ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں 2 مئی 2021 کو اتوار کو 10 واں کنووکیشن منعقد ہوا

Image default
Urdu News

نئی دہلی: ستیہ جیت رے فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں نے 2 مئی 2021 کو اتوار کو ورچوئل کنووکیشن کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دن اس لیے بھی خاص رہا کیونکہ عظیم فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے سال بھر چلنےوالی صد سالہ تقریب کا آغاز بھی آج ہی کے دن ہوا ہے۔ ستیہ جیت رے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر انچارج پروفیسر امریش چکرورتی کا کہنا ہے کہ “یہ دن ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ نے ہمیشہ نئے فلم سازوں کے ایک باصلاحیت گروپ سے قوم کو روبرو کرایا ہے۔”

فلم ونگ کے تیرہویں بیچ ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے پہلے بیچ اور انیمیشن سنیما کے پہلے بیچ کے فارغ التحصیل نے مختلف مہارت حاصل کرنے اور اپنی اپنی پہلی فلموں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد اپنا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

جناب رے کی فلم سازی کے انداز میں نہایت عمدگی سے جو سادگی رہی ہے اس سے بھی ان نوجوان فلم سازوں کو ایک دم شروعات میں ہی روبرو کرا دیا جاتا ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ تیار اور پیش  کی گئی مخصوص موضوع والی کل 21 فلموں اور ان کے طلباء کی ٹیم کو اعزاز سے نوازا گیاجن میں اینی میشن سینما کی چھ فلمیں ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی پانچ فلمیں اور فلم ونگ کی دس فلمیں شامل ہیں۔ جدید کہانیوں کو بیان کرنے والی ان فلموں میں شرن وینوگوپال کی ایک مخصوص تھیم والی فلم “لائک اے مڈنائٹ (اورو پاتھیراسوپنم پول)  بھی شامل ہے جسے حال ہی میں حکومت ہند کی ڈائریکٹوریٹ آف فلم فیسٹیول کے ذریعہ منعقدہ 67 ویں قومی فلم ایوارڈ تقریب کے دوران خاندانی اقدار پر بہترین فلم کے ایوارڈ نوازا گیا ہے۔

اس تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ اپرنا سین ، جو ایک مشہور اداکارہ اور فلم ساز ہیں اور جنہیں پدم شریک ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے ، نے فارغ التحصیل طلباء کو سینمااور متعلقہ آڈیو ویوزئل میڈیم کے مختلف موضوعات میں اپنی باقاعدہ تعلیم مکمل کر نے پر مبارکباد پیش کی۔

اختتامی خطاب میں انہوں نے ستیہ جیت رے سے جڑی اپنی یادوں کا بھی اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا ، “یہ دوگنا اچھا دن ہے کیونکہ آج ہی اس عظیم شخصیت کی یوم پیدائش کی صدسالہ تقریب کا آغاز بھی ہوا ہے۔” محترمہ اپرنا سین نے کہا کہ جناب ستیہ جیت رے میرےاستاد تھے اور ان کی فلموں میں کام کرنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میری پہلی اسکرپٹ جو میں نے لکھی تھی ، کو پڑھنے کے بعد جناب ستیہ جیت رے نے مجھے ششی کپور کو خط لکھنے اور ایک فلم ساز کے طور پر ان سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی۔’ محترمہ سین نے ایک اداکارہ کے طور پر فلمی دنیا میں اپنے کیریئر کا آغاز جناب ستیہ جیت رے کی فلم “تین بیٹیاں” (کشور کنیہ ، 1961) میں اہم کردار ادا کرکے کی۔

معزز پروفیسروں اوردنیائے صنعت کے ماہرین جنہوں نے ورکشاپس اور بین موضوعاتی سیشن منعقد کرائے ، فارغ التحصیل کی ڈگری حاصل کرنے والے 83 طلبا کو مبارکباد پیش کی۔ پرسنجیت گنگولی (حرکت پذیر فلمساز) ، ہیتندر گھوش (ساؤنڈ مکسنگ انجینئر) ، کیدر ناتھ اواتی (سابق پروفیسر ، ایف ٹی آئی آئی) ، اومیش ونایک کلکرنی (فلمساز) ، جواہر سرکار (سابق سی ای او ، پرسار بھارتی) اور انیل مہتا (سنیما ٹوگرافر) نے ان سبھی طلباء کے پہلے پروجیکٹ کے ان کی بہت ستائش کی اور ان کی آئندہ مہم جوئی اور سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

یہ انسٹی ٹیوٹ جس کا نام مشہور فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے نام پر رکھا گیا ہے، ایک بہترین مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں سینمیٹک اور ٹیلی ویژن کی تعلیم میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ایک فنکار ستیہ جیت رے نے ہی ہندوستانی سینما کی تاریخ میں پہلی بار اس کی جانب دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ سنجیدگی سے مبذول کرائی ۔ چونکہ سینما دراصل ایک ایسی زبان ہے جو زندگی داستانوں کو انتہائی جدید حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ اس لیے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل کو اپنا عالمی نظریہ پروان چڑھانے اور اسی کو اسکرین پر پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

نئی دہلی۔02مئی    ستیہ جیت رے فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں نے 2 مئی 2021 کو اتوار کو ورچوئل کنووکیشن کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دن اس لیے بھی خاص رہا کیونکہ عظیم فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے سال بھر چلنےوالی صد سالہ تقریب کا آغاز بھی آج ہی کے دن ہوا ہے۔ ستیہ جیت رے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر انچارج پروفیسر امریش چکرورتی کا کہنا ہے کہ “یہ دن ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ نے ہمیشہ نئے فلم سازوں کے ایک باصلاحیت گروپ سے قوم کو روبرو کرایا ہے۔”

فلم ونگ کے تیرہویں بیچ ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے پہلے بیچ اور انیمیشن سنیما کے پہلے بیچ کے فارغ التحصیل نے مختلف مہارت حاصل کرنے اور اپنی اپنی پہلی فلموں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد اپنا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

جناب رے کی فلم سازی کے انداز میں نہایت عمدگی سے جو سادگی رہی ہے اس سے بھی ان نوجوان فلم سازوں کو ایک دم شروعات میں ہی روبرو کرا دیا جاتا ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ تیار اور پیش  کی گئی مخصوص موضوع والی کل 21 فلموں اور ان کے طلباء کی ٹیم کو اعزاز سے نوازا گیاجن میں اینی میشن سینما کی چھ فلمیں ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی پانچ فلمیں اور فلم ونگ کی دس فلمیں شامل ہیں۔ جدید کہانیوں کو بیان کرنے والی ان فلموں میں شرن وینوگوپال کی ایک مخصوص تھیم والی فلم “لائک اے مڈنائٹ (اورو پاتھیراسوپنم پول)  بھی شامل ہے جسے حال ہی میں حکومت ہند کی ڈائریکٹوریٹ آف فلم فیسٹیول کے ذریعہ منعقدہ 67 ویں قومی فلم ایوارڈ تقریب کے دوران خاندانی اقدار پر بہترین فلم کے ایوارڈ نوازا گیا ہے۔

اس تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ اپرنا سین ، جو ایک مشہور اداکارہ اور فلم ساز ہیں اور جنہیں پدم شریک ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے ، نے فارغ التحصیل طلباء کو سینمااور متعلقہ آڈیو ویوزئل میڈیم کے مختلف موضوعات میں اپنی باقاعدہ تعلیم مکمل کر نے پر مبارکباد پیش کی۔

اختتامی خطاب میں انہوں نے ستیہ جیت رے سے جڑی اپنی یادوں کا بھی اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا ، “یہ دوگنا اچھا دن ہے کیونکہ آج ہی اس عظیم شخصیت کی یوم پیدائش کی صدسالہ تقریب کا آغاز بھی ہوا ہے۔” محترمہ اپرنا سین نے کہا کہ جناب ستیہ جیت رے میرےاستاد تھے اور ان کی فلموں میں کام کرنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میری پہلی اسکرپٹ جو میں نے لکھی تھی ، کو پڑھنے کے بعد جناب ستیہ جیت رے نے مجھے ششی کپور کو خط لکھنے اور ایک فلم ساز کے طور پر ان سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی۔’ محترمہ سین نے ایک اداکارہ کے طور پر فلمی دنیا میں اپنے کیریئر کا آغاز جناب ستیہ جیت رے کی فلم “تین بیٹیاں” (کشور کنیہ ، 1961) میں اہم کردار ادا کرکے کی۔

