عالمی بینک اور حکومت ہند نے بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کے لئے ہنگامی تدبیراتی پروگرام کے لئے 750 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے

Urdu News

نئی دہلی، عالمی بینک اور حکومت ہند نے آج ایم ایس ایم  ای ہنگامی تدبیراتی پروگرام کے لئے 750 ملین ڈالر کے معاہدے پر دستخط کئے۔ اس کا اصل مقصد کووڈ-19 کے بحران سے بری طرح متاثر بہت چھوٹی، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں (ایم ایس ایم ای) کے لئے مالی آمد میں اضافے کے لئے ضروری تعاون دینا ہے۔

عالمی بینک کا ایم ایس ایم ای ہنگامی تدبیراتی پروگرام تقریباً 1.5 ملین زندہ رہنے کی اہل (وئیبل) ایم ایس ایم ایز کی نقدی اور قرض سے متعلق فوری ضرورتوں کی تکمیل کرے گا، جس سے انھیں موجودہ دھچکے کے اثرات کو جھیلنے کے ساتھ ساتھ لاکھوں ملازمتوں کے تحفظ میں بھی مدد ملے گی۔ یہ ایم ایس ایم ای شعبے کو وقت کے ساتھ آگے بڑھانے کے لئے ضروری اصلاحات کے درمیان پہلا قدم ہے۔

اس معاہدے پر ہندوستانی حکومت کی جانب سے وزارت خزانہ کے اقتصادی امور سے متعلق محکمہ میں ایڈیشنل سکریٹری جناب سمیر کمار کھرے اور عالمی بینک کی جانب سے کنٹری ڈائریکٹر (ہندوستان) جناب جنید احمد نے دستخط کئے۔

جناب کھرے نے کہا کہ کووڈ-19 کی وبا سے ایم ایس ایم ای کا شعبہ بری طرح متاثر ہوا ہے جس سے روزی روٹی اور روزگار، دونوں ہی محاذوں پر بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ حکومت ہند اس بات کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کررہی ہے کہ مالی شعبے میں خاطرخواہ مقدار میں دستیاب لیکویڈیٹی کا بہاؤ این بی ایف سی کی جانب ہو اور خطرات  مول لینے سے کترارہے بینک این بی ایف سی کو قرض  دے کر معیشت میں مسلسل رقم ڈالتے رہیں۔ یہ پروجیکٹ ہدف بند ضمانت دینے میں حکومت کو ضروری تعاون دے گا جس سے زندہ رہنے کی اہل ایم ایس ایم ایز کو قرض دینے کے لئے این بی ایف سی اور بینکوں کی حوصلہ افزائی کی جاسکے گی، اس سے نمو کی صلاحیت کی حامل ایم ایس ایم ایز کو موجودہ بحران کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے میں مدد ملے گی۔

ورلڈ بینک گروپ، جس میں اس کی نجی شعبے سے متعلق شاخ انٹرنیشنل فائیننس کارپوریشن (آئی ایف سی) بھی شامل ہے، ایم ایس ایم ای شعبے کے تحفظ کے لئے حکومت کے ذریعے کئے گئے اقدامات میں درج ذیل اقدامات کے ذریعے ضروری تعاون دے گا:

لیکویڈیٹی کی قفل کشائی (اَنلاکنگ)

بازار میں لیکویڈیٹی یعنی نقدی کے بہاؤ کو یقینی بنانے کے لئے آر بی آئی اور حکومت ہند کے ذریعے کئے گئے شروعاتی اور فیصلہ کن اقدامات سے ہندوستان کے مالی نظام میں مضبوطی آئی۔ غیریقینی کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر قرض داروں کی قرض ادائیگی کی صلاحیت کے تئیں قرض دہندگان میں اب بھی داخل تشویش ہے، اس کی وجہ سے اس شعبے کی منافع بخش کمپنیوں کے لئے بھی قرض کا بہاؤ کافی محدود ہے۔ یہ پروگرام ایم ایس ایم ای شعبے میں لیکویڈیٹی لانے میں حکومت کی کوششوں میں ضروری تعاون دے گا۔ اس کے تحت بینکوں اور غیر بینکنگ مالی کمپنیوں (این بی ایف سی) کی جانب سے ایم ایس ایم ایز کو دیئے جانے والے قرضوں میں موجود خطرے کو قرض کی ضمانت سمیت متعدد اقدامات کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

