نئی کمپنیاں معیشت کے فروغ کا انجن ہوں گی اور دفاعی مینوفیکچرنگ نظام میں اہم رول ادا کریں گی: وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ

Urdu News

نئی دہلی، پندرہ اکتوبر 2021 کو نئی دہلی میں ’وجے دشمی‘ کے موقع پر وزارت دفاع کے ذریعے منعقدہ ایک پروگرام میں آرڈیننس فیکٹری بورڈ (او ایف بی) کی سات نئی دفاعی شعبہ کی کمپنیوں کو قوم کے نام وقف کیا گیا۔ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے پروگرام کے دوران ویڈیو خطاب کیا۔ وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ نے ڈی آر ڈی او بھون کے کوٹھاری آڈیٹوریم میں منعقدہ تقریب کی صدارت کی۔

فنکشنل خودمختاری، حسن کارکردگی اور ترقی و اختراعات کے نئے امکانات کے در کھولنے کے لئے، حکومت نے ملک کی دفاعی تیاریوں میں خود انحصاری کی صورت حال کو بہتر بنانے کی تدبیر کے طور پر او ایف بی کو سرکاری محکمہ سے سات سو فیصد سرکاری ملکیت والی کارپوریٹ کمپنیوں میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ سات نئی دفاعی شعبہ کی کمپنیاں ہیں: میونیشنس انڈیا لمیٹڈ (ایم آئی ایل)، آرمرڈ وہیکلس نگم لمیٹڈ (اے وی اے این آئی)، ایڈوانسڈ ویپنس اینڈ ایکوائپمنٹ انڈیا لمیٹڈ (اے ڈبلیو ای انڈیا)، ٹروپ کمفورٹس لمیٹڈ (ٹی سی ایل) (ٹروپ کمفورٹ آئیٹمس)، ینترا انڈیا لمیٹڈ (وائی آئی ایل)، انڈیا آپٹیل لمیٹڈ (آئی او ایل) اور گلائیڈرس انڈیا لمیٹڈ (جی آئی ایل)۔ ان کمپنیوں نے یکم اکتوبر 2021 سے کاروبار شروع کردیا ہے۔

اپنے ویڈیو خطاب میں وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج وجے دشمنی کے مبارک موقع اور اس دن استر شستر (ہتھیاروں) کی پوجا کی روایت کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ بھارت میں ہم طاقت کو تخلیق کے وسیلہ کے طور پر دیکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اسی جذبہ سے ملک قوت کے حصول کی سمت بڑھ رہا ہے۔

جناب نریندر مودی نے ڈاکٹر اے پی جے عبدالکلام کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر کلام نے ایک طاقتور ملک بنانے کے لئے اپنی زندگی وقت کردی اور کہا کہ آرڈیننس فیکٹریوں کی تشکیل نو اور سات کمپنیوں کی تعمیر سے ان کے مضبوط بھارت کے خواب کو تقویت ملے گی۔ انھوں نے کہا کہ دفاعی شعبہ کی نئی کمپنیاں بھارت کی آزادی کے امرت کال کے دوران ملک کا ایک نیا مستقبل بنانے کے لئے متعدد عزائم کا جزو ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ان کمپنیوں کو بنانے کا فیصلہ طویل عرصہ سے اٹکا ہوا تھا۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ سات نئی کمپنیاں آنے والے وقت میں ملک کی فوجی قوت کے لئے ایک مضبوط بنیاد بنیں گی۔ بھارت کی آرڈیننس فیکٹریوں کے شاندار ماضی کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ آزادی کے بعد کی مدت میں ان کمپنیوں کے اپ گریڈیشن کی اَن دیکھی کی گئی، جس سے ملک اپنی ضرورتوں کے لئے غیرملکی سپلائروں پر منحصر ہوگیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ سات کمپنیوں اس صورت حال کو تبدیل کرنے میں اہم رول ادا کریں گی۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ ذکر بھی کیا کہ یہ نئی کمپنیاں ’آتم نربھر بھارت‘ کے نظریہ کے مطابق درآمدات کو کم کرنے میں اہم رول نبھائیں گی۔ انھوں نے کہا کہ 65000 کروڑ روپئے سے زیادہ کی آرڈر بکنگ ان کمپنیوں میں ملک کے بڑھتے بھروسے کو ظاہر کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں کئے گئے متعدد اقدامات و اصلاحات کا ذکر کیا، جنھوں نے دفاع کے شعبہ میں اعتماد، شفافیت اور ٹکنالوجی سے ترغیب یافتہ نقطہ نظر پیدا کیا ہے، جیسا پہلے کبھی نہیں دیکھا گیا۔ انھوں نے کہا کہ آج نجی اور سرکاری شعبہ دونوں قومی سلامتی کے مشن میں ساتھ مل کر کام کررہے ہیں۔ انھوں نے نئے نقطہ نظر کی مثال کے طور پر اترپردیش اور تمل ناڈو دفاعی گلیاروں کا حوالہ دیا۔ انھوں نے کہا کہ نوجوانوں اور ایم ایس ایم ای کے لئے نئے مواقع پیدا ہورہے ہیں۔ ملک حالیہ برسوں میں ہوئی پالیسی جاتی تبدیلیوں کے نتائج دیکھ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ برسوں میں ہماری دفاعی برآمدات میں 325 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔

جناب نریندر مودی نے ذکر کیا کہ ہمارا ہدف ہے کہ ہماری کمپنیاں نہ صرف اپنی مصنوعات میں اختصاص حاصل کریں بلکہ ایک عالمی برانڈ بنیں۔ انھوں نے کہا کہ جہاں مسابقتی لاگت ہماری طاقت ہے، وہیں کوالٹی اور اعتبار ہماری پہچان ہونی چاہئے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 21ویں صدی میں، کسی بھی ملک یا کسی کمپنی کی ترقی اور برانڈ ویلیو اس کی تحقیق و ترقی اور جدت طرازی سے طے ہوتی ہے۔ انھوں نے نئی کمپنیوں سے اپیل کی کہ تحقیق و جدت طرازی اس کے ورک کلچر کا حصہ ہونا چاہئے، تاکہ وہ نہ صرف دنیا کی بڑی کمپنیوں کی برابری کرسکیں، بلکہ مستقبل کی ٹکنالوجی میں پیش رو بن سکیں۔ انھوں نے کہا کہ یہ تشکیل نو نئی کمپنیوں کو جدت طرازی اور مہارت حاصل کرنے کے لئے زیادہ خودمختاری فراہم کرے گی۔ ساتھ ہی نئی کمپنیوں کو چاہئے کہ وہ ایسی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں۔ انھوں نے اسٹارٹ اَپ کمپنیوں سے ان کمپنیوں کے توسط سے ایک دوسرے کی تحقیق اور مہارت کا فائدہ اٹھاکر اس نئے سفر کا حصہ بننے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم نے ذکر کیا کہ حکومت نے ان نئی کمپنیوں کو نہ صرف بہتر پیداواری ماحول دیا ہے بلکہ کام سے متعلق مکمل خودمختاری بھی دی ہے۔ انھوں نے اعادہ کیا کہ حکومت نے یہ بھی یقینی بنایا ہے کہ ملازمین کے مفادات کا پوری طرح تحفظ کیا جائے۔

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے او ایف بی کو سات دفاعی کمپنیوں میں بدلنے کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ قدم حکومت کے ’آتم نربھر بھارت‘ کے ہدف کو حاصل کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ان کمپنیوں کو خودمختاری عطا کرے گا اور ان کے ماتحت 41 کارخانوں کے کام کاج میں جواب دہی اور صلاحیت میں بہتری لائے گا۔ انھوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ نیا ڈھانچہ او ایف بی کے موجودہ نظام میں موجود متعدد خامیوں کو دور کرنے میں مدد کرے گا اور ملازمین کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ان کمپنیوں کو مسابقتی بننے اور برآمدات سمیت بازار میں نئے مواقع کی تلاش کرنے کے لئے راغب کرے گا۔

انھوں نے کہا کہ اس تشکیل نو کا مقصد آرڈیننس فیکٹریوں کو پیداواری اور منفعت بخش املاک میں تبدیل کرنا، موضوعات کے سلسلے کی صلاحیت کو بہتر بنانا، مسابقت بڑھانا، کوالٹی کو مزید بہتر بنانا، مصنوعات کو کفایتی بنانا اور دفاعی تیاریوں میں خود انحصاری کو یقینی بنانا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے امید ظاہر کی کہ آنے والے وقت میں، یہ نئی کمپنیاں نہ صرف دفاعی مینوفیکچرنگ میں ایک اہم رول ادا کریں گی بلکہ بھارتی معیشت کی ترقی کا انجن بھی ہوں گی۔ انھوں نے کہا کہ تشکیل نو ایک پیہم جاری رہنے والا عمل ہے نہ کہ کسی چیز کا اختتام۔ جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ نئی کمپنیوں میں ترقی کے پورے امکانات ہیں۔ انھوں نے کہا کہ اگر ضرورت ہوئی تو حکومت شروع میں مالی اور غیرمالی تدابیر کے ذریعہ مدد کرے گی۔

او ایف بی ملازمین کے مفادات کے تحفظ کے لئے حکومت کی عہد بستگی کا اعادہ کرتے ہوئے جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ پیداواری اکائیوں سے متعلق او ایف بی (گروپ اے، بی اور سی) کے سبھی ملازمین کو مرکزی حکومت کے ملازمین کے طور پر ان کی سروس کی شرائط میں کوئی تبدیلی کئے بغیر دو سال کی مدت کے لئے ڈیمڈ ڈیپیوٹیشن پر ان کارپوریٹ اداروں میں ٹرانسفر کیا جائے گا۔

