مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ کورونا نے ہندوستانی روایتوں کو بحال کیا ہے

Image default
Urdu News

نئی دہلی:شمال مشرقی خطے کی ترقی کے مرکزی وزیر مملکت (آزادانہ چارج)، وزیر اعظم کے دفتر ،عملہ، عوامی شکایات ،پنشن، ایٹمی توانائی اور خلائی امور کے مملکتی وزیرڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج کہا کہ کورونا نے ہمیں اپنے اصل ہندوستانی ثقافتی اخلاقیات کی طرف لوٹنے کا متحمل بنا دیا ہے۔ ہاتھ دھونا اور نمستے جیسی اخلاقی روایت اورطرز عمل اور زیادہ طاقت کے ساتھ لوگوں میں عام ہوچکے ہیں۔ انہوں نے کہا ، کووڈ نے قومی ترجیح کے طور پر ہم سب کو صحت کی دیکھ بھال کی اہمیت کے رُخ پر بیدار کیا ہے اور دنیا کو سماجی دوری والے حفظان صحت ، صفائی ستھرائی،یوگا، آیوروید اور دیگر روایتی ادویات وغیرہ کی خوبیوں سے بھی باخبر کیا ہے۔ اب لوگ پہلے سے زیادہ ان چیزوں پر بھروسہ کرنے لگے ہیں اور یوگا ، آیوروید وغیرہ میں ایک نئی دلچسپی پیدا ہوئی ہے جن پر وزیر اعظم نریندر مودی نے ہمیشہ زور دیا ہے۔ وہ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف پبلک ایڈمنسٹریشن (آئی آئی پی اے) میں “صحت مند رہنے کی داخلی کوششوں کے طریقوں” کے سلسلے میں سدھ گرو کے ساتھ ایک اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے اپنے مشاہدے کی روشنی میں بتایا کہ  کیا ،خاص طور پر لاک ڈاؤن کے دوران  بہت سے لوگوں نے نہ صرف اپنی وقت مدافعت بڑھانے بلکہ تنہائی اور اضطراب کی کیفیت پر قابو پانے کیلئے بھی یوگا کا سہارا لیا۔  انہوں نے کہا کہ کوویڈ کے بعد کے عہد میں جو تبدیلیاں سامنے آئیں گی اُن میں سے ایک یہ ہوگی کہ جو لوگ لاک ڈاؤن کے دوران میں یوگا کے عادت بن چکے ہیں وہ کورونا وائرس کے خاتمے کے بعد بھی  غالب امکان ہے کہ اس پر عمل پیرا رہیں گے اور اس طرح یہ عادت  زندگی بھر کیلئے ایک نعمت میں بدل جائے گی۔

ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اچھی حکمرانی کا بنیادی مقصد عام شہریوں کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ یہ کہتے ہوئے انہوں نے سدھ گرو کی اس بات کی بھرپور حمایت کی کہ خوش اور خوش کن منتظمین زندگی کے ہر شعبے میں خوشیاں پھیلائیں گے۔

سد گرو نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان عقیدے کے کسی غیر لچکدار نظام  کے تحت ہمیشہ متلاشیوں کی سرزمین رہا جہاں کبھی علاقائی فتوحات کا کلچر نہیں رہا، البتہ یہ ہمیشہ جستجو کی سرزمین رہی۔ اسی کے ساتھ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنی جمہوریہ کو فروغ دینے کے لئے ان اخلاقیات کو برقرار رکھنا چاہئے۔

سدگرو نے کہا کہ کورونا وائرس شعوری ذمہ دارانہ طرز عمل کا متقاضی  ہے اور عام آدمی کا زیادہ سے زیادہ بھلا کرنے کرنے کے لئے یہ تعلیم رہنماؤں اور انتطامی ذمہ داروں کے لئے انتہائی مناسب ہے۔

اس تقریب میں الہ آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ایم این بھنڈاری، آئی آئی پی اے کے نائب صدر جناب شیکھر دت، آئی آئی پی اے کے  ڈائریکٹر مسٹر ایس این ترپاٹھی کے علاوہ  سرابھی پانڈے ، امیتابھ رنجن ، نول جیت کپورانند  اور  آئی آئی پی اے کے دیگر اعلی عہدیداروں اوراساتذہ نے شرکت کی۔

Related posts

یو پی ایس سی نے کووڈ – 19 وبا کے پس منظر میں سول سروسز امتحان 2019 کے لیے پرسنیلٹی ٹیسٹ (انٹرویو) کے کام کو تیز کیا

2016-17 کے دوران ملک میں باغبانی فصلوں کی ریکارڈ پیداوار

دیہی علاقوں میں خاطر خواہ روزگار فراہم کرنے اور صنعتوں میں اضافے پر زور