صارفین کے امور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے بیوروآف انڈین اسٹینڈرڈس کے ذریعہ منعقدہ 60 ویں ‘ورلڈ اسٹینڈرڈ ڈے’ کی تقریبات کا افتتاح کیا؛ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس کو بھروسے کا مترادف بننا چاہیے اور عالمی معیارات قائم کرنے میں قائدانہ رول ادا کرنا چاہیے – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » صارفین کے امور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے بیوروآف انڈین اسٹینڈرڈس کے ذریعہ منعقدہ 60 ویں ‘ورلڈ اسٹینڈرڈ ڈے’ کی تقریبات کا افتتاح کیا؛ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس کو بھروسے کا مترادف بننا چاہیے اور عالمی معیارات قائم کرنے میں قائدانہ رول ادا کرنا چاہیے

صارفین کے امور، خوراک اور سرکاری نظام تقسیم کے مرکزی وزیر رام ولاس پاسوان نے بیوروآف انڈین اسٹینڈرڈس کے ذریعہ منعقدہ 60 ویں ‘ورلڈ اسٹینڈرڈ ڈے’ کی تقریبات کا افتتاح کیا؛ انہوں نے کہا کہ بی آئی ایس کو بھروسے کا مترادف بننا چاہیے اور عالمی معیارات قائم کرنے میں قائدانہ رول ادا کرنا چاہیے

صارفین کے امور، خورا ک اور سرکاری نظام تقسیم  کے مرکزی وزیر جناب رام ولاس پاسوان نے آج نئی دہلی میں ‘ویڈیو اسٹینڈرڈ س ایک عالمی اسٹیج تیار کرتا ہے’ کے موضوع پر بیورو آف انڈین اسٹینڈرس (بی آئی ایس) کے ذریعہ منعقدہ ‘ورلڈ اسٹینڈرڈ ڈے’ کی تقریبات کا افتتاح کیا۔یہ موضوع ہندوستانی تناظر کے عین موافق ہے،کیونکہ ہندوستان عالمی سطح پر تفریح اور ذرائع ابلاغ کا سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ ترقی کرنے والا بازار ہے اور توقع ہے کہ ہندوستان 11 فیصد سے زائد کی سالانہ شرح ترقی سے اس رفتار کو برقرار رکھے گا۔ اس غیر معمولی شرح ترقی کے ساتھ ہندوستان میں میڈیا اور تفریح کی صنعت سال 2023 تک 451373 کروڑ کی صنعت بن جائے گی۔

اپنا صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر جناب رام ولاس پاسوان نے 60 ویں معیارات کے عالمی دن کے موقع پر ہر ایک کو مبارکباد دی اور بی آئی ایس کے تمام حکام کی کوششوں کو سراہا۔ انہو ں نے کہا کہ ہمارے پاس دنیا کی بہترین لیباریٹریاں ہیں۔ جناب پاسوان نے بی آئی ایس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ بی آئی ایس کو عالمی معیارات اور حوالہ جات قائم کرنے  میں قائدانہ  ادا کرنا چاہیے۔  علاوہ ازیں بی آئی ایس کو بھروسے اور معیار کا مترادف بننے کے لئے طور طریقے تلاش کرنے چاہئیں۔ جناب پاسوان نے کہا کہ وہ بی آئی ایس کی باریکی سے نگرانی کررہے ہیں اور یہ کثیر سطح پر بالکل واضح ہے کہ ان کے کام کو اس طرح نہیں سراہا جاتا ہے جس طرح یہ حق رکھتا ہے۔ وزیر موصوف نے افسران سے کہا کہ وہ مناسب طور پر اپنے کام کو اجاگر کریں اور بی آئی ایس اور معیاری مصنوعات  سے متعلق عوام میں مزید بیداری پھیلائیں۔ 2024 تک ملک کے ہر ایک کنبے تک  پینے کا صاف ستھرا پانی مہیا کرانے  کے وزیراعظم جناب نریندر مودی کے ویژن کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے جناب پاسوان نے کہا کہ بی آئی ایس جو کہ پینے کے صاف پانی کے لئے معیارات مقرر کرتا ہے، اسے اس سلسلے میں وسیع رول ادا کرنا ہوگا۔ وزیر موصوف نے دلی کے پانی کے معیار کے بارے میں بات کی اور کہا کہ ان کی وزارت دلی کی مختلف جگہوں سے حاصل کئے گئے گیارہ  نمونوں کی حتمی رپورٹ کا انتظارکررہی ہے اور ایک مرتبہ جب یہ رپورٹ آجائے گی تو اس کو عوام کے لئے جاری کردیا جائے گا۔ جناب پاسوان نے کہا کہ ملک کے ہر ایک شہری کا حق ہے کہ اسے پینے کا صاف ستھرا پانی حاصل ہو۔ انہوں نے یقین دلایا کہ کوئی بھی شخص بالخصوص غریب فرد جس کی رسائی صاف ستھرے پانی تک نہیں ہے وہ بیماری میں مبتلا ہو جائے گا اور پانی سے پیدا ہونے والے امراض کا شکار بن جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کی وزارت پانی کے معیار کی درجہ بندی لےکر آئے گی۔ اس کی شروعات آئندہ تین مہینوں میں 100 اسمارٹ شہروں اور تمام ریاستی راجدھانیوں سے ہوگی اور اس عمل کی توسیع اگلے چھ مہینوں میں ملک کے تما م اضلاع تک  کردی جائے گی۔ جناب پاسوان نے کہا کہ پینے کے صاف پانی تک رسائی ایک مقبول عام تحریک بن جائے گی۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ انہوں نے تمام ریاستی وزرائے اعلی کو ایک مکتوب لکھا ہے جس میں پینے کے  نل کے پانی کے لئے  معیار کو لازمی بنانے کی بات کہی گئی ہے ۔

جناب رام پلاس پاسوان نے اس بارے میں بھی بات کی کہ بی آئی ایس کو کس طرح کے معیارات قائم کرنے چاہئیں جو کہ مضبوط اور موزوں ترین ہوں۔ الیکشن کمیشن کی مثال دیتے ہوئے  کہ کس طرح  اس نے انتخابات کے عمل میں پیسے طاقت کے استعمال پر قدغن  لگائی ہے اور کس طرح سے اس نے اپنی حیثیت اور خود مختاری میں بہتری لائی ہے، جناب پاسوان نے بی آئی ایس سے زور دیکر کہا کہ وہ بالکل اسی طرح پر کام کریں۔ جناب پاسوان نے کہا کہ دیوالی کے دوران بہت سے غیر معیاری پروڈکٹس/ مصنوعات ہندوستانی بازاروں میں داخل ہوتے ہیں اور جن میں ہمارے معیارات کا بالکل لحاظ نہیں رکھاجاتا ہے، لہذاہم سبھی کوا ن چیزوں کو آگے لے جانے کے لئے کام کرنا چاہیے تاکہ  ہندوستانی معیارات کو قابل قدر بنایاجاسکے۔

کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے صارفین کے امور کے سکریٹری جناب اویناش کے شریواستو نے بی آئی ایس کے لئے روڈ میپ کا اجاگر کیا۔ اس میں ایک ملک ایک میعار، پلاسٹک کے واحد  استعمال کی روک تھام کے لئے  کام کرنا، پائپ والے پینے کے پانی کے لئے معیارات مقررر کرنا اور گولڈ ہال مارک کا نفاذشامل ہیں۔ جناب شریواستو نے  بی آئی ایس کے ان تمام سائندانوں کو مبارکباد دی، جن کے عہدوں میں ترقی دی گئی ہے۔ انہوں نے کاہ کہ ان کی مانگ ایک طویل عرصے سے زیر التوا تھی، جس کو اب پورا کردیا گیا ہے۔انہوں نے تمام سائنسدانوں کو یہ بھی یقین دلایا کہ ان کی   سخت محنت، جدو جہد اور انہماک کو اسی طرح سے حکومت کی جانب سے انعام سے نوازا  جائے گا۔

بی آئی ایس کے ڈائرکٹر جنرل جنرل روہت کمار پرمار نے  شمع  روشن کرنے کی تقریب کے بعد خیرمقدمی کلمات کہتے ہوئے کہا کہ مصنوعات اور پروڈکٹس کا اسٹینڈرڈائزیشن  ایک اہم رول ادا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ 60 ویں ‘ورلڈ اسٹینڈرڈ ڈے ’ کا مرکزی خیال کافی موزوں ترین اور ہندوستان کے عین موافق ہے کیونکہ موبائل فون  اور دیگر الیکٹرونک آلات اور آئی ٹی نے ملک میں  ویڈیو پروڈکشن کو کافی ترقی دی ہے ۔ تخمینہ ہے کہ 2020 تک ہمارے انٹرنیٹ ٹریفک کا 80 فیصد  ویڈیو اسٹریمنگ ڈاٹا کے ذریعہ صرف کیا جائے گا۔  بعد ازاں مزید تکنیکی اجلاس اور پینل مباحثوں کا انعقا کیاجائے گا جس سے پروگرام کے شرکا کو کافی تجربات حاصل ہوں گے کیونکہ  بہت سے نامور  مقررین اظہار خیال کریں گے۔

About admin