33 C
Lucknow

سال25-2024 تک 33 نئے ڈومیسٹِک کارگو ٹرمینل: جناب سندھیا

Urdu News

شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر جناب جیوترادتیہ ایم سندھیا نے آج ایئر کارگو فورم انڈیا (اے سی ایف آئی) کے سالانہ پروگرام میں  مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔سالانہ تقریب کا مرکزی خیال ‘‘10 ملین: ویژن 2030؛ اِسٹیمولیٹِنگ، اسکیلنگ، اسٹیئرنگ ایئر کارگو’’ تھا۔ تقریب میں شریک دیگر معززین میں جناب پیوش سریواستو، اعلیٰ اقتصادی مشیر، شہری ہوا بازی کے وزیر، جناب سائرس کٹگارا، صدر، اے سی ایف آئی، جناب یشپال شرما، نائب صدر، اے سی ایف آئی شامل تھے۔ ان کے علاوہ اے سی ایف آئی سے جناب اروند اگروال، جناب ارون شرما اور اے ایف سی آئی کے دیگر اعلیٰ شخصیات اور کارگو انڈسٹری کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

کووڈ کے دور میں گزشتہ دو برسوں کے دوران  کارگو سیکٹر نہ صرف ہندوستانی ہوا بازی بلکہ عالمی ہوا بازی کے لئے ایک امید افزا شعبے کے طور پر ابھرا ہے۔ ہندوستانی کارگو سیکٹر نے 2014-2013 کے بعد سے 9-10 فیصد کی شرح سے فروغ حاصل کیا ہے۔ پچھلے دو برسوں کے دوران ایئر لائنز کی مال برداری کی محصولات میں 520 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ سرِ دست ہندوستانی کارگو کی آمدنی 13 فیصد  سی جی آر اور  3.1 ملین میٹرک ٹنیج کے ساتھ ہے  2,000 کروڑ روپے ہے۔ آج ہندوستان کے پاس 21 بین الاقوامی اور 35 ڈومیسٹک  کارگو ٹرمینل ہیں۔

جناب جیوتیرادتیہ ایم سندھیا نے کارگو سیکٹر کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایئر کارگو نے دشوار گزار کووڈ کے دور میں ایک کمزور فریق کے طور پر کام شروع کیا تھا لیکن اس صنعت میں نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے اور تبدیل کرنے کی صلاحیت تھی۔ کووِڈ کے زمانے میں ہم نے 3 سال کی مختصر مدت میں تیزی سے 7 مال بردار جہاز سے  28 مال بردار جہاز تک عمل کا دائرہ بڑھایا ہے۔

کارگو سیکٹر میں اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ  10 ملین میٹرک ٹن کارگو کا ہدف حاصل کرنے کیلئے صنعت کے جانبازوں کو ٹائر ٹو اور تھری شہروں سے میٹروز تک ہلکی مال برداری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ مقصد چھوٹے سائز کے ہوائی جہازوں کے حصول سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کی سہولت کے لئے ہم 2025-2024 تک 33 نئے گھریلو کارگو ٹرمینلز بھی قائم کر رہے ہیں جس سے ہمارے کارگو سیکٹر کو پھلنے پھولنے اور بڑھنے کا موقع فراہم ہو گا۔ ہمیں کارگو سیکٹر میں کام کاج کو غیر کاغذی بنا کر آٹومیشن کو اپناتے ہوئے ڈیجیٹلائزیشن کے ذریعے کارگو سیکٹر میں کاروبار کرنے میں آسانی پر کام کرنے کی ضرورت ہے جس سے کارگو پروسیسنگ کو تیز کیا جا سکتا ہے۔

وزیر موصوف نے ہوائی اڈوں کے لئے فزیکل انفراسٹرکچر کے منصوبے کی بھی وضاحت کی جو کارگو ہینڈلنگ کے لئے ضروری ہے۔ شہری ہوا بازی کی وزارت نئے گرین فیلڈ ہوائی اڈوں کے قیام اور موجودہ براؤن فیلڈ ہوائیاڈوں کی توسیع کے سلسلے میں چار برسوں میں تقریباً 98,000 کروڑ روپے خرچ کرے گی۔ اس میں سے  62,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری پرائیویٹ سیکٹر کے ذریعہ کی جائے گی اور  36,000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری حکومت ہند اے اے آئی کے ذریعہ کرے گی۔ حکومت اے اے آئی کے ذریعے 42 براؤن فیلڈ ہوائی اڈوں کو توسیع دے گی اور 3 نئے گرین فیلڈ ہوائی اڈے قائم کرے گی۔ جبکہ پرائیویٹ سیکٹر 7 موجودہ براؤن فیلڈ ہوائی اڈوں کو توسیع دے گا اور 3 نئے گرین فیلڈ ہوائی اڈے قائم کرے گا جن میں نوی ممبئی، جیور اور موپا شامل ہیں۔ انہوں نے تفصیل سے بتایا کہ اس سے کس طرح ملک میں مواقع  پیدا ہوئے ہیں۔ جناب سندھیا نے تریپورہ کے جیک فروٹ کی مثال دی جسے برطانیہ اور جرمنی میں بازار مل رہا ہے جبکہ آسام سے کنگ مرچیں اور لیموں اب لندن میں سپلائی ہو رہے ہیں۔یہ  زراعت سے ہوا بازی کی ایک بہترین مثال ہے ملک کے دور دراز علاقوں میں فضائی انفراسٹرکچر کی دستیابی کی وجہ سے دو بظاہر غیر متعلقہ شعبوں کا ربط جوڑا جا رہا ہے۔

ایئر کارگو فورم انڈیا (اے سی ایف آئی) ایئر کارگو لاجسٹک سپلائی چین ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے مختلف ذمہ داروں یعنی فریٹ فارورڈروں، ایئر لائنوں، ایئرپورٹ آپریٹروں، کارگو ٹرمینل آپریٹروں، کسٹمز ہاؤس ایجنٹوں اور ایکسپریس انڈسٹری کی ایک انجمن ہے جو 14 ستمبر 2012 کو قائم ہوئی۔

Related posts

کمبائن ڈیفنس سروسز امتحانات (II)2017 حتمی نتیجہ کا اعلان

پریٹن پرو کا 16 دن پورے ملک میں منایا گیا

وزیراعظم نے اداکار وویک کے انتقال پر تعزیت کا اظہا ر کیا