مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کووڈ کے بعد مستقبل کی معیشت کا ٹیکنالوجی پر بہت زیادہ دارومدار ہوگا

Image default
Urdu News

نئی دہلی: مرکزی وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے سائنس اور ٹیکنالوجی، وزیر مملکت (آزاد چارج) برائے ارضیاتی سائنس، وزیر اعظم کے دفتر، عملے شکایات عامہ اور پنشن اور ایٹمی توانائی اور خلا ء کے وزیر مملکت ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا ہے کہ کووڈ کے بعد مستقبل کی معیشت زبردست طور سے ٹیکنالوجی پر منحصر ہوگی۔

ہندوستان کے بڑے صنعتی اداروں کے نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے جو CSIR سوسائٹی ارکان ہیں، انھوں نے کہا کہ سرکاری ۔ نجی ماڈل اب کئی امکانات میں سے ایک نہیں بلکہ آج کی ضرورت ہے۔ لہذا CSIR اور صنعت کو بہترین اور کم لاگت والے نتائج کے لئے مساوی طور سے اشتراک کرنا چاہئے۔

میٹنگ میں حکومت ہند کے اعلیٰ سائنسی مشیر پروفیسر کے وجے راگھون، ڈاکٹر سی منڈے، سکریٹری DSIR اور ڈائرکٹر جنرل CSIR، ڈاکٹر نلن سنگھل ،سی ایم ڈی ، BHEL، ڈاکٹر منوج جین سی ایم ڈی ، GAIL، گردیپ سنگھ، سی ایم ڈی، NTPC، بابا کلیانی ، سی ایم ڈی، بھارت فورج لمٹڈ، نوروتی رائے ،کنٹری ہیڈ، انٹیل انڈیا لمٹڈ اور ملک بھر سے CSIR کے دیگر افسران نے شرکت کی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے صلاح دی کہ CSIR کو 75بہترین اسٹارٹ اپس کو ،خاص طور سے گرین ہائیڈروجن، کوئلے سے میتھنول کی ٹیکنالوجی، اسمارٹ موبلٹی،ٹیلی میڈیسن، ڈجیٹل ہیلتھ اور مصنوعی ذہانت جیسے شعبوں میں اسٹارٹ اپس کے لئے رعایات اور مدد کے لئے آگے آنا چاہئے جو کہ اس سال پندرہ اگست سے آزادی کا امرت مہوتسو تقریبات کے ساتھ ساتھ ہو۔

گزشتہ سات برسوں میں ہندوستان نے جو ترقی کی ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ موجودہ نظام نے سائنسی ہچکچاہٹ کو دور کیا ہے اور اس میدان کو نجی شعبے اور اسٹارٹ اپس کے لئے کھول دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ماضی میں سائنس اور ٹیکنالوجی اس لئے پھل پھول نہیں سکی کیونکہ وسائل کی کمی تھی لیکن اب یہ ہورہا ہے اور ہندوستان ایک ممتاز عالمی فریق بن کر ابھررہا ہے کیونکہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے نجی کاری کو ممکن بنا دیا ہے۔

وزیر موصوف نے کہا کہ کام کا پرانا طریقہ ختم ہوچکا ہے اور انھوں نے CSIR سے کہا کہ وہ صنعتوں کے ساتھ موضوعاتی پروجیکٹوں پر کام کرے جو بنیادی سطح پر نمایاں اثرات کے حامل ہوں۔ انھوں نے CSIR سے کہا کہ گرین ہائیڈروجن، کاربن کیپچر، کول گیس فیکشن ،فلائی ایش ٹیکنالوجی ، نگرانی، ریموٹ سینسنگ اور آفات سے بحالی جیسے مشن کے شعبوں میں مناسب فریقوں کی نشاندہی کرے اور ڈرون ٹیکنالوجی اور زرعی اور دواسازی کے کیمکلز جیسے شعبوں میں اشتراک کرے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ دنیا نے دیکھا ہے کہ کس طرح وزیر اعظم نریندر مودی نے ماحولیاتی بحران سے نمٹنے کے لئے گرین ٹیکنالوجی کے کاز کو بلند کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے یوم آزادی کی اپنی تقریر میں بھی کہا کہ سائنس اورٹیکنالوجی اگلے 25 برسوں میں قائدانہ کردار ادا کرے گی جب ہندوستان کی آزادی کوسوبرس مکمل ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکنالوجیوں میں اختراع کا مقصد عام آدمی کی زندگی میں آسانیا ں لانا ہے۔

کورونا عالمی وبا کا ذکرکرتے ہوئے ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کووڈ19 نے ہمیں بہت مختصر وقت کے اندر دیسی ٹیکنالوجیوں کو روبہ عمل لانا سکھایا، چاہے یہ CSIR کے ذریعہ وینٹی لیٹرز کی تیاری ہو یا DBT کے ذریعہ ویکسین کی تیاری، رقیق آکسیجن کی تیاری اسرو کے ذریعہ اور ایٹمی توانائی محکمے کے ذریعہ دوبارہ استعمال ہونے والے PPE کٹ ہوں۔ انھوں نے کا کہ اگلے 25 برسوں کے لئے نقش راہ زندگی کے تمام شعبوں میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی جدت طرازی ہی طے کرے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے صنعتی نمائندوں کو یقین دلایا کہ ان کے مشوروں پر مثبت طور سے غور کیا جائے گا، مثلا CSIR کے لیبس کا آڈٹ کرکے فرسودہ تحقیق کو ہٹانا، آر اینڈ ڈی کے قیام کے لئے سرمائے کی آمد اور کثیر ادارہ جاتی تحقیق میں حکومت کی جانب سے مدد اور تعاون۔

Related posts

مہاویر جینتی کے موقع پر صدر جمہوریہ کی مبارکباد

زراعت اور جنگلات پر بھارت – آسیان چوتھی وزارتی میٹنگ کے لئے مشترکہ بیان

اوما بھارتی کی روحانی اداروں سے نمامی گنگا پروگرام کی کامیابی کے لیے آگے آنے کی اپیل