مرکزی وزیر ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کی خاطر جموں و کشمیر کے لئے مربوط اروما ڈیری صنعت کاری کی تجویز پیش کی

Urdu News

نئی دلّی: سائنس اور ٹیکنا لوجی ، زمینی سائنس  کے مرکزی وزیر مملکت ( آزادانہ چارج )  ، وزیر اعظم کے دفتر  ، عملے ، عوامی شکایات  ، پنشن ، ایٹمی توانائی  اور خلاء کے وزیر مملکت  ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے آج  ماہی گیری  ، مویشی پروری اور ڈیری کے مرکزی وزیر   جناب پرشوتم روپالا سے ملاقات کی اور کسانوں کی آمدنی  میں اضافہ کرنے کی خاطر   جموں و کشمیر کے لئے  مربوط  اروما ڈیری  صنعت کاری  کی تجویز پیش کی ۔

          ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے جناب روپالا کو بتایا  کہ جموں و کشمیر  میں   مویشی پروری کا   وسیع  اسٹاک موجود ہے  اور ڈیری کے وسائل   بہت زیادہ ہیں ۔ انہوں نے تجویز کیا کہ  اِن وسائل کو  اروما مشن سے مربوط  کیا جا سکتا ہے ، جو  سائنس اور ٹیکنا لوجی کی مرکزی وزارت  کی سرپرستی  میں سی ایس آئی آر کے ذریعے  جموں  و کشمیر میں  پہلے ہی  شروع کیا جا چکا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ  مربوط  اروما ڈیری  صنعت کاری  کی راہ  ہموار کرے گا ، جو  پائیدار ترقی  اور کسانوں کی آمدنی میں اضافے اور روز گار کے  مختلف  ذرائع  کو یقینی بنائے گا ۔

          ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ اروما مشن  ، جسے  عام طور پر  ’’ لیویندر یا پرپل انقلاب   ‘‘ کے نام سے  بھی جانا جاتا ہے  ،  جموں و کشمیر سے شروع ہوا ہے ، جس  نے ، اُن کسانوں کی زندگی میں بڑی تبدیلی  کی ہے ، جو  خوشبو  پیدا کر سکتے ہیں  اور اس طرح  وہ وسیع منافع کما کر اپنی زندگی بہتر بنا سکتے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ   سی ایس آئی آر – آئی آئی آئی ایم کی کوششیں  قابلِ ستائش ہیں  کیونکہ انہوں نے  جموں و کشمیر کے ڈوڈا ، کشتواڑ  اور راجوری    اضلاع کی  مقامی فصل کو   یوروپ میں متعارف کرایا ہے ۔

          اروما مشن   سی ایس آئی آر نے  کسانوں کی روزی میں بہتری پیدا کرنے  کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ویژن  کے خطوط پر  شروع کیا ہے۔  پودا لگانے  ، سامان فراہم کرنے کے علاوہ   ، خوشبو کشید کرنے کے یونٹ بھی  کسانوں کو فراہم کئے گئے ہیں اور   انہیں   تربیت دی گئی ہے ۔ ان میں سے بہت سے کسان   لیونڈر  آئل  ( عطر ) کے صنعت کار بن گئے ہیں  ، جس کی کافی مانگ ہے ۔ خوشبو کے علاوہ ، کئی  بڑی قیمتی   خوشبو والی اور طبی  فصلیں بھی سی ایس آئی آر نے جموں و کشمیر میں متعارف کرائی ہیں ۔  اب انہیں   اروما مشن   کے دوسرے مرحلے  کے طور پر   توسیع  دی جا رہی ہے اور حال ہی میں   گلبانی مشن  بھی  شروع کیا گیا ہے ۔ ا س سے کسانوں اور خواتین کی زندگی میں  بڑی تبدیلی آئے گی ، جس کی  کافی ضرورت ہے ۔

          2022 ء تک کسانوں کی آمدنی  دو گنا کرنے کی وزیر اعظم نریندر مودی   کی کال کا حوالہ دیتے ہوئے  ، ڈاکٹر جتیندر سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر    کسانوں کی آمدنی  میں مسلسل   اضافے کی راہ پر گامزن ہے  ، جس میں   آئی آئی آئی ایم جموں جیسے ادارے   متعلقہ  شعبوں کی  مدد مل رہی ہے ۔ انہوں  نے کہا کہ زراعت   اور متعلقہ شعبوں  کی توجہ  اور  تحقیق کاروں کی توجہ   پیداوار کی بجائے   ، پیداواریت پر ہونی چاہیئے ۔