دفاعی آلات کی پیداوار کو ’آتم نربھر بھارت‘ کے ہدف کے حصول کی کنجی قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے نجی شعبہ، جوائنٹ ایڈونچرس کی سرگرم شراکت داری اور دفاعی مینوفیکچرنگ اکائیوں کے قیام کے ذریعے بھارت کو ایک دفاعی مینوفیکچرنگ مرکز اور خالص برآمدات کار بنانے کے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ 2014 کے بعد سے عالمی بازار میں جگہ بنانے کے لئے ضروری پرانے کاروباری ضابطوں اور جدید نظامات کے درمیان کی خلیج کو پاٹنے کے لئے بھی کوششیں کی گئی ہیں۔ انھوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ ملک وزیر اعظم کے ’میک اِن انڈیا‘،  ’میک فار دی ورلڈ‘ وژن کو حاصل کرنے کی سمت میں بڑا قدم اٹھارہا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ گزشتہ برسوں میں حکومت کے ذریعے کئے گئے اصلاحی کاموں کے سبب ملک کے دفاعی شعبہ نے زیادہ بلندیاں طے کی ہیں۔ ہم نے سودیشی مصنوعات کی مینوفیکچرنگ پر توجہ دینے کے ساتھ ساتھ برآمدات اور ایف ڈی آئی کے لئے ایک سازگار نظام بنایا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزارت دفاع نے 2024 تک ایرو اسپیس اور دفاعی ساز و سامان و خدمات میں 1.75 لاکھ کروڑ روپئے کا کاروبار حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے، جس میں 35000 کروڑ روپئے کی برآمدات بھی شامل ہے۔

وزیر دفاع نے ملک میں موجودہ دفاعی منظرنامہ کو نجی اور سرکاری شعبہ کے آپسی تال میل کے طور پر ڈیفائن کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’سرکاری اور نجی شعبہ ہماری مسلح افواج کی تیاریوں کو بڑھانے کے لئے ایک ساتھ مل کر کام کررہا ہے۔

جناب راج ناتھ سنگھ نے نئی انتظامیہ سے کہا کہ وہ محض سروسز کے لئے آرڈر پر ہی منحصر نہ رہیں، بلکہ بھارت اور بیرون نئے مواقع کی تلاش کریں۔ انھوں نے ’وجے دشمی‘ پر اہل وطن کو مبارک باد دی اور سابق صدر جمہوریہ اے پی جے عبدالکلام کو ان کے یوم پیدائش پر یاد کیا۔

دفاع کے وزیر مملکت جناب اجے بھٹ نے اس موقع پر کہا کہ او ایف بی کی یکسر تبدیلی صرف وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دور اندیشی اور قیادت کے سبب ہی ممکن ہوسکی ہے۔ انھوں نے وزیر دفاع کی زیر قیادت ای جی او ایم کے تئیں اظہار تشکر کیا، جس نے 75000 سے زیادہ ملازمین، ملک کی 10 ریاستوں / مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں پھیلی 41 مینوفیکچرنگ اکائیوں اور کئی غیر پیداواری اکائیوں میں اتنی بڑی اصلاحات کو ممکن بنایا، جن کے پاس 79000 کروڑ روپئے سے زیادہ کی املاک ہیں اور سب سے بڑھ کر جس کی وراثت 220 برس پرانی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر جناب اجیت ڈوبھال نے فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل وی آر چودھری، سکریٹری دفاع ڈاکٹر اجے کمار، سکریٹری (دفاعی پیداوار) جناب راج کمار، سکریٹری (سابقہ فوجیوں کی فلاح و بہبود) جناب بی آنند، مالی مشیر (دفاعی خدمات) جناب سنجیو متل اور وزارت دفاع کے دیگر سینئر افسران اور دفاعی پیداواری تنظیموں کے نمائندے بھی پروگرام میں موجود تھے۔

اصل پروگرام کے علاوہ تقریب سبھی سات نئی کمپنیوں اور متعدد ریاستوں میں واقع ان کی اکائیوں میں منعقدہ پروگراموں کے ساتھ مشترکہ طور پر منعقد کی گئی تھی۔ اس تاریخی تناظر میں ان کمپنیوں کے ذریعے مقامی سطح پر متعدد دیگر پروگرام بھی منعقد کئے گئے۔ ان پروگراموں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اصل پروگرام سے جوڑا گیا۔

Related posts

ماحولیات کے وزیر وَن مہوتسو منانے کے لئے شجرکاری مہم کی سربراہی کریں گے

ریٹائرمنٹ ہوم کی تعمیر اور ضابطوں کے لئے حکومت نے مثالی رہنما خطوط جاری کئے

فِن ٹیک سے متعلق امور کی اسٹیئرنگ کمیٹی نے وزیر خزانہ کو اپنی حتمی رپورٹ پیش کی