این بی ایف سی اور ایس ایف بی کو مضبوط بنانا

قرض کے اہم بازار رخی چینلوں جیسے کہ این بی ایف سی اور اسمال فائیننس بینک (ایس ایف بی) کی فنڈنگ کی صلاحیت بڑھانے سے انھیں ایم ایس ایم ایز کی فوری اور متنوع ضرورتوں کی تکمیل میں مدد ملے گی۔ اس میں این بی ایف سی کے لئے حکومت کی ری فائیننس سہولت میں ضروری تعاون دینا بھی شامل ہوگا۔ یہی نہیں آئی ایف سی بھی قرضوں اور ایکویٹی  کے توسط سے ایس ایف بی کو براہ راست تعاون دے رہا ہے۔

مالی جدت طرازیوں کو باصلاحیت بنانا

موجودہ وقت میں صرف 8 فیصد ایس ایم ای کی ہی قرض سے متعلق ضرورتوں کی تکمیل رسمی قرضہ جاتی چینلوں سے ہورہی ہے۔ یہ پروگرام ایم ایس ایم ای کو قرض دینے اور ادائیگی میں سمٹیک اور ڈیجیٹل مالی خدمات کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرے گا اور اسے اصل دھارے میں لائے گا۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم قرض دہندگان، سپلائروں اور خریداروں کی رسائی، مختلف کمپنیوں بالخصوص چھوٹی کمپنیوں تک بڑی تیزی سے اور کم خرچ پر یقینی بنانے میں اہم رول ادا کریں گے، جن کی رسائی فی الحال رسمی (فارمل) چینلوں تک نہیں ہے۔

جناب جنید احمد نے کہا کہ کہ ایم ایس ایم ای کا شعبہ ہندوستان کی ترقی اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے میں مرکزی مقام رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ہی یہ کووڈ-19 کے بعد ہندوستان میں اقتصادی ترقی کی رفتار تیز کرنے میں بھی اہم رول ادا کرے گا۔ فوری ضرورت اس بات کو یقینی بنانے کی ہے کہ حکومت کے ذریعے مالی نظام میں ڈالی گئی لیکویڈیٹی لازماً ایم ایس ایم ای تک پہنچے۔ اتنا ہی نہیں ایم ایس ایم ای کے لئے فنڈنگ سے متعلق ماحول کو مضبوط بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہ پروگرام مؤثر مالی متوسط درجے کے اداروں کی شکل میں این بی ایف سی اور ایس سی بی کے رول کو مزید آگے بڑھاکر اور ایم ایس ایم ای شعبے میں فنڈنگ کی رسائی کو وسیع بنانے کے لئے فنٹیک کا فائدہ اٹھاکر ان دونوں مقاصد کی تکمیل کرنا چاہتا ہے۔

عالمی بینک نے ایم ایس ایم ای پروجیکٹ سمیت ہندوستان کی ہنگامی کووڈ-19 تدابیر میں ضروری تعاون دینے کے لئے اب تک 2.75 ارب ڈالر دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ ایک ارب ڈالر کی پہلی ہنگامی مدد کا اعلان ہندوستان کے صحت کے شعبے میں فوری تعاون دینے کے لئے اس سال اپریل مہینے میں کیا گیا تھا۔ ایک ارب ڈالر کے ایک اور پروجیکٹ کو مئی مہینے میں غریبوں اور کمزور طبقات کو نقد منتقلی اور غذائی فوائد میں اضافہ کے لئے منظور کیا گیا تھا۔ اس میں نسبتاً زیادہ مربوط ڈیلیوری پلیٹ فارم بھی شامل ہے، جو سبھی ریاستوں میں رہنے والی دیہی اور شہری دونوں ہی آبادیوں کے لئے دستیاب ہے۔

Related posts

بی ایس این ایل کی یوم آزادی پیش کش – ایک سچا ہندوستان اب رومنگ کے دوران بھی

ہندوستان اور میانمار نے دفاعی شعبے میں تعاون سے متعلق مفاہمت نامے پر دستخط کئے

ہندوستان کو ثالثی کا مرکز بنانے سے متعلق اعلی سطح کی کمیٹی نے رپورٹ پیش کی