          وزیر موصوف نے کہا کہ  لوگوں کی  روزی کو بہتر بنانے میں ٹیکنا لوجی کے وسیع امکانات کو   تمام  محکموں کے ذریعے  مشترکہ طور پر  استعمال کیا جانا چاہیئے ۔ انہوں نے  نو جوانوں پر زور دیا کہ وہ حکومت کے ذریعے   تشکیل دیئے  جانے والے روز گار کے مواقع   کو سرگرمی  سے حاصل کریں ۔ انہوں نے نو جوانوں پر زور دیا کہ وہ  زرعی  صنعت کار بنیں ۔ اس سے انہیں زیادہ آمدنی حاصل ہو گی ۔

          جموں میں سی ایس آئی آر کی ایک لیب  اور  سری نگر میں  سی ایس آئی آر – آئی آئی آئی ایم   کی ایک شاخ   نہ صرف جموں و کشمیر میں  بلکہ پورے ملک میں  اپنی قدرتی مصنوعات  ، آیوش  اور  مربوط  ادویات  پر تحقیق و ترقی   کے ذریعے  بہت اہم رول ادا کر رہی ہے ۔  یہ لیب   شہد   ، اخروٹ اور دیگر خوردنی اشیاء کے لئے   سال 2000 ء سے این اے بی ایل کی مستند  لیبا ریٹری کے طور پر کام کر رہی ہے  اور یہ جموں و کشمیر میں   دواؤں کی ٹسٹنگ کی پہلی اور واحد لیب ہے ۔  اس نے  کئی نئے اور  جدید اقدامات بھی  کئے ہیں    کیونکہ یہ   ایسا  پہلا  اور واحد ادارہ ہے ،  جس  نے  کینسر  ،  درد کے بندوبست  اور دیگر بیماریوں کے لئے  تحقیق کی ہے ۔  کووڈ – 19 بحران کے دوران سی ایس آئی آر – آئی آئی آئی ایم  کی کوششوں سے  تقریباً 100000  آر ٹی پی سی آر ٹسٹ کئے گئے اور کووڈ – 19 کے علاج کے لئے آیوش کی مختلف دواؤں کے طبی تجربات  بھی کئے گئے ۔

          پچھلے مہینے   سی ایس آئی آر – اروما مشن  کے دوسرے مرحلے  کی خاطر کسانوں کے لئے ایک روزہ بیداری اور تربیتی پروگرام کا افتتاح کرنے کے بعد زرعی  اسٹارٹ اَپس   ،  نو جوان صنعت کاروں   اور کسانوں کے ساتھ  گفتگو کرتے ہوئے  جموں کے سی ایس آئی آر – آئی آئی ایم نے  ڈاکٹر جتیندر سنگھ  کو   ایک نو جوان  صنعت کار نے بتایا کہ   کھیتی کے لئے  جدید ٹیکنا لوجی   استعمال کرتے ہوئے   ، اُس نے   شروع میں 3 لاکھ  روپئے سالانہ  کمانا شروع کیا اور  اُس کے پاس صرف ایک ہیکٹئر   زمین ہے  ، جب کہ بی ٹیک کے دو گریجویٹ انجینئروں نے کہا کہ    اسی طرح کے  ایک  اسٹارٹ اَپ کے ذریعے  ، اُن کی آمدنی   پانچ مہینے کے مختصر  وقت میں دوگنی ہو گئی ہے ۔

Related posts

ای سنجیونی نے جو بھارت سرکار کی ٹیلی میڈیسن پہل ہے،1.2 کروڑ کنسلٹیشن مکمل کئے

سیاحت کا شعبہ ہندستان کا مقدر بدل سکتا ہے:پیوش گوئل

کابینہ نے سال 20-2019ء میں فاسفیٹ اور پوٹاش(پی اینڈ کے)کیمیاوی کھاد کے لئے اجزاء مبنی سبسڈی (این بی ایس) کی شرحوں کو منظوری دی