سرکردہ تیل اور گیس کمپنیوں کے سی ای او حضرات سے وزیر اعظم کی گفت وشنید

Image default
Urdu News

  نئی دہلی،وزیر اعظم جناب نریندر مودی نے آج نیتی آیوگ اور پیٹرول اور قدرتی گیس کی وزارت کے زیر اہتمام منعقدہ سالانہ تقریب کے دوران سرکردہ تیل اور گیس کمپنیوں کے سی ای او حضرات سے گفت وشنید کی۔گفت وشنید کے دوران وزیر اعظم نے یہ پہلو اجاگر کیا کہ توانائی انسانی ترقیات کی بنیاد اور مرکز کی حیثیت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ توانائی شعبہ کے تمام پہلوؤں پر گفت وشنید اور غور وفکر ضروری ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کی پالیسی کا لب ولباب یہ ہے کہ تمام بھارتیوں کو صاف ستھری ، قابل استطاعت اور ہمہ گیر توانائی تک یکساں پیمانہ پر رسائی فراہم کرائی جائے اور اس سلسلے میں ملک نے ایک مربوط طریقہ کار اپنایا ہے۔

انھوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت بھارت کو سرمایہ کاری کے لئے پرکشش مقام بنانے کے سلسلے میں متعدد اقدامات کررہی ہے اور بھارت میں توانائی کے شعبہ میں سرمایہ کاری کے وافر مواقع دستیاب ہیں۔ اب بھارت تیل کی کھوج کے کام میں 100 فیصد غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری کی اجازت دیتا ہے اسی طریقے سے پروڈکشن کے پروجیکٹوں اور دیگر شعبوں میں بھی 49فیصد تک کی غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری سرکاری ادارہ کار کے شعبہ کے تحت عمل میں لانے کی گنجائش نکالی گئی ہے۔ تیل صاف کرنے کے شعبہ میں بھی خود کارراستے سے اسی طرح کی سرمایہ کاری کی گنجائش نکالی گئی ہے۔ ان اصلاحات کے نیتجے میں اس شعبہ میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ملک گیس پر مبنی معیشت بننے کے راستے پر گامزن ہے اور اس سلسلے میں لگاتار کوششیں کی جارہی ہیں اور ‘ون نیشن ون گیس گرڈ’ کے نصب العین کے حصول کے لئے گیس پائپ لائن نیٹ ورک وضع کیا جارہا ہے انھوں نے صاف ستھری ککنگ گیس کی سپلائی اور تقسیم کے نیٹ ورک کی توسیع کے لئے کی جانے والی کوششوں کا ذکر کیا اور ایندھن کی نقل وحمل کے پہلو پر بھی روشنی ڈالی۔ انھوں نے مزید کہا کہ بھارت کیمیاوی اشیا اور پیٹرول کیمیکلس مینوفیکچرنگ اور برآمدات کا ایک مرکز بننے کا نصب العین بھی اپنے سامنے رکھتا ہے۔

وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ انسانی ضروریات اور توقعات قدرتی گردنواحی صورتحال سے متصادم نہیں ہوسکتیں۔ انھوں نے کہا کہ بھارت اس اصول میں یقین رکھتا ہے کہ انسان کی اختیار کاری اور ماحولیات کی نگہداشت دونوں پہلوؤں کا لحاظ رکھاجانا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ملک اتھنول کے افزوں استعمال ، دوسری پیڑھی کے اتھنول پیداوار ،کمپریسڈ بایو گیس اور بایو ڈیژل کی افزوں پیدوار کے ذریعہ ایندھن کے لئے برآمدات پر انحصار کم سے کم کرنے کے لئے کوششیں کررہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمہ گیر ترقیات کے فلسفہ کی بنیاد پر بھارت نے بین الاقوامی شمسی اتحاد جیسے نئے اداروں کو پروان چڑھایا ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعظم نے اپنے نصب العین یعنی‘ ایک دنیا ، ایک سورج، ایک گرڈ ’ کا بھی حوالہ دیا ۔انھوں نے ہم سائگی کو اولیت کی بھارتی پالیسی کو بھی اجاگر کیا اور کہا کہ بھارت اپنے ہم سایہ ممالک نیپال، بنگلہ دیش ، سری لنکا ، بھوٹان اور میانمار کےساتھ توانائی رابط کو مستحکم بنا رہا ہے۔ انھوں نے اپنی بات یہ کہتے ہوئے مکمل کی کہ بھارت کا تیزی سے نمو پزیر توانائی شعبہ سرمایہ کاروں کےلئے زبردست مواقع کا حامل ہے۔ انھوں نے عالمی صنعت کو بھارت کی ترقی کے سفر میں شریک کار بننے اور مشترکہ خوشحالی کا ایک حصہ بننے کے لئے مدعو کیا اس کے لئے بھارت میں توانائی کی تمام تر شکلوں یا اصناف کی پیدوار کو فروغ دینا ہوگا۔

اس تقریب میں تیل اور گیس شعبہ کے تقریبا 40 سی ای او حضرات نے حصہ لیا ۔تقریبا28 سرکردہ شخصیات نے وزیراعظم کے روبرو اپنے نظریات رکھے۔کلیدی شرکائے کار مثلا ڈاکٹر سلطان احمد الجابر جو ابوظہبی کی تیل کمپنی کے سی ای او اور متحدہ عرب امارات کی صنعت اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی وزارت کے وزیر ہیں ، قطر کے توانائی امور کے وزیر اور ڈپٹی چیئر مین وصدر نیز سی ای او جناب سعد شیریڈا الکابی اور اوپی ای سی کے سکریٹری جنرل جناب محمد ساؤنسی برکندویوری سنٹورن جی ای سی ایف کے آئی ای اے ایگزیکیوٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر فیتھ بیرول اور آئی ایچ ایس مارکیٹ برطانیہ کے وائر چیئرمین ڈاکٹر ڈینئل یرگن نے اس شعبہ میں اپنے تاثرات اور اپنے اعدادوشمار ساجھا کئے ۔ روز نیفٹ ، بی پی،ٹوٹل ،لیونڈل بیسل ،تیلوریئن، شلومبرگر،بیکرہگس، جی ای آر اے ، ایمرسن اور ٹینکول جیسی تیل اور گیس کی بڑی کمپنیوں کے سی ای او حضرات نے بھی  اس میٹنگ میں شرکت کی۔

Related posts

سول سروسیز (مین) امتحان، 2017 کے تحریری نتائج کا اعلان

ملک کے 91 بڑے آبی ذخائر میں جمع پانی کی سطح میں ایک فیصد کی کمی واقع

صدر جمہوریہ نے سپریم کورٹ ایڈوکیٹس آن ریکارڈ کے ذریعہ منعقدہ قومی کانفرنس کا افتتاح کیا