نئے گریجویٹس کو مواقع فراہم کرنے کے لئے تمام شہری مقامی بلدیاتی اداروں اور اسمارٹ شہروں میں تولِپ –اَربن لرننگ انٹرن شپ پروگرام کا آغاز – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » نئے گریجویٹس کو مواقع فراہم کرنے کے لئے تمام شہری مقامی بلدیاتی اداروں اور اسمارٹ شہروں میں تولِپ –اَربن لرننگ انٹرن شپ پروگرام کا آغاز

نئے گریجویٹس کو مواقع فراہم کرنے کے لئے تمام شہری مقامی بلدیاتی اداروں اور اسمارٹ شہروں میں تولِپ –اَربن لرننگ انٹرن شپ پروگرام کا آغاز

نئی دہلی، فروغ انسانی وسائل کے وزیر جناب رمیش پوکھریال نشنک، مکانات اور شہری امور کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج)  جناب ہردیپ سنگھ پوری اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن (اے آئی سی ٹی ای)، نےآج یہا  ایک  آن لائن پورٹل  ‘‘ دی اربن لرننگ انٹرن شپ پروگرام’’ (تولپ-انٹرن شپ مواقع فراہم کرنے کے لئے ایک پروگرام    -نئے گریجویٹس کے لئے انٹرن شپ مواقع فراہم کرنے کے لئے ایک پروگرا م کو ملک بھر کے تمام شہری بلدیاتی اداروں اور اسمارٹ شہروں میں لانچ کیا۔  اس پورٹل کو  فروغ انسانی وسائل کی وزارت کے سکریٹری جناب امت کھرے، مکانات اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری جناب دُرگا شنکر مشرا، اے آئی سی ٹی ای کے چیئرمین اور دونوں وزارتوں اور اے آئی سی ٹی ای کے افسران کی موجودگی میں لانچ کیا گیا۔

تولپ شہری سیکٹر میں نئے گریجویٹس کو تجرباتی لرننگ سے متعلق مواقع فراہم کرنے کےلئے ایک پروگرام ہے۔ یہ ہمارے وزیراعظم کی بصیرت افروز قیادت کا نتیجہ ہے۔ ہمارے وزیراعظم  کو نوجوانو ں کی طاقت پرمکمل اعتماد ہے۔ انہیں یقین ہے کہ یہ نوجوان نہ صرف ہمارے ملک میں ، بلکہ پوری دنیا میں انقلابی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے  ہمارے ملک کے مستقبل کے لئے نوجوانوں کے ذریعے ادا کئے جانے والےاہم رول پر زور دیا ہے۔

اسمارٹ سٹی مشن-پش رفت کی جھلکیاں

اسمارٹ سٹی مشن نے شہری ہندوستان کے مستقبل کے لئے بنیاد رکھنے کےسلسلے میں گزشتہ 3برسوں کے دوران واضح پیش رفت کی ہے۔ اب 1لاکھ 65ہزار کروڑ روپےسے زائدکی مالیت کے پروجیکٹوں کومنظوری دی گئی ہے،جن میں سے تقریبا 1لاکھ 24ہزار کروڑروپے کی مالیت کے پروجیکٹس نفاذ کے مرحلے میں ہیں۔ 26700کروڑ روپے کی مالیت کے پروجیکٹس پہلے ہی مکمل ہو چکے ہیں اور یہ پروجیکٹس شہریوں کو کافی فائدہ پہنچا رہے ہیں۔   ہمارے اسمارٹ شہر کووڈ-19بحران کے بندوبست کے لئے ٹیکنالوجی تیار کرنے میں پیش پیش رہےہیں۔ ان میں سے 47شہر اپنے اسمارٹ کمانڈ اور کنٹرول اور مراکز کو بحران کے بندوبست کے وار روم کی حیثیت سے استعمال کر رہے ہیں، جبکہ 34اسمارٹ شہر انہیں جلد سے جلد مکمل کرنے کے لئےکام کر رہے ہیں۔ پیدل چلنے، غیر موٹروالے ٹرانسپورٹ اور عوامی ٹرانسپورٹ کو فروغ دینے کے لئے ہمارے شہروں  نے 2300کروڑ روپے کی مالیت کے 151اسمارٹ روڈ پروجیکٹوں کو مکمل کر لیا ہے، جبکہ 18300کروڑروپے کی مالیت کے 373پروجیکٹس مکمل ہونے کے قریب ہیں۔ 3700کروڑ روپے کی مالیت کے 91پی پی پی پروجیکٹس مکمل ہو گئے ہیں، جبکہ 21،400کروڑروپے کی مالیت کے 203پروجیکٹس جلد ہی مکمل ہو جائیں گے۔ درخشاں شہری مقامات کے ڈومین میں 800کروڑروپے کی مالیت کے 51پروجیکٹس   مکمل ہو گئے ہیں۔  اسمارٹ واٹرسے متعلق 2300کروڑروپے کی مالیت کے 67پروجیکٹس اور اسمارٹ سولر کے تحت 200کروڑروپے کی مالیت کے 41پروجیکٹس مکمل ہو چکے ہیں۔

