مرکزی حکومت پیٹنٹ ، ڈیزائن ، ٹریڈ مارکس جی آئی سسٹم کے ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کے لئے عہد بند:جناب پیوش گوئل

Urdu News

مرکزی وزیر جناب پیوش گوئل  نےآج ممبئی میں پیٹنٹ، ڈائزائن اور ٹریڈ مارک کے چیف کنٹرولر کے ساتھ جائزہ میٹنگ کی۔ وزیر موصوف نے پیٹنگ ، ڈیزائن اور ٹریڈ مارک چیف کنٹرولر کے دفتر کے ذریعے کی گئی مختلف پہلو ں کا جائزہ لیا۔مرکزی وزیر نے پیٹنٹ ، ڈیزائن  اور ٹریڈ مارک، جی آئی سسٹم کے ایکو سسٹم کو مضبوط کرنے کےلئے حکومت کے عہد کو دوہرایا اور کہا کہ مرکزی حکومت ملک میں اختراعات ، تحقیق اور ترقی کی حوصلہ افزائی کرنے اور ہندوستان کی ورثے میں ملنے والی روایت سے نئی اختراعات اور علم کو عالمی پلیٹ فارم پر لانے کے لئے عہد بند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی ہدف کے ساتھ ہندوستان کو گلوبل اینوویشن ہب بنانے کےلئے 2014ء سے کوشش کی جارہی ہے۔

01.jpg

مرکزی وزیر نے سی جی پی ڈی ٹی کی درخواستوں کو جلد نمٹانے کے بارے میں بتایا کہ آئی پی آر محکمے میں زیر التوا معاملوں میں زبردست کمی آئی ہے۔ یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ کوئی بھی زیر التوا درخواست مہینوں نہیں ، بلکہ دنوں کے اندر مکمل کرلی جائے۔

جناب گوئل نے ملک میں اسٹارٹ اَپ اور خاتون کاروباریوں کی مدد اور حمایت کے لئے محکمے کے ذریعے فیس میں کی گئی کمی کے بارے میں معلومات دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے نوجوانوں کی مدد کے لئے اسٹارٹ اَپس ، ایم ایس ایم ای، خواتین کے لئے فیس بھرنے پر 80فیصد رعایت کا التزام کیاگیا ہے۔ ساتھ ہی اُن کی سہولت کے لئے بیشتر عمل کو آن لائن کردیاگیا ہے۔پہلے دور دراز کے لوگوں کو دفتر جانے کے لیے اپنی جیب سے پیسے خرچ کرنے پڑتے تھے، جو اب آسان ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پریشانی سے مبرا انتظامیہ  کو یقینی بناتاہے۔ انہوں نے اس کام کو پورا کرنے میں افسران کی بھی ستائش کی ۔ انہوں نے کہا کہ اِن تمام اقدامات سے ملک میں تحقیق ،  اختراعات، ترقی  اور سائنسی فکر کو بڑھاوا ملے گا۔ سی جی پی ڈی ٹی کے افسران نے بتایا کہ کس طرح آئی پی عمل کو پہلے کے مقابلے آسان اور منظم کیا گیا ہے۔ساتھ ہی جناب گوئل کو پورے پورے عمل کی ری-انجیئنرنگ کے بارے میں بھی بتایا گیا۔

02.jpg

جناب گوئل نے سارے عمل کو مزید استعمال کے لئے دوستانہ بنانے کے تعلق سے کچھ مشورے بھی دیئے۔انہوں نے جی آئی کے بارے میں بیداری میں اضافہ کرنے کےلئے ایک منصوبہ تیار کرنے کا مشورہ دیا اور آئی پی قانون کی پڑھائی کرنے والے طلباء کے لئے ادارہ جاتی اسکالرشپ پر بھی غور کئے جانے کی بات کہی اور ساتھ ہی ساتھ امتحان میں مدد کےلئے مشہور و معروف اداروں کو بھی جز وقتی طورپر اس عمل میں جوڑنے کی بات کہی۔

03.jpg

سی جی پی ڈی ٹی کے افسران نے یہ بتایا کہ کس طرح پہلے کے مقابلے آئی پی عمل کو آسان اور قابل عمل بنایاگیا ہے اور پورے عمل کی ری انجنئرنگ کے بارے میں بھی تفصیل دی۔ترمیم شدہ پیٹنٹ اور ٹریڈ مارک قوانین کی کچھ عام خصوصیات ذیل میں دی گئی ہیں:

