طوفان امفن کے بعد کی صورتحال پر وزیر اعظم کا خطاب – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » طوفان امفن کے بعد کی صورتحال پر وزیر اعظم کا خطاب

طوفان امفن کے بعد کی صورتحال پر وزیر اعظم کا خطاب

پھر سے سمندری طوفان نے بھارت کے ساحلی علاقوں بطور خاص مشرقی علاقے کو متاثر کیا ہے اور اس میں بھی سب سے زیادہ اثر مغربی بنگال کے ہمارے بھائیوں اور بہنوں، مغربی بنگال کے شہریوں اور یہاں کی املاک پر مرتب ہوا ہے۔

سائیکلون کے امکانات سے لگاتار میں اس سے متعلق سبھی لوگوں کے رابطے میں تھا۔ حکومت ہند بھی لگاتار ریاستی حکومت کے رابطے میں تھی۔ سائیکلون کا نقصان کم سے کم ہو، اس کے لیے جو بھی ضروری اقدام کیے جانے چاہیے، اس کے لیے ریاستی حکومت اور مرکزی حکومت نے مل کر حتی الامکان کوشش کی۔ لیکن اس کے باوجود قریب قریب 80 لوگوں کی زندگی ہم نہیں بچا سکے۔ اس کا ہم لوگوں کو افسوس ہے۔ جن کنبوں نے اپنے اراکین گنوائے ہیں، ان کے تئیں مرکزی حکومت، ریاستی حکومت اور ہم سب کی ہمدردیاں ہیں اور مصیبت کی اس گھڑی میں ہم ان کے ساتھ ہیں۔

املاک کا نقصان بھی کافی ہوتاہے۔ چاہے زراعت ہو، چاہے بجلی کا شعبہ ہو، چاہے ٹیلی مواصلات ہو، چاہے گھروں کا اجڑ جانا ہو، متعدد قسم کا چاہے وہ بنیادی ڈھانچہ ہو، چاہے تجارتی دنیا سے مربوط کوئی چیز ہو، چاہے کاشت کاری کے شعبے سے مربوط، ہر کسی کو نقصان ہوتا ہے۔

آج میں نے فضائی جائزہ لے کر باریکی سے متاثرہ علاقوں کے سلسلے میں وزیراعلی محترمہ کے ساتھ، گورنر موصوف کے ساتھ دورہ کرکے اس کو دیکھا ہے۔ ابھی ریاستی حکومت نے اور وزیر اعلی موصوفہ نے تفصیل سے میرے روبرو جو بھی ابتدائی اندازہ ہے، اس کی تفصیل پیش کی ہے۔ ہم نے طے کیا ہے کہ ہوسکے اتنا جلد تفصیل میں سروے ہو۔ زراعت کا ہو، بجلی کے شعبے کا ہو، ٹیلی مواصلات کا ہو، گھروں کے جوحالات ہیں، بنیادی ڈھانچے کی جو صورت حال ہے، مرکزی حکومت کی طرف سے فوری طور پر  ایک ٹیم آئے گی اور وہ ٹیم ان سبھی علاقوں میں سروے کرے گی اور ہم سب مل کرکے بازآبادکاری ہو، بحالی ہو، تعمیر نو ہو، اس کا مفصل منصوبہ وضع کرکے بنگال کی اس دکھ کی گھڑی میں ہم پورا پورا ساتھ دیں گے، تعاون دیں گے اور بنگال جلد سے جلد کھڑ ہوجائے اور بنگال جلد سے جلد تیز رفتار سے آگے بڑھے، اس کے لیے حکومت ہند کندھے سے کندھا ملا کر کام کرے گی اور جو بھی ضروریات ہوں گی، ان ضروریات کی تکمیل کے لیے حکومت ہند کے جو بھی پالیسی اصول ہیں، ان کا بھرپور استعمال کرکے مغربی بنگال کی امداد میں ہم کھڑے رہیں گے۔