معزز پروفیسروں اوردنیائے صنعت کے ماہرین جنہوں نے ورکشاپس اور بین موضوعاتی سیشن منعقد کرائے ، فارغ التحصیل کی ڈگری حاصل کرنے والے 83 طلبا کو مبارکباد پیش کی۔ پرسنجیت گنگولی (حرکت پذیر فلمساز) ، ہیتندر گھوش (ساؤنڈ مکسنگ انجینئر) ، کیدر ناتھ اواتی (سابق پروفیسر ، ایف ٹی آئی آئی) ، اومیش ونایک کلکرنی (فلمساز) ، جواہر سرکار (سابق سی ای او ، پرسار بھارتی) اور انیل مہتا (سنیما ٹوگرافر) نے ان سبھی طلباء کے پہلے پروجیکٹ کے ان کی بہت ستائش کی اور ان کی آئندہ مہم جوئی اور سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

یہ انسٹی ٹیوٹ جس کا نام مشہور فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے نام پر رکھا گیا ہے، ایک بہترین مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں سینمیٹک اور ٹیلی ویژن کی تعلیم میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ایک فنکار ستیہ جیت رے نے ہی ہندوستانی سینما کی تاریخ میں پہلی بار اس کی جانب دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ سنجیدگی سے مبذول کرائی ۔ چونکہ سینما دراصل ایک ایسی زبان ہے جو زندگی داستانوں کو انتہائی جدید حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ اس لیے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل کو اپنا عالمی نظریہ پروان چڑھانے اور اسی کو اسکرین پر پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

نئی دہلی۔02مئی    ستیہ جیت رے فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں نے 2 مئی 2021 کو اتوار کو ورچوئل کنووکیشن کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دن اس لیے بھی خاص رہا کیونکہ عظیم فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے سال بھر چلنےوالی صد سالہ تقریب کا آغاز بھی آج ہی کے دن ہوا ہے۔ ستیہ جیت رے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر انچارج پروفیسر امریش چکرورتی کا کہنا ہے کہ “یہ دن ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ نے ہمیشہ نئے فلم سازوں کے ایک باصلاحیت گروپ سے قوم کو روبرو کرایا ہے۔”

فلم ونگ کے تیرہویں بیچ ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے پہلے بیچ اور انیمیشن سنیما کے پہلے بیچ کے فارغ التحصیل نے مختلف مہارت حاصل کرنے اور اپنی اپنی پہلی فلموں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد اپنا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

جناب رے کی فلم سازی کے انداز میں نہایت عمدگی سے جو سادگی رہی ہے اس سے بھی ان نوجوان فلم سازوں کو ایک دم شروعات میں ہی روبرو کرا دیا جاتا ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ تیار اور پیش  کی گئی مخصوص موضوع والی کل 21 فلموں اور ان کے طلباء کی ٹیم کو اعزاز سے نوازا گیاجن میں اینی میشن سینما کی چھ فلمیں ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی پانچ فلمیں اور فلم ونگ کی دس فلمیں شامل ہیں۔ جدید کہانیوں کو بیان کرنے والی ان فلموں میں شرن وینوگوپال کی ایک مخصوص تھیم والی فلم “لائک اے مڈنائٹ (اورو پاتھیراسوپنم پول)  بھی شامل ہے جسے حال ہی میں حکومت ہند کی ڈائریکٹوریٹ آف فلم فیسٹیول کے ذریعہ منعقدہ 67 ویں قومی فلم ایوارڈ تقریب کے دوران خاندانی اقدار پر بہترین فلم کے ایوارڈ نوازا گیا ہے۔

اس تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ اپرنا سین ، جو ایک مشہور اداکارہ اور فلم ساز ہیں اور جنہیں پدم شریک ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے ، نے فارغ التحصیل طلباء کو سینمااور متعلقہ آڈیو ویوزئل میڈیم کے مختلف موضوعات میں اپنی باقاعدہ تعلیم مکمل کر نے پر مبارکباد پیش کی۔

