مرکزی وزیر داخلہ شری امت شاہ نے سی آر پی ایف کیمپ ، گروگرام میں سی اے پی ایف کی ملک گیر سطح پر شجرکاری مہم میں شرکت کی

Image default
Urdu News

مرکزی وزیر داخلہ شری امت شاہ نے سنٹرل آرمڈ پولیس فورسیز (سی اے پی ایف)کے شروع کردہ سی اے پی ایف کی ملک گیر شجرکاری مہم کے آغاز کے موقع پر آج گروگرام میں سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) کیمپس میں ‘پیپل’ کا ایک پودا لگایا۔ اس موقع پر جناب امت شاہ نے کہا ، “میں اپنے سی اے پی ایف کی تعریف کرتا ہوں اور ان بہادر جوانوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو نہ صرف قوم کو تحفظ فراہم کررہے ہیں بلکہ ملک بھر میں لمبی عمر والے درختوں کے 1.37 کروڑ سے زیادہ پودے لگانے کے لئے بھی انہوں نے اس بڑے پیمانے پر مہم شروع کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی اے پی ایف کے اہلکار نہ صرف ملک بھر کے مختلف مقامات جیسے ہوائی اڈوں اور ریلوے اسٹیشنوں کو سیکورٹی فراہم کر رہے ہیں اور دہشت گردی کی لعنت سے لڑ رہے ہیں ، بلکہ کووڈ۔19 وبائی مرض کے خلاف قوم کی جنگ میں بھی اپنا رول ادا کر رہے ہیں۔ وبائی مرض کی وجہ سے اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے 31 سے زیادہ سی اے پی ایف کورونا جانبازوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کی قربانی رائیگاں نہیں جائے گی اور کووڈ۔ انیس کے خلاف لڑائی کی تاریخ میں ان کا نام سنہرے حروف میں لکھا جائے گا۔

شری امت شاہ نے کہا کہ درخت لگانے کی یہ مہم ایک ایسے وقت میں چلائی جارہی ہے جب دنیا کو اس وبائی بیماری کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے خلاف جنگ لوگوں کی شرکت کے ساتھ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی قیادت میں لڑی جارہی ہے۔ آج بھارت ملک میں وبائی مرض کو روکنے میں کامیاب لڑائی کی رہنمائی کر رہا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب انتہائی ترقی یافتہ ممالک کی بھی صحت خدمات اس وبا کے زیر اثر کمزور پڑ رہی ہیں ، پوری دنیا کو تشویش لاحق تھی کہ ہندوستان جو کہ اتنا بڑا گنجان آبادی والا ملک ملک ہے اور جو ایک وفاقی ڈھانچہ ہے ، وہ اس وبا سے کس طرح لڑ پائے گا، لیکن آج اس وبائی مرض کے خلاف سب سے کامیاب لڑائی وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی سربراہی میں ہندوستان میں لڑی گئی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہم وزیر اعظم کی سربراہی میں “ایک لوگ ، ایک سوچ ، ایک قوم” کے موٹو کے ساتھ کووڈ۔ 19 کے خلاف مضبوطی سے لڑائی لڑ رہے ہیں۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری دنیا میں صرف حکومتیں ہی اس وبائی بیماری کا مقابلہ کر رہی ہیں ، لیکن یہاں ہندوستان میں ریاستی حکومتوں کے علاوہ 130 کروڑ لوگ اس خطرے سے لڑنے میں متحد ہیں۔ ملک بھر میں کہیں بھی خوف و ہراس کی کیفیت نہیں ہے ، در حقیقت ہم اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے تئیں پرعزم ہیں اور اس وبائی بیماری پر قابو پانے کے تئیں عہد بستہ ہیں۔ اس لڑائی میں ہمارے سی اے پی ایف ایک بہت اہم کردار ادا کررہے ہیں – چاہے وہ بازار ہوں ، ریلوے اسٹیشن ہوں ، چاہے ریاستی حکومتوں نے ہجوم والے مقامات سے نمٹنے میں مدد مانگی ہو یا مقامی پولیس نے لاک ڈاون نافذ کرنے میں ہماری سیکیورٹی فورسز کی مدد طلب کی ہو ، ہماری سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے ہمیشہ ان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے اپنی جان اور حفاظت کی پرواہ کیے بغیر کووڈ -19 ڈیوٹی پر تعیناتی کے دوران چوکس رہ کر قوم اور دنیا کے سامنے ایک مثال قائم کی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ملک بھر میں سی اے پی ایف کی شجرکاری مہم نے 1.37 کروڑ پودے لگانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ شری امت شاہ نے ایک قدیم ہندو متن کے حوالے سے کہا کہ ایک درخت کی اہمیت دس بیٹوں سے زیادہ ہے۔

दशकूपसमावापीदशवापीसमोह्रदः।

दशह्रदसमोपुत्रोदशपुत्रसमोद्रुमः।।

دشکپسما واپی، دشواپیسموہرد:۱

دشہردسمو پترو، دشپترسمو درم:۱۱

(ایک تالاب 10 کنویں کے برابر ہے ، ایک جھیل دس تالاب کے برابر ہے۔

ایک بیٹے کی اہمیت دس جھیلوں جیسی ہے اور ایک درخت کی دس بیٹوں کے برابرا اہمیت ہے)

