ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال اور انٹیگریشن اپروچ انقلابی گورننس اور پنشن اصلاحات دونوں کےجڑواں ستون ہیں: ڈاکٹر جتیندر سنگھ

Urdu News

مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج) سائنس اور ٹیکنالوجی کی وزارت؛ وزیر مملکت (آزادانہ چارج) ارتھ سائنس کی وزارت؛ وزیر اعظم کے دفتر اور وزارت عملہ، عوامی شکایات اور پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کی وزارت کے وزیرمملکت، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج 8 سال کے انتظامی اور پنشن اصلاحات (2014-2022) پر ایک کتاب اور اس کا ای-ورژن جاری کیا۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کے تحت آٹھ سالہ انتظامی اور پنشن اصلاحات کا مقصد سماجی تبدیلی ہے۔

نئی دہلی میں انتظامی اصلاحات اور پنشن اصلاحات (2014-2022) پر ایک ویبینار میں افتتاحی خطاب کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، گزشتہ آٹھ سال، ٹیکنالوجی کا بڑے پیمانے پر استعمال اور انضمام کا طریقہ انقلابی گورننس اور پنشن اصلاحات دونوں کے جڑواں ستون ہیں۔

پنشن اصلاحات پر بات کرتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، جب سے نریندر مودی 2014 میں اقتدار میں آئے ہیں، پنشن اور پنشنرز کی بہبود کے محکمے نے طلاق یافتہ بیٹیوں اور دیویانگوں کے لیے فیملی پنشن کی فراہمی میں نرمی سمیت متعدد انقلابی اصلاحات متعارف کروائی ہیں۔ عمر رسیدہ پنشنرز کے لائف سرٹیفکیٹ جمع کرانے میں آسانی کے لیے موبائل ایپ کے ذریعے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی، الیکٹرانک پنشن پے آرڈر، پنشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے محکمہ ڈاک کی مدد وغیرہ ان اصلاحات میں  شامل ہیں۔

انہوں نے کہا، اس کے علاوہ کسی متوفی سرکاری ملازم/پنشنر کے معذور بچے کو فیملی پنشن کی توسیع یا مرنے والے سرکاری ملازم/پنشنر کے دیویانگ بچوں کے لیے فیملی پنشن کے مراعات میں بڑا اضافہ جیسے اقدامات نہ صرف پنشن اصلاحات ہیں بلکہ یہ سماجی اصلاحات کے وسیع مضمرات ہیں۔

لاپتہ مرکزی حکومت کے ملازمین کے لیے فیملی پنشن کے قوانین میں نرمی کے لیے گزشتہ ماہ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ یہ اقدام انتہا پسندی سے متاثرہ اور تشدد کے شکار علاقوں میں کام کرنے والے ملازمین میں اعتماد پیدا کرے گا۔ انہوں نے کہا، نئے قاعدے نے سات سال کے لازمی انتظار کو ختم کر دیا ہے اور، تمام معاملات میں، جہاں این پی ایس کے تحت آنے والا کوئی سرکاری ملازم دورانِ سروس لاپتہ ہو جاتا ہے، لاپتہ سرکاری ملازم کے خاندان کو فیملی پنشن کے فوائد فوری طور پر ادا کیے جائیں گے، اور اگر وہ دوبارہ حاضر ہوتا ہے اور دوبارہ سروس شروع کرتا ہے، تو اس کی گمشدہ مدت کے درمیانی مدت کے دوران فیملی پنشن کے طور پر ادا کی گئی رقم اس کے مطابق اس کی تنخواہ سے کاٹی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم کے حکم پر، محکمہ نے ریٹائر ہونے والے اہلکاروں کے حکومت کے تجربات کو ظاہر کرنے کے لیے ’’انوبھو‘‘کے عنوان سے ایک پورٹل بھی شروع کیا جو اب ہمارے لیے ایک بہت بڑے وسیلے کی بنیاد بن گیا ہے۔ محکمہ نے نہ صرف پنشن عدالت کا تصور متعارف کرایا بلکہ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ڈیجیٹل عدالتوں کے انعقاد کے لیے ٹیکنالوجی کا فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2017 سے اب تک تقریباً 22,494 پنشنرز کی شکایات کا ازالہ کیا جا چکا ہے اور پنشن عدالتوں میں 16,061 معاملات کا موقع پر ہی حل کیا گیا ہے۔ وزیر موصوف نے کہا، پنشن اور پنشنرز کی بہبود کے محکمے نے تمام وزارتوں کے آخر تک ڈیجیٹائزیشن کو یقینی بنایا ہے۔اس کے لیے آئیڈیاز درج کیے جیسے کہ ایک گزیٹیڈ افسر کے ذریعے دستاویزات کی تصدیق کے صدی پرانے نوآبادیاتی عمل کو ختم کرنا اور اسے خود تصدیق کے ذریعےتبدیل کرنا، گروپ-بی (نان گزیٹڈ) کے انٹرویو کو ختم کرنا۔ اور 2016 سے مرکزی حکومت میں گروپ – سی کے عہدوں پر، نئے آئی اے ایس افسران کے لیے اسسٹنٹ سکریٹری کے طور پر تین ماہ کا مرکزی عہدہ، پی ایم ایکسیلنس ایوارڈ کی نوعیت میں تبدیلی اور تقریباً 1450 قواعد کو ختم کرنا، جو کہ متروک ہو چکے ہیں۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ 2014 کے بعد پی ایم ایکسیلنس ایوارڈ کے عمل اور انتخاب کو ادارہ جاتی شکل دی گئی ہے اور اب یہ ضلع کلکٹر یا انفرادی سرکاری ملازم کی کارکردگی کے بجائے ضلع کی کارکردگی پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا، ایک اور بہتری لائی گئی ہے جو ضلع میں فلیگ شپ اسکیموں کے نفاذ کے پیمانے اور درجہ بندی کا اندازہ لگانا ہے۔

مشن کرم یوگی کے “رول سے رول کی طرف” جانے کے مرکزی منتر کا حوالہ دیتے ہوئے، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا، سرکاری ملازمین کو ایک نئی اور چیلنجنگ اسائنمنٹ کے لیے خود کو تربیت دینا چاہیے کیونکہ حکومت کی زیادہ تر فلیگ شپ اسکیمیں اب سائنس اور ٹیکنالوجی پر مبنی ہیں۔

Related posts

محکمہ صحت کے سکریٹری نے ایم ایچ ایم کے قومی جائزے کی صدارت کی

صدر جمہوریہ نے کیرل کے دورے کے دوران تھریواننتھا پورم میں ٹیکنوسٹی پروجیکٹ کا آغاز کیا اور ٹیکنوسٹی میں حکومت کی پہلی عمارت کیلئے سنگ بنیاد رکھا

جموں و کشمیر 100 دن میں ہر اسکول اور آنگن واڑی سینٹر میں پائپ کے ذریعے پینے کے پانی کی سپلائی کو یقینی بنانے کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن کو پورا کرنے کے لئے تیار