اختتامی خطاب میں انہوں نے ستیہ جیت رے سے جڑی اپنی یادوں کا بھی اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا ، “یہ دوگنا اچھا دن ہے کیونکہ آج ہی اس عظیم شخصیت کی یوم پیدائش کی صدسالہ تقریب کا آغاز بھی ہوا ہے۔” محترمہ اپرنا سین نے کہا کہ جناب ستیہ جیت رے میرےاستاد تھے اور ان کی فلموں میں کام کرنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میری پہلی اسکرپٹ جو میں نے لکھی تھی ، کو پڑھنے کے بعد جناب ستیہ جیت رے نے مجھے ششی کپور کو خط لکھنے اور ایک فلم ساز کے طور پر ان سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی۔’ محترمہ سین نے ایک اداکارہ کے طور پر فلمی دنیا میں اپنے کیریئر کا آغاز جناب ستیہ جیت رے کی فلم “تین بیٹیاں” (کشور کنیہ ، 1961) میں اہم کردار ادا کرکے کی۔

معزز پروفیسروں اوردنیائے صنعت کے ماہرین جنہوں نے ورکشاپس اور بین موضوعاتی سیشن منعقد کرائے ، فارغ التحصیل کی ڈگری حاصل کرنے والے 83 طلبا کو مبارکباد پیش کی۔ پرسنجیت گنگولی (حرکت پذیر فلمساز) ، ہیتندر گھوش (ساؤنڈ مکسنگ انجینئر) ، کیدر ناتھ اواتی (سابق پروفیسر ، ایف ٹی آئی آئی) ، اومیش ونایک کلکرنی (فلمساز) ، جواہر سرکار (سابق سی ای او ، پرسار بھارتی) اور انیل مہتا (سنیما ٹوگرافر) نے ان سبھی طلباء کے پہلے پروجیکٹ کے ان کی بہت ستائش کی اور ان کی آئندہ مہم جوئی اور سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

یہ انسٹی ٹیوٹ جس کا نام مشہور فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے نام پر رکھا گیا ہے، ایک بہترین مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں سینمیٹک اور ٹیلی ویژن کی تعلیم میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ایک فنکار ستیہ جیت رے نے ہی ہندوستانی سینما کی تاریخ میں پہلی بار اس کی جانب دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ سنجیدگی سے مبذول کرائی ۔ چونکہ سینما دراصل ایک ایسی زبان ہے جو زندگی داستانوں کو انتہائی جدید حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ اس لیے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل کو اپنا عالمی نظریہ پروان چڑھانے اور اسی کو اسکرین پر پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

نئی دہلی۔02مئی    ستیہ جیت رے فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں نے 2 مئی 2021 کو اتوار کو ورچوئل کنووکیشن کی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔ یہ دن اس لیے بھی خاص رہا کیونکہ عظیم فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے سال بھر چلنےوالی صد سالہ تقریب کا آغاز بھی آج ہی کے دن ہوا ہے۔ ستیہ جیت رے انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر انچارج پروفیسر امریش چکرورتی کا کہنا ہے کہ “یہ دن ہمارے لئے بہت اہم ہے کیونکہ ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ نے ہمیشہ نئے فلم سازوں کے ایک باصلاحیت گروپ سے قوم کو روبرو کرایا ہے۔”

فلم ونگ کے تیرہویں بیچ ، الیکٹرونک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کے پہلے بیچ اور انیمیشن سنیما کے پہلے بیچ کے فارغ التحصیل نے مختلف مہارت حاصل کرنے اور اپنی اپنی پہلی فلموں کو کامیابی کے ساتھ مکمل کرنے کے بعد اپنا پوسٹ گریجویٹ ڈپلومہ سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔

جناب رے کی فلم سازی کے انداز میں نہایت عمدگی سے جو سادگی رہی ہے اس سے بھی ان نوجوان فلم سازوں کو ایک دم شروعات میں ہی روبرو کرا دیا جاتا ہے۔ اس انسٹی ٹیوٹ کے ذریعہ تیار اور پیش  کی گئی مخصوص موضوع والی کل 21 فلموں اور ان کے طلباء کی ٹیم کو اعزاز سے نوازا گیاجن میں اینی میشن سینما کی چھ فلمیں ، الیکٹرانک اور ڈیجیٹل میڈیا ونگ کی پانچ فلمیں اور فلم ونگ کی دس فلمیں شامل ہیں۔ جدید کہانیوں کو بیان کرنے والی ان فلموں میں شرن وینوگوپال کی ایک مخصوص تھیم والی فلم “لائک اے مڈنائٹ (اورو پاتھیراسوپنم پول)  بھی شامل ہے جسے حال ہی میں حکومت ہند کی ڈائریکٹوریٹ آف فلم فیسٹیول کے ذریعہ منعقدہ 67 ویں قومی فلم ایوارڈ تقریب کے دوران خاندانی اقدار پر بہترین فلم کے ایوارڈ نوازا گیا ہے۔