ابھی فوری طور پر، جو اس مصیبت کی گھڑی میں ریاستی حکومت کو پریشانی نہ ہو، اس کے لیے پیشگی امداد کے طور پر ایک ہزار کروڑ روپیہ حکومت ہند کی جانب سے فراہم کرایا جائے گا۔ ساتھ ہی ساتھ جن کنبوں نے اپنے اراکین کھوئے ہیں، ان کنبوں کو وزیراعظم کے راحت فنڈ سے 2 لاکھ روپے اور جن لوگوں کو چوٹیں آئی ہیں، ان کو 50 ہزار روپے کی امداد ہم وزیراعظم راحت فنڈ سے فراہم کریں گے۔

پوری دنیا ایک مسئلے سے جوجھ رہی ہے۔ بھارت بھی لگاتار کورونا وائرس کے خلاف لڑائی لڑ رہا ہے۔ کورونا وائرس کی لڑائی میں جیتنے کا اصول اور سائیکلون میں جیتنے کا اصول پوری طرح  ایک دوسرے سے برعکس ہیں۔ کورونا وائرس سے لڑنے کا اصول ہے، جو بھی جہاں ہے، وہیں رہے، ضرورت نہیں ہو، تب گھر سے باہر نہ نکلے اور جہاں بھی جائے، دوگز کی دوری بنائے رکھے۔ لیکن سائیکلون کا اصول ہے کہ سائیکلون آرہا ہے، جلدی سے محفوظ مقام پر آپ منتقل ہوجائیے، وہاں پہنچنے کی کوشش کیجیے، اپنا گھر خالی کیجیے، یعنی دونوں علیحدہ نوعیت کی لڑائیاں ایک ساتھ مغربی بنگال کو لڑنی پڑ رہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بھی ممتا جی کی قیادت میں ریاستی سرکار نے بھرپور کوشش کی ہے۔ حکومت ہند نے بھی لگاتار ان کے ساتھ رہ کر کے اس مشکل کی گھڑی میں، جو بھی ضروری اور پیشگی فرض تھا اور بروقت جس کا تقاضہ تھا اور آئندہ دنوں میں جو بھی کرنے کی ضرورت ہے،ا س کو بھی پور ا کرنے کی ہم کوشش کریں گے۔

آج پورے ملک  کو جن پر فخر ہے، ایسے راجہ رام موہن رائے کی پیدائش کا موقع ہے اور اس وقت میرا مغربی بنگال کی مقدس سرزمین پر ہونا، میرے دل کو چھونے والی بات ہوتی ہے۔ لیکن مشکل کی اس گھڑی سے ہم جوجھ رہے ہیں ، تاہم میں اتنا ہی کہوں گا کہ راجہ رام موہن رائے جی ہم سب کو آشیرواد دیں، تاکہ وقت کے مطابق سماجی تبدیلی کے جو ان کے خواب تھے، ان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ہم مل  بیٹھ کر ، مل جل کر ایک روشن مستقبل کے لیے، آنے والی پیڑھی کی تعمیر کے لیے اصلاح معاشرہ کے اپنے کاموں کو لگاتار جاری رکھیں گے اور وہی راجہ رام موہن رائے جی کو عمدہ ترین خراج عقیدت ہوگا۔

میں ، میرے مغربی بنگال کے سبھی بھائی بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ مصیبت کی اس گھڑی میں پورا ملک آپ کے ساتھ ہے، حکومت ہند کندھے سے کندھا ملا کر آپ کے ساتھ آنے والے تمام کاموں میں کھڑی رہے گی۔ اسی مصیبت کی گھڑی میں میں آپ سے ملنے آیاہوں، لیکن کورونا وائرس کی وجہ سے تمام شہریوں سے نہیں مل پارہا ہوں، دل میں ایک کسک تو رہ جائے گی۔ یہاں سے میں آج اوڈیشہ کی جانب سفر کروں گا اور وہاں بھی فضائی جائزہ لوں گا۔ وہاں کے معزز وزیراعلی سے، ریاستی حکومت سے بات چیت کروں گا۔

میں ایک بار پھر مغربی بنگال کی اس دکھ کی گھڑی میں آپ کے ساتھ ہوں۔ جلد سے جلد آپ اس مصیبت سے باہر نکلیں، اس کے لیے میں پوری طرح سے آپ کے ساتھ رہوں گا۔

About admin