف کو حاصل کرنے کے لئے درکارکوششوں کے لئے ایک پلیٹ فارم’’، ‘‘ آب پاشی– پانی کے دستیاب وسائل کو متوازن بنانے اور ٹیکنالوجیکل اختراعات  کو اپنانے کے لئے  حکمت عملی ’’ اور ندیوں  سے متعلق  معاون دریاؤں کی حفاظت ’’  جیسے موضوعات پر پینل مذاکرے کے ساتھ تین اجلاسوں کا اہتمام کیاگیا۔

Related posts

صدر جمہوریہ نے ڈاکٹر شنکر دیال شرما کو ان کے یوم پیدائش کے موقعے پر گلہائے عقیدت پیش کیا

بجلی کے وزیر آر کے سنگھ نے ایئرکنڈیشننگ کے شعبے میں توانائی کی بچت کو فروغ دینے کی مہم کا آغاز کیا

بھارتی پینورما نے بھارت کے 49ویں بین الاقوامی فلم فیسٹول 2018کیلئے باقاعدہ انتخاب کا اعلان کیا