اس تقریب کی مہمان خصوصی محترمہ اپرنا سین ، جو ایک مشہور اداکارہ اور فلم ساز ہیں اور جنہیں پدم شریک ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے ، نے فارغ التحصیل طلباء کو سینمااور متعلقہ آڈیو ویوزئل میڈیم کے مختلف موضوعات میں اپنی باقاعدہ تعلیم مکمل کر نے پر مبارکباد پیش کی۔

اختتامی خطاب میں انہوں نے ستیہ جیت رے سے جڑی اپنی یادوں کا بھی اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا ، “یہ دوگنا اچھا دن ہے کیونکہ آج ہی اس عظیم شخصیت کی یوم پیدائش کی صدسالہ تقریب کا آغاز بھی ہوا ہے۔” محترمہ اپرنا سین نے کہا کہ جناب ستیہ جیت رے میرےاستاد تھے اور ان کی فلموں میں کام کرنا میرے لیے خوش قسمتی کی بات تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘میری پہلی اسکرپٹ جو میں نے لکھی تھی ، کو پڑھنے کے بعد جناب ستیہ جیت رے نے مجھے ششی کپور کو خط لکھنے اور ایک فلم ساز کے طور پر ان سے رابطہ کرنے کی ترغیب دی۔’ محترمہ سین نے ایک اداکارہ کے طور پر فلمی دنیا میں اپنے کیریئر کا آغاز جناب ستیہ جیت رے کی فلم “تین بیٹیاں” (کشور کنیہ ، 1961) میں اہم کردار ادا کرکے کی۔

معزز پروفیسروں اوردنیائے صنعت کے ماہرین جنہوں نے ورکشاپس اور بین موضوعاتی سیشن منعقد کرائے ، فارغ التحصیل کی ڈگری حاصل کرنے والے 83 طلبا کو مبارکباد پیش کی۔ پرسنجیت گنگولی (حرکت پذیر فلمساز) ، ہیتندر گھوش (ساؤنڈ مکسنگ انجینئر) ، کیدر ناتھ اواتی (سابق پروفیسر ، ایف ٹی آئی آئی) ، اومیش ونایک کلکرنی (فلمساز) ، جواہر سرکار (سابق سی ای او ، پرسار بھارتی) اور انیل مہتا (سنیما ٹوگرافر) نے ان سبھی طلباء کے پہلے پروجیکٹ کے ان کی بہت ستائش کی اور ان کی آئندہ مہم جوئی اور سفر کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔

یہ انسٹی ٹیوٹ جس کا نام مشہور فلمی شخصیت جناب ستیہ جیت رے کے نام پر رکھا گیا ہے، ایک بہترین مرکز کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے جہاں سینمیٹک اور ٹیلی ویژن کی تعلیم میں پوسٹ گریجویٹ پروگرام پیش کئے جاتے ہیں۔ صحیح معنوں میں ایک فنکار ستیہ جیت رے نے ہی ہندوستانی سینما کی تاریخ میں پہلی بار اس کی جانب دنیا بھر کے لوگوں کی توجہ سنجیدگی سے مبذول کرائی ۔ چونکہ سینما دراصل ایک ایسی زبان ہے جو زندگی داستانوں کو انتہائی جدید حقیقت پسندانہ انداز میں پیش کرتا ہے ۔ اس لیے ستیہ جیت رے فلم اینڈ ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ کے فارغ التحصیل کو اپنا عالمی نظریہ پروان چڑھانے اور اسی کو اسکرین پر پیش کرنے کی ترغیب دی جاتی ہے۔

Related posts

صدرجمہوریہ نے مہاتما گاندھی کی 150 ویں یوم پیدائش کی یاد میں لوگو اور پورٹل جاری کیا

وزیر دفاع نے پروجیکٹ سی برڈ، کارواڑ کے تحت زمین کے حصول کے لیے چیک تقسیم کیے

دولت مشترکہ کھیلوں میں میڈل حاصل کرنے والوں کے ساتھ وزیراعظم کی بات چیت