وزیر صحت ڈاکٹر ہرش وردھن نے ہندوستانی صنعتوں کے کنفیڈریشن کی قومی کونسل سے خطاب کیا

Image default
Urdu News

صحت وخاندانی بہبود کے مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن نے آج یہاں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے ہندوستانی صنعتوں کی کنفیڈریشن کی نیشنل کونسل کے ساتھ بات چیت کی۔ ہندوستانی صنعتوں کی کنفیڈریشن سی آئی آئی کو مختلف پلیٹ فارموں کو ایک ساتھ لانے اور گوناگو پلیٹ فارموں کا اہتمام کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے ڈاکٹر ہرش وردھن نے کہا ہ بھارت کی حفظان صحت کی صنعت روزگار فراہم کرنے اور مالیے کے اعتبار سے ہندوستان کا ایک سب سے بڑا شعبہ ہے اور 2022 تک اس کی ماریٹ میں تین گنا اضافہ ہوکر 8.6 ٹریلین ہوجائے گی۔گوناگو پلیٹ فارموں کا اہتمام کرنے اور انہیں ایک ساتھ لانے کے نتیجے میں حکومت ہند کو دنیا کی ایک سب سے بڑی آبادی کی فلاح وبہبود کے لئے عالمی وبا پر مسلسل مذاکرات اور غور وخوض کرنے کا اہل بنایا ہے۔

یہ ضروری ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے شراکت داروں کو اس بات کی اجازت ملے گی کہ وہ صنعت کے اندر احاطہ کریں۔ حفظان صحت فراہم کرنےکی ضرورت جو قابل رسائی اور سستی بھی ہے اب پہلے سے کہیں زیادہ ان اثرات کی وجہ سے ضرورت بن گئی ہے جو کہ کووڈ نے ہمارے تمام نظام پر ڈالا ہے۔

آتم نربھر بھارت ابھیان کے تحت پردھان منتری جن آروگیہ یوجنا (پی ایم جے اے وائی) شروع کرنے میں حکومت کی کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے جو کہ عوام تک قابل رسائی اور سستی حفظان صحت کو یقینی بنانے کے لئے درست سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ انہوں ے کہا کہ بھارتی حفظان صحت کا منظر نامہ دیہی شہری سیٹنگ کے اندر رہنے والے نابرابری کے ساتھ فرق کو پیش کرتا ہے اور اس فرق کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور حکومت وزیر اعظم نریندر مودی جی کی سربراہی میں اس فرق کو ختم کرنےکے تئیں عہد بستہ ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ سرکاری نجی شراکت داری آگے بڑھنے کا راستہ ہے، کیونکہ وہ صلاحیت اور اختراع کی بہتری مدد کرتا ہے۔ تاثیر بڑھاتا ہے، دیہی اور شہری نابرابری کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ اداروں نے پولیو کو جڑ سے ختم کرنے میں شاندار رول رسائی بڑھاتا ہے اور ہمارے آؤٹ آف پاکٹ صحت اخراجات کو کم کرتا ہے۔

ملک میں نہ صرف کووڈ سے نمٹنے میں بلکہ غیر کووڈ لازمی حفظان صحت فراہم کرنے میں انفارمیشن ٹکنالوجی کے استعمال میں وزارت صحت کی شاندار حصولیابیوں کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ہمیں صلاحیت کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے، جبکہ ٹکنالوجی نے ہم کو دی ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج ای سنجیونی ٹیلی کنسلیٹشن سروس نے 8 لاکھ ٹیلی کنسلٹیشن مکمل کرلیے ہیں۔

پولیو کے خلاف اپنی مہم میں اپنے خود کے تجربے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ہر کو یاد دلایا کہ سی آئی آئی، دلی چیمبرس آف کامرس اور روٹری کلب جیسی نجی تنظیموں کو اخراجات برداشت کرنے کے لئے آگے آنا چاہئے اور اسے کامیاب بنانا چاہئے۔

ڈاکٹر ہرش وردھن نے سرکاری نجی سیکٹروں کے درمیان تعاون کے ثبوت کے طور پر کووڈ سے نمٹنے کی ہندوستان کی کوشش کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا ملک پی پی ای کٹس بنانے والا ایک سب سے بڑا ملک بن گیا ہے۔ ہم کچھ سال پہلے تک ٹیسٹنگ کے لئے سی ڈی سی ایٹلانٹا کو نمونے بھیجتے تھے لیکن اب ہمارے ملک میں پرائیویٹ ٹیسٹنگ لیب ہیں جو ملک کی ٹیسٹنگ کی کل صلاحیت کو پورا کرنے میں تعاون دے رہے ہیں۔ انہوں نے کووڈ جانبازوں خصوصاً انکی ماوؤں کی بھی تعریف کی جنہوں نے صحت کے جوکھم کو جانتے ہوئے بھی اپنے بچوں کو فرض نبھانے سے نہیں روکا۔

ڈاکٹر ہرش وردھن لوگوں کو یقین دلایا کہ کووڈ ویکسین وقت پر دستیاب کرائی جائے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے کہاکہ حکومت نے مشن اندر دھنش کے تحت 12 بیماریوں سے بچوں کو نجات دلانے کے لئے ایک مناسب کوڈ اسٹوریج چین کے ساتھ اپنی ٹیکہ کاری کی صلاحیت کو پہلے ہی بڑھا دیا ہے۔

Related posts

پردھان منتری آواس یوجنا -8 ریاستوں کے کل 1،12،213 مکانات کی شہری منظوریوں سے متعلق منظوری اور نگرانی کی مرکزی کمیٹی (سی ایس ایم سی ) کی 37ویں میٹنگ

مرکزی وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے جموں سینٹرل یونیورسٹی کے کیمپس میں پنڈت مدن موہن مالویہ کے نام پر نئے تعلیمی احاطہ کا سنگ بنیاد رکھا

جی ایس ٹی کے تحت مجموعی طور پر 17،616 کروڑ روپے کا ری فنڈ جاری ، آئی جی ایس ٹی سے متعلق 90فیصد دعوؤں کو منظوری