وزارت سیاحت نے ‘دیکھو اپنا دیش’ سیریز کے تحت ‘باگھ اور سیاحت’کے موضوع پر ویبینار کااہتمام کیا

Image default
Urdu News

وزارت سیاحت نے 21 مئی 2020 کو‘دیکھو اپنا دیش’ ویبینار سیریز کے تحت ‘باگھ اور سیاحت’ کے موضوع پر اپنے نئے ویبینار کااہتمام کیا۔ ویبینار ہندوستان میں باگھوں کے رہائشی علاقوں کی مالامال وراثت اور ہندوستان میں سیاحت کے ساتھ  اس کے تعلق کے بارے میں تھا۔ وزارت سیاحت کی ایڈیشنل ڈائرکٹرجنرل محترمہ روپندربرار نے اس اجلاس  کی نظامت کے فرائض انجام دیے جبکہ جنگلی جانوروں کے تحفظ کے شعبے میں کام کرنے والے مشہورفوٹوگرافر اور فلم ساز، نیشنل جیوگرافک  فیلو ، فوٹو گرافی میں بافٹا کے انعام یافتہ اور شاندار سینیمٹو گرافی کیلئے ای ایم ایم وائی نامزد جناب سندیش کدور نے اس ویبینار کو پیش کیا۔

اگُمبے کے سرمئی جنگلوں کے بیچ جناب سندیش نے اپنے بچپن میں سفر کے دوران باگھ اور سیاحت پر ایک گھنٹہ لمبی بات چیت شروع کی جب وہ مشہور برطانوی شکاری جم کاربیٹ کی کتابیں پڑھتےتھے اور بالآخر جنگلی بڑی بلیوں کے بارے میں جاننے کیلئے  تحریک پاتے تھے۔ لگ بھگ آٹھ سال پہلے انہوں نے باگھ اور سیاحت پر ایک ویڈیو تیار کرنے کیلئے پورے ہندوستان کا سفر کیا جس سے انہوں نے سمجھا کہ ہندوستانی سیاحت ان طاقتور دھاری دار جانوروں کی بڑی آبادی سے کیسے متاثر ہے۔

جناب سندیش نے بتایا کہ اگرچہ باگھوں کے تئیں انسانوں کی کشش صدیوں سے موجود ہے، ہندوستان کے جنوب مغربی  کمیونٹی کے ذریعے سے قریبی تعلق کوکامیابی کےساتھ دیکھا گیا ہے جو مندر سے مندر اور گاؤں سے گاؤں تک پیدل چلنے والے باگھ دھاریوں میں خود کی مصوری کرکے بھاگوں کے تئیں اپنی عقیدت کامظاہرہ کرتے ہیں۔ ساحلی کرناٹک میں ا یک مشہور لوک رقص ہولی ویشا یا پیلی ییسائس نوراتری کے دوران دیوی دُرگا کے اعزاز میں کیا جاتا ہے جن کا پسندیدہ جانور باگھ ہے۔

دنیاکے باگھوں کی 70 فیصد آبادی ہندوستان کے مختلف علاقوں میں پائی جاتی ہے جس میں فی الحال ملک بھر میں پھیلے 50 ریزرووں میں بڑی بلیوں کی لگ بھگ 15 اقسام موجود ہیں۔ شمال میں اتراکھنڈ میں واقع جم کوربیٹ نیشنل پارک سے شروع ہوکر آسام (شمال مشرق) میں قاضی رنگا نیشنل پارک کی  نم آراضی اور مغربی بنگال (مشرق کے سندر بن سے لیکر راجستھان میں رنتھم بور نیشنل پارک کی خشک زمین، وسطی بھارت میں مدھیہ پردیش میں کانہا اور باندھوگڑھ ٹائیگر ریزرو سے لیکر مغربی گھاٹوں کے برساتی جنگلوں میں مثلاً ناگرہول نیشنل پارک ، پیریارٹائیگر ریزرو، باندی پور نیشنل پارک اور انّا ملائی ٹائیگر ریزرو، جنوبی بھارت میں مدوملائی نیشنل پارک جیسے کئی دیگر مقامات پر ان بڑے جانوروں کو محفوظ رکھا گیا ہے۔

دستاویزی فلم وائیلڈ کیٹس آف انڈیا کے فلم سازسندیش کدورنے زور دیکر کہا کہ ایک ذمہ دار سیاح ہونے اور ایک ساتھ رہنے کی مشق کرنے سے ان بڑی بلیوں کی زندگی کی حفاظت کرنے کا لمبا راستہ طے ہوگا۔ جنگلی حیوانات میں ہندوستان کی تعجب خیز تنوع لوگوں کو بڑی تعداد میں ملک کا دورہ کرنے کیلئے راغب کرتی ہے اور ایسی بھیڑ جانوروں، باغوں کیلئے خطرہ ہوسکتی ہے اگر پائیداری کو مرکزی نقطہ نہیں بنایا جاتا ہے۔

دیکھو اپنا دیش ویبینار سیریز 14 اپریل 2020 کو شروع کی گئی تھی، اب تک 22 اجلاسوں میں ملک بھر کے مختلف سیاحتی مصنوعات اور تجربات کو اجاگر کیا جاچکا ہے۔ اس سیریز نے اب تک 90ہزار سے زیادہ سیاحوں کو اپنی طرف راغب کیا ہے۔

مواصلات اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی وزارت (ایم ای آئی ٹی وائی) کے ذریعے  قائم کردہ نیشنل ای۔ گورننس ڈویزن (این ای جی ڈی) ایک پیشہ ور ٹیم کے ساتھ براہ راست تکنیکی  تعاون فراہم کرکے دیکھواپنا دیش ویبینار سیریز کو چلانے میں وزارت کا تعاون کرنے میں اہم کردار نبھارہا ہے۔

ویبینار کے اجلاس اب https://www.youtube.com/channel/UCbzIbBmMvtvH7d6Zo_ZEHDA/featured  پر اور وزارت سیاحت حکومت ہند کے سبھی سوشل میڈیا ہینڈلوں پر دستیاب ہیں۔

اگلا ویبینار 23 مئی 2020 کو 11 بجے سے لیکر 12 بجے تک ‘بائیسیکل ٹورس-ایکسپلورنگ انڈیا ایٹ دی پیس آف پیڈل’ پر ہوگا۔ رجسٹریشن کیلئے  https://bit.ly/BicycleToursDAD  پر کلک کریں۔

Related posts

‘یوم آیوروید’ ملک بھر میں 25 اکتوبر کو منایا جائے گا

پی ایم او میں دیوالی ملن منعقد کی گئی

مشن موڈ کے طریقے پر ریلوے نے ماہ مئی 2020 کے دوران ایک لاکھ لبادے تیار کرنے کا منصوبہ وضع کیا ہے