  • درخواست کے جلد نمٹارے کے لئے وقت کی حد مقرر کی گئی۔ شنوائی میں التوا کی تعداد محدود کردی گئی ہے۔
  • اسٹارٹ اَپس اور ایم ایس ایم ای کے لئے خصوصی التزامات کئے گئے ہیں۔
  • فیس میں 10 فیصد کی چھوٹ کے ذریعے ای-فائلنگ کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے۔
  • سماعت ویڈیو کانفرنسگ کے توسط سے ہورہی ہے۔
  • خدمات کے طریقے کی شکل میں ای –میل کو منظوری۔
  • عمل کے تضادات اور فوری نمٹارےمیں غیر ضروری رُکاوٹوں کو ترمیم کے ذریعے دور کیاگیا۔

سی بی ڈی ٹی ایم نے آئی پی آر کے بارے میں معلومات کو جلد سے جلد پہنچانے اور رسائی میں آسانی و شفافیت یقینی بنانے کے لئے اٹھائے گئے قدم کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔اٹھائے گئے مختلف قدموں میں آئی پی او ویب سائٹ میں تم آئی پی آر کے لئے لاگ اِن سے آزاد آن لائن ڈاٹا کی فراہمی، آئی پی کے اقدامات کی ریئل ٹائم بیسس اسٹیسس،ہندوستانی پیٹنٹ  ترقی یافتہ تحقیق نظام(اِن پاس)تمام آئی پی عمل کے لئے آن لائن رسالوں کی ہفتے وار اشاعت، آئی پی آر کے لئے موبائل ایپلی کیشن لانچ کرنا، دفتری کام وغیرہ میں وقت کی حد کے بارے میں اَپ ڈیٹ کی معلومات  درخواست کنندگان کو ایس ایم ایس سے دینا وغیرہ شامل ہیں۔

جلد امتحان کے لئے وقت کی حد کا تعین:

یہ بھی ذکر کیا گیا کہ خاص طورسے اسٹارٹ اَپس، خواتین، چھوٹی اکائی کے ذریعے کی گئی درخواستیں اور غیر ملکی پیٹنٹ دفاتر وغیرہ کے ساتھ باہمی معاہدے کے مطابق درخواست کے دائر پیٹنٹ کی جانچ میں تیزی لانے پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

ذیل میں وقت کی مدت کی تفصیل:

  • ممتحن کو ایک مہینے کے اندر تعلیمی رپورٹ کنٹرولر کو دینی ہے، لیکن کنٹرولر کے ذریعے دی گئی تاریخ سے 2مہینے سے زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔
  • 6 ماہ کے اندر ایف ای آر کا جواب دینا ہوگا۔(تین ماہ کی توسیع کے ساتھ)
  • کنٹرولر کو درخواست کنندہ سے رد عمل موصول ہونے کے 3 ماہ کے اندر درخواست کا نمٹارا کرنا ہوگا۔

ہندوستان گلوبل اینوویشن انڈیکس (2015 میں 81سے 2020میں 48ویں مقام پر)میں تیزی سے اوپر آرہا ہے۔ محکمے کے ذریعے کئے گئے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیتے وقت یہ پایا گیا ہے کہ 96فیصد پیٹنٹ ای –فائلنگ کے توسط سے کئے جاتے ہیں۔ای-فائلنگ 30 فیصد سے بڑھ کر 95 فیصد سے زیادہ ہوگئی ہے۔اس کا امتحان میں 15-2014ء کے مقابلے 21-2020ء میں 223فیصد بڑھا ہے۔کل پیٹنٹ کا 22 فیصد گھریلو فائلنگ اور کل فائلنگ کے مقابلے گھریلو فائلنگ کا فیصد 13-2012ء میں 9911 سے  بڑھ کر 21-2020ء میں 24303ہوگیا ہے۔

04.jpg

اس میٹنگ میں جوائنٹ سیکریٹری ، ڈی پی آئی آئی ٹی(سی جی پی ڈی ٹیم ایم) راجندر رتنو، ڈائریکٹر ، محترمہ پونم سنگھ ، پیٹنٹ اور ڈیزائن کے نائب کنٹرولر دنیش پاٹل، ڈپٹی سیکریٹری کلیان ریویلا ، پیٹنٹ اور ڈیزائن کے ڈپٹی کنٹرولر امریندر سامل، ٹریڈ مارکس کے جوائنٹ رجسٹرار ستیندر پانڈے اور ٹی ایم اور جی آئی  کے ڈپٹی رجسٹرار ایس ڈی اوجھا بھی اس موقع پر موجود تھے۔

Related posts

مرکزی وزیر تعلیم نے آج ورچوول طریقے سے جے پور کے مالویہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے وویکانند لیکچر تھیٹر کمپلیکس کا افتتاح کیا

کابینہ نے زرعی سیکٹر میں مجموعی اسکیم گرین ریولیوشن – کرشونّتی یوجنا جاری رکھنے کی منظوری دے دی ہے

ریلوے پروٹیکشن فورس کے63 افسران اور عملہ کو عمدگی، نمایاں خدمات اور بہادری کے لئے سرفراز کیا گیا