نوجوانوں کی ہنرمندی کو ایک قومی تحریک کی شکل دی جانی چاہئے: نائب صدر جمہوریہ ہند – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » نوجوانوں کی ہنرمندی کو ایک قومی تحریک کی شکل دی جانی چاہئے: نائب صدر جمہوریہ ہند

نوجوانوں کی ہنرمندی کو ایک قومی تحریک کی شکل دی جانی چاہئے: نائب صدر جمہوریہ ہند

نائب صدر جمہوریہ ہند جناب ایم وینکیانائیڈو نے آج کہا کہ نوجوانوں کو ہنرمند  بنانے کے عمل کو ایک قومی تحریک کی شکل دی جانی چاہئے اور انہوں نے تمام تر شراکت داروں سے ا س کام میں ایک مشن موڈ میں شریک ہونے کی گزار ش کی تاکہ اس مقصد کا حصول ممکن ہوسکے۔

آج بنگلورو میں ’’بھارت کی تغیر پذیر مثال، عالمی مسابقت کیلئے ہنرمندیاں اور صنعتی کاری‘‘ کے موضوع پر منعقدہ کانفرنس میں  جس کا اہتمام نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پرسنل مینجمنٹ  پرسنل (این آئی پی ایم) 2019 کے تحت کیا گیا تھا ، انہو ں نے اشارہ کیا کہ  آٹومیشن اور  کمپیوٹر کے مصنوعی استدلال پر مبنی  فن بڑے پیمانے پر صنعت کی ضروریات پر اثرانداز ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف جہاں بنیادی ہنرمندیاں مثلاً خواندگی ، کمپیوٹر کی بنیادی تفہیم، انٹرنیٹ اور مواصلاتی ہنرمندیاں ازحد  موزوں اور افادیت کی حامل ہیں، ان کے ساتھ ہی ساتھ یہ چیز بھی اتنی اہم ہیں کہ اختراع اور مستقبل کی فکر کی جائے اور مستقبل کے لئے درکار  تمام تر اُمور میں غور وفکر کیا جائے تاکہ مختلف شعبوں کیلئے درکار اعلیٰ کوالٹی والی افرادی قوت فراہم ہوسکے۔

آج جس انداز میں ہنرمندی اور صنعتکاری  کی توقع عوام کو ہے اس سے متعلق مثالی تبدیلی  لانے کی تلقین کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اسکیل، اسپیڈ  اور کوالٹی  یعنی پیمانے ، رفتار اور عمدگی  جیسے پہلوؤں پر  ازسر نو توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بھارت کو ہنرمندی اور صنتکاری کے معاملے میں مسابقت کاحامل ملک بنایا جاسکے۔

تعلیمی اداروں اور ماہرین تعلیم سے  بچوں میں صنعت کاری کا جذبہ اسکول کی عمر سے ہی جگانے کی اپیل کرتے ہوئے جناب نائیڈو نے کہا کہ نوجوانوں کو اس انداز سے بااختیار بنائیں کہ وہ روزگار تلاش  کرنے والے  کی بجائے از خود روزگار فراہم کرنے والے بن جائیں۔

ڈیجیٹل اور صنفی فاصلوں  اور علم کے حصول میں واقع عدم مساوات کے خاتمے پر زور دیتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ ہند نے کہا کہ دیہی نوجوانوں کو پیشہ ورانہ اور تکنیکی ہنرمندی سے آراستہ کرنے کیلئے مضبوط بنیادیں ڈالی جانی چاہئیں، رسمی تعلیم ، روایتی طور پر روزگار کے تصور اور روزگار کے ساتھ منسلک ہونے اور دوران روزگار تربیت حاصل کرنے کے  ایک اچھے مرقع کی ضرورت ہے۔

اس امر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ بھارت کی تقریباً 54 فیصد آبادی 25 برس سے کم عمر کی ہے اور 65فیصد آبادی 35 برس سے کم کی ہے، نائب صدر جمہوریہ ہند نے اس بات پر زور دیا  کہ ایسے اقدامات کیے جانے چاہئیں کہ یہ آبادی نئی ٹیکنالوجی سیکھنے کی جانب راغب ہو اور بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی ضروریات کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرسکے۔

انہوں نے کہا کہ ہنرمندی کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ کسی ایک کام کے بارے میں مخصوص جانکاری  حاصل کرکے وہ کام انجام دیا جاسکے بلکہ اس کااصل مطلب یہ ہے کہ شخص مذکور ہر وقت اور ہمہ وقت نئی چیزیں سیکھنے کے لئے مستعد رہے۔

جناب نائیڈو نے کہا کہ معقول ہنرمندی والی افرادی قوت کی فراہمی بے روزگاری کے خاتمے ، آمدنی میں اضافے ، معیارات کو بہتر بنانے کے لئے ضروری ہے۔ اس سے نہ صرف یہ کہ روزگار کی ضمانت حاصل ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں عوام کی سماجی – اقتصادی ترقی  ہوگی خاص طور پر خواتین کی ترقی کا راستہ ہموار ہوگا۔

مختلف النوع پروگرام مثلاً اسٹارٹ اپ، اسٹارٹ اپ جیسے پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں وسیع مضمرات پوشیدہ ہیں ، انہوں نے صنعت ، تعلیمی اداروں اور پیشہ ورانہ تربیت کے مراکز کو ان مضمرات کو بروئے کار لانے کی تلقین کی۔ نائب صدر جمہوریہ ہند نے کاروباری رہنماؤں اور انسانی وسائل  کے قائدین کو تلقین کی کہ وہ  باصلاحیت افرا دکو تلاش کریں کیوں کہ ہنرمندی اکیسویں صدی میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہوگئی ہے  اور آج ٹیکنالوجی پر ہی پوری  روزگار  منڈی کا دارومدار ہے۔

جناب نائیڈو نے کہا کہ تعلیمی نظام میں مجموعی تشکیل نو کا عمل درکار ہے یعنی پرائمری اسکول کی سطح سے لیکر اعلیٰ تعلیم تک کے پورے نظام کو تشکیل نو کے عمل سے گزارا جاناچاہئے اور اس عمل میں تعلیمی – صنعتی باہم ربط وضبط اور پیشہ ورانہ تربیت کے عنصر کے اضافے پر زور دیا جانا چاہئے تاکہ ہنرمند افرادی قوت فراہم ہوسکے۔

About admin