زرعی مصنوعات کی گھریلو اوربین الاقوامی مارکیٹوں میں اس طرح مارکیٹنگ کی ضرورت ہے کہ پیداوار کی لاگت کم ہوجائے :جناب نتن گڈکری

Image default
Urdu News

نئی دہلی، بہت چھوٹی ، چھوٹی اور اوسط درجے کی صنعتوں کے مرکز ی وزیرنتن گڈکری نے آج کہاہے کہ کسانوں کی مصنوعات سے متعلق کمپنی ( ایف پی سی ) کی تیارکردہ مصنوعات کی گھریلواور بین الاقوامی مارکیٹوں میں اس طرح مارکیٹنگ کرنے کی ضرورت ہے جس سے پیداوارکی لاگت میں کمی آجائے۔وہ ناگپور سے ایک ویبی نارسے خطاب کررہے تھے جس کا موضوع تھا زرعی ایم ایس ایم ای شعبے میں کلسٹرکی تیاری ۔ راجیہ سبھا کے ممبرپارلیمنٹ ڈاکٹروکاس مہاتمے ، ناگپور کے ایم ایس ایم ای ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹرڈاکٹرپارلیواربھی اس موقع پرموجود تھے ۔

جناب گڈکری نے امراوتی ضلع میں ایف ی سی کے نمائندوں ان سے اپیل کی ہے جنہوں نے ویبینار میں شرکت کی کہ وہ اس بات پرتوجہ مرکوز کریں کہ پیداوار ، ٹرانسپورٹیشن اور محنت مزدوروں پرآنے والی لاگت میں کس طرح کمی آئے اورساتھ ہی ساتھ پیداوار میں بھی اضافہ ہو۔انھوں نے یہ بھی کہاکہ مصنوعات کو گھریلومنڈی میں کوالٹی سے سمجھوتہ کئے بغیردستیاب کرایاجاناچاہیئے ۔ اس کے بعد اضافی پیداوار کو ملک سے باہربرآمدکرناچاہیئے ۔

جناب گڈکری نے یہ مشورہ بھی دیا کہ کسانوں کی طرف سے پیداوار کی لاگت میں کمی کرنے اور صنعتوں کی طرف سے ڈبہ بندی کے اخراجات میں کمی کرنے سے صنعت کے لئے فائدہ مندہوگا۔ انھوں نے کہاکہ دالوں کے مل کلسٹروالی کسانوں کی مصنوعات کمپنی ، اپنی پیداوار اورٹرانسپورٹیشن کی لاگت میں ،  شمسی چھتوں ، ریل گاڑی کے اخراجات اورخشک بندرگاہ کا استعمال کرکے کرسکتی ہے ۔ انھوں نے کسانوں سے بھی اپیل کی کہ وہ کیمیاوی کھادوں اور جراثیم کشن دواؤں کے استعمال کے بجائے ، زرعی کچرے سے بنی ہوئی نامیاتی کیمیاری کھادوں کا استعمال کرکے ، پیداوارکی لاگت میں کمی کرسکتے ہیں ۔

ودربھ کے ہرضلع میں قدرتی وسائل دستیاب ہیں جنھیں کھادی اور دیہی صنعتوں کا محکمہ استعمال کرسکتاہے اوروہ کسانوں کی مصنوعات سے متعلق ایسی کمپنیوں کے لئے ضلع کے مطابقت انھوں نے یہ مشورہ بھی دیاکہ کسانوں کی مصنوعات کمپنیاں شہد اور ریشم سے مصنوعات تیارکرسکتی ہیں ، جو چندرہ پورمیں دستیاب ہیں ۔ اگربتی کلسٹر، چندراپوراورگڈچرولی ضلع کی بانس کی زراعت والی پٹیوں میں قائم کئے جاسکتے ہیں ۔ جناب گڈکری نے زرعی محکمے کی آلات سے متعلق بھی بتایا۔ اس اسکیم کے تحت کسانوں کے گروپ اورکسانوں کی پیداوار سے متعلق کمپنیاں ، سازوسامان خرید سکتی ہیں اورانھیں کرائے کی بنیاد پر استعمال کرسکتی ہیں ۔

مہاراشٹرکے امراوتی ضلع میں 20ہزارکسان 55کسان پیداوار کمپنیوں سے مربوط ہیں اور یہ معاہدے ٹاٹاانٹرنیشنل اور وال مارٹ کے ساتھ ، اس کی پیداوار کی مارکیٹنگ کے لئے کئے گئے ۔ ناگپور کے ایم ایس ایم ای ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر پارلیوارنے بتایاکہ کسانوں کی پیداوار سے متعلق کمپنیوں کی پیداوارکے لئے مشترکہ سہولت مراکز ( سی ایف سی ) بھی ودربھ  خطے میں قائم کئے جارہے ہیں ۔

جناب نتن گڈکری نے کسانوں کی پیداوار کمپنیوں کے نمائندوں کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات بھی دئیے جو شہروں کو ڈبہ بند کرنے کی صنعت کے بارے میں تھے ۔ سوالوں کے جواب انھوں نے ویبینارکے اختتام پردیئے ۔انھوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت بھی دی کہ وہ رہنمائی سے متعلق ایک میٹنگ بھی منعقد کریں ۔ یہ میٹنگ اس طرح کی ایف پی سی کو زراعت کے شعبے اور ایم ایس ایم ای کی طرف سے دستیاب اسکیموں کی وضاحت کے لئے ناگپور میں لاک ڈاون مدت کے اختتام کے بعد منعقدکی جائیں ۔ ایس ویبینار میں ودربھ کی کسانوں کی پیداوار سے متعلق کمپنیوں کے نمائندوں اورٹاٹا انٹرنیشنل کے نمائندوں نے شرکت کی ۔

Related posts

جناب اشوک لواسا نے نئے الیکشن کمشنر کے طور پر عہدہ سنبھالا

ازمیر کے بین الاقوامی تجارتی میلے میں ہندوستان کو خاص توجہ طلب ملک کی حیثیت حاصل ہے

جناب جے پی نڈا نے ’’بھات میں حفظان صحت کے شعبے میں زندگی اور آگ سے سلامتی ‘‘کے موضوع پر قومی ورکشاپ کا افتتاح کیا