تولیپ ‘‘ امنگوں والے ہندوستان’’ کے تھیم کے تحت  وزیرخزانہ محترمہ نرملا سیتا رمن کے ذریعے بجٹ 21-2020 اعلان کے مطابق ہے۔ وزیر خزانہ کے اس  بجٹ اعلان میں کہا گیا تھا کہ ‘‘ حکومت ایک پروگرام شروع کرنے کی تجویز رکھتی ہے، جس کے تحت ملک  بھر کے شہری مقامی بلدیاتی ادارے ایک سال تک کی مدت کے لئے نئے انجینئروں کو انٹرن شپ کے مواقع فراہم کریں گے’’۔اس طرح کے پروگرام سے ہندوستان کی کثیر آبادی کو کافی فوائد حاصل ہوں گے۔ ہندوستان کے پاس آنے والے برسوں میں  سب سے بڑی کام کرنےوالی آبادی ہوگی۔ ہندوستان کے پاس کافی مقدار میں ٹیکنیکل گریجویٹس ہیں، جن کی پیشہ ورانہ ترقی کے لئے  حقیقی دنیا میں پروجیکٹ کا نفاذ اور منصوبہ بندی ضروری ہے۔ عام تعلیم سے معاشرے میں موجود تعمیری نالج کی گہرائی شائد منعکس نہ ہو۔ طریقہ کار اپنانے والے ادارےکو  ‘‘ڈوئنگ بائی لرننگ’’ کے بجائے ہمارے معاشرے کو تعلیم کے نئے تصور لرننگ بائی ڈوئنگ کی ضرورت ہے۔

تولیپ سے بازار میں ہندوستانی گریجویٹ کی قدروقیمت میں اضافہ ہوگا اور انہیں مختلف شعبوں مثلاً شہری منصوبہ بندی، ٹرانسپورٹ انجینئرنگ، ماحولیات اور میونسپل مالیات  جیسے شعبوں میں بہترین صلاحیت کرنےمیں مدد ملے گی۔ اس سے نہ صرف ممکنہ سٹی منیجرس  پیدا ہونے کی راہ ہموار ہوگی، بلکہ صلاحیت مند نجی  ؍ غیر سرکاری سیکٹر کے پیشہ ورافراد بھی پیدا ہوں گے۔ تولیپ سے شہری بلدیاتی اداروں (یو ایل بی) اور اسمارٹ شہروں کو وسیع پیمانے فائدہ حاصل ہوگا۔

اس پروگرام کے نفاذ کےلئے مکانات اور شہری امور کی وزار ت اور آل انڈیا کونسل فار ٹیکنیکل ایجوکیشن کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط بھی کئے گئے۔ اس مفاہمت نامے کے اندر 5سال کی مدت کےلئے اے آئی سی ٹی ای اور مکانات اور شہری امور کی  وزارت کےکرداراور ذمہ داریوں کا ذکر ہے۔اس پلیٹ فارم کو تکنیکی امداد اے آئی سی ٹی ای کے ذریعے فراہم کی جائے گی، جبکہ غیر تکنیکی امداد مکانات اور شہری امور کی وزارت کےذریعے فراہم کی جائے گی۔ مکانات اور شہری امور کی وزارت کے سکریٹری کی صدارت میں ایک اسٹیئرنگ کمیٹی، جو کہ      اے آئی سی ٹی ای کے چیئرمین   اور مکانات و شہری امور کی وزارت اور اے آئی سی ٹی ای کے دیگر افسران پر مشتمل ہے، قائم کی گئی ہے۔ یہ کمیٹی وقفے قفے سے اس پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لے گی۔

About admin