شری امت شاہ نے کہا کہ ہمیں قدرتی وسائل کو استعمال کرنا چاہئے اور ان کا استحصال نہیں کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے آبا واجداد نے بہت پہلے اس بات پر زور دیا تھا کہ کسی کو فطرت کا استحصال نہیں کرنا چاہئے بلکہ اس کی بجائے فطرت کا ساتھ دینا چاہئے۔ تاہم ، آج کنزیومرزم کی وجہ سے ، یہ توازن بگڑ گیا ہے اور اس کے نتیجے میں ہمیں موسمیاتی تبدیلی اور گلوبل وارمنگ کے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ فطرت کے استحصال کی وجہ سے اوزون کی تہہ ختم ہوتی جارہی ہے۔ ہم ماحول میں زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائڈ خارج کر رہے ہیں اور اوزون پرت کے بغیر زندگی ممکن نہیں ہے۔

آلودگی کو کم کرنے میں درختوں کے ذریعہ ادا کئے جانے والے اہم رول پر زور دیتے ہوئے شری امت شاہ نے کہا کہ اس پودے لگانے کی مہم میں مختلف اقسام کے پودوں کا انتخاب کیا گیا ہے جیسے پیپل ، جامن ، نیم ، واٹاورکش ، برگد ان کی آکسیجن کی بنیاد پر جس میں مختلف موسموں میں زندہ رہنے کی صلاحیتیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تحفظ کے بارے میں متعدد پروگرام چلائے جارہے ہیں لیکن صرف شجرکاری ہی آلودگی کو روک سکتی ہے اور زمین کو بچا سکتی ہے۔

شری امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم شری نریندر مودی نے پیرس عالمی ماحولیاتی سربراہ اجلاس میں شرکت کی جہاں انہوں نے فطرت کے استحصال کے خلاف دنیا کو متنبہ کیا اور ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے بارے میں پیرس اعلامیے میں دنیا نے مودی فارمولا کو قبول کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی کوششوں کے نتیجے میں ، ہندوستان میں انٹرنیشنل سولر الائنس قائم کیا گیا۔ وزیر اعلی کے طور پر شری نریندر مودی کے دور میں گجرات ہندوستان کی پہلی ریاست بنی جہاں ماحولیاتی تحفظ سے متعلق ایک الگ محکمہ قائم کیا گیا۔ شری امت شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم نے سبز ایندھنوں کے استعمال پر بھی زور دیا ہے اور ایتھنول ملے ہوئے پٹرول کے استعمال کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ مرکزی وزیر داخلہ نے بتایا کہ حکومت ہند کے مختلف پروگراموں جیسے دیہی گھرانوں کو 8 کروڑ مفت سلنڈر بھی ماحولیات دوست ہیں۔ شری امت شاہ نے یہ کہتے ہوئے اپنا خطاب ختم کیا کہ سی اے پی ایف کو یہ یقینی بنانا ہے کہ شجرکاری مہم کو اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ بلکہ اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ جب تک وہ اپنے آپ کو برقرار رکھنے کے قابل نہ ہوں ان پودوں کا خیال رکھا جائے۔

اس موقع پر شری امت شاہ نے ’’ پیپل ‘‘درخت کا ایک پودا لگایا۔ مرکزی داخلہ سکریٹری ، جناب اجے کمار بھلا ، 7 سی اے پی ایف کے ڈی جی اور اعلی عہدیداران بھی موجود تھے۔ شجرکاری مہم کے تحت ملک کے طول وعرض میں سینٹرل آرمڈ پولیس فورسیز (سی اے پی ایف) کے مختلف مقامات پر 10 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے جارہے ہیں۔

وزیر اعظم جناب نریندر مودی کے ویژن سے ترغیب پا کر اور مرکزی وزیر داخلہ شری امت شاہ کی قیادت میں سی اے پی ایف (آسام رائفلز ، بی ایس ایف ، سی آئی ایس ایف ، سی آر پی ایف ، آئی ٹی بی پی ، این ایس جی اور ایس ایس بی) نے درخت لگانے کی یہ مہم فروری دو ہزار بیس سے شروع کی ہے۔ اس سال کے دوران 1.37 کروڑ سے زیادہ درخت لگانے کا ہدف ہے۔ مخصوص شعبوں میں لگائے جانے والے مناسب اقسام کی درختوں کے لئے ایک ٹائم ٹیبل مقرر کیا گیا ہے اور اس مقصد کے ایک نوڈل آفیسر کی تعیناتی کی گئی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ کی جانب سے شجرکاری سے ماحولیاتی مسائل کے بارے میں سی اے پی ایف کے اہلکاروں کو ترغیب ملی ہے۔ شجرکاری مہم گرین انڈیا کی سمت میں سی اے پی ایف کی ایک پہل ہے اور داخلی اور بیرونی سلامتی کو یقینی بنانے کے علاوہ ماحولیات کی حفاظت کے تئیں نیم فوجی دستوں کی عہدبستگی کو ظاہر کرتی ہے۔ 30 جون 2020 تک ملک کے مختلف خطوں میں تمام سی اے پی ایف کے ذریعہ 20 لاکھ سے زیادہ پودے لگائے گئے ہیں۔ سی اے پی ایف آئندہ سالوں میں بھی اسی طرح کی مہم چلائے گی۔

Related posts

ڈیجی یاترا-ہوائی مسافروں کیلئے ایک نیا تجربہ

آرکائیوز کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے بھارت اور پرتگال کے درمیان ایک تاریخی معاہدے پر دستخط

گاندھی نگر میں خواتین سرپنچوں کے ایک کنونشن ‘‘ سوؤچھ شکتی 2017’’سے وزیراعظم کا خطاب