نائب صدر جمہوریہ نے کچھ قانون ساز اسمبلیوں اور پارلیمنٹ کے حال ہی کےواقعات پر گہرا افسوس ظاہر کیا

Image default
Urdu News

نائب صدر جمہوریہ  اور راجیہ سبھا کے چیئرمین جناب ایم وینکیا نائیڈو نے کچھ

اسمبلیوں اور پارلیمنٹ میں حال ہی کے واقعات، جن میں ارکان نے نہایت تلخ رویے کا اظہار کیا پر گہرا افسوس ظاہر کیا ہے۔

ویشاکھاپٹنم کے معروف تعلیم داں پروفیسر کے راما کرشنا راؤ کی تحریر کردہ سوانح حیات بعنوان‘اے چائلڈ آف ڈیسٹنی’کا اجرا کرنے کے بعد حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے آج انہوں نے کہا کہ جس طرح کی زہریلی زبان ارکان نے اپنے مخالفین کے خلاف استعمال کیے ہیں اُس سے انہیں بہت افسوس ہوا ہے کیونکہ وہ ان کے سیاسی حریف ہیں دشمن نہیں۔ انہوں نے عوامی زندگی میں لوگوں میں بڑھتے ہوئے دشمنی کے مظاہرے پر تشویش کا اظہار کیا۔

جمہوریت میں اختلافات کے لازمی ہونے کی وضاحت کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے متنبہ کیا کہ اگر صرف ہنگامہ ہی کیا جائے گا اور کوئی مباحثہ یا بات چیت نہیں ہوگی تو اس سے جمہوریت کو نقصان پہنچے گا۔ عوامی نمائندوں کے رویے کو عوام کے ذریعے دیکھے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے تنبیہ کی کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو اس سے نظام پر لوگوں کے یقین کو نقصان پہنچے گا۔

جناب وینکیا نائیڈو نے سیاسی پارٹیوں سے کہا کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کا احترام کریں۔ انہوں  نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ نقد رقم ، ذات برادری اور مجرمانہ خصلت کی وجہ ہے کردار ، لیاقت، صلاحیت اور رویے کی بنیاد پر اپنے نمائندوں کا انتخاب کریں۔

شہری ترمیمی قانون کا حوالہ دیتے ہوئے جناب وینکیا نائیڈو نے کہا کہ یہ ہندوستانی شہریوں کے خلاف بھید بھاؤ نہیں کرتا بلکہ اس کا مقصد ایسے لوگوں کو شہریت دینا ہے جو کہ پڑوسی ممالک میں مذہبی بنیاد پر مظالم کا شکار ہوئے ہیں۔

لوگوں سے دفعہ 370 کی منسوخی اور سی اے اے جیسے قوانین کو پڑھنے اور سمجھنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے تنبیہ کی کہ کچھ خودغرض عناصر ہندوستان کے بارے میں بیرونی ممالک کی منفی رائے قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے امور داخلہ میں دخل اندازی سے کسی بھی ملک کا کچھ لینا دینا نہیں ہے۔

حاضرین میں موجود نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے جناب وینکیا نائیڈو نے انہیں ملک کی وراثت ، ثقافت اور جنگ آزادی کے مجاہدین اور ملک کی دیگر نمایاں شخصیتوں کے کارناموں سے واقف کرانے کے لیے انہیں ہندوستانی تاریخ کی اور زیادہ تعلیم دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں دی جانے والی تعلیم اقدار پر مبنی ہونی چاہیے۔

بہت صلاحیتیں رکھنے والے ایک دانشمند کے طور پر پروفیسر کے راما کرشن راؤ کا ذکر کرتے ہوئے نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ وہ ایک ممتاز اسکالر ، ایک پابند عہد ماہر تعلیم ، ایک معروف مصنف ، ایک کامیاب محقق، سائنسداں اور گاندھی جی کے پکّے پیروکار تھے۔

انہوں نے کہا کہ ‘‘فلسفے اور گاندھی جی کے تصور اور انسانی رویے میں  پیراسائیکالوجی کے رول کے بارے میں اُن کی خدمات حقیقت میں حیرت انگیز  ہیں۔ ’’

جناب وینکیا نائیڈو نے نوجوان نسل سے کہا کہ وہ ان کی خود نوشتہ سوانح حیات کو پڑھیں اور ان کی زندگی سے تحریک حاصل کریں۔

اس موقعے پر حکومت آندھرا پردیش کے ثقافت اور سیاحت کے وزیر جناب مُتم سیٹھی سری نواس راؤ جی آئی ٹی اے ایم یونیورسٹی کے چانسلر پروفیسر کے راما کرشنا راؤ ، جی آئی ٹی اے ایم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر کے شوا رام کرشنا ، جی آئی ٹی اے ایم کے صدر جناب ایم بھارت اور نائب صدر پروفیسر ایم گنگا دھر راؤ اور کئی دیگر معززین بھی موجود تھے۔

 

Related posts

جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری کی ڈاکٹر جیتندر سنگھ سے ملاقات، مختلف پروجیکٹوں کے بارے میں اطلاعات فراہم کی

اٹل اختراعی مشن(اے آئی ایم) معاشرے کے لیے ایک نئے اختراعی پروگرام کا آغاز کل

راشٹریہ پوشن ماہ تقریبات کا ملک بھر میں اہتمام