دفعہ 370 کی منسوخی سے جموںوکشمیر میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی: نائب صدر جمہوریہ – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » دفعہ 370 کی منسوخی سے جموںوکشمیر میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی: نائب صدر جمہوریہ

دفعہ 370 کی منسوخی سے جموںوکشمیر میں ترقی کی رفتار تیز ہوگی: نائب صدر جمہوریہ

نئیدہلی: نائب صدر جمہوریہ  ہند جناب ایم وینکیا نائیڈو نے زور دے کر کہا ہے کہ دفعہ 370  ختم کئے جانے سے مرکز کے زیر انتظام علاقوں   ، جموں وکشمیر  اور لداخ  میں   ترقی کے عمل  میں تیزی آئے گی اور یہ کام  مختلف اسکیموں اورقانوں  میں توسیع کی راہ  ہموار کرکے کیا جائے گا ،  جن میں  مقامی اداروں  کے  فنڈ اور کام  کاج کو  مستحکم بنانے کے لئے  73ویں اور 74ویں آئینی ترمیم   شامل ہیں۔

          آج  نئی دلی میں سرپنچوں   (گاؤں  کےسربراہوں)  اور پنچوں  ( پنچایت کے ممبروں ) سے بات  کرتےہوئے  جن  کا تعلق جموں  وکشمیر سے ہے ، نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ دفعہ  370    آئین میں  ایک عارضی  اور عبوری ضابطہ تھا۔

           ایک  طویل عرصے کے بعد  جموں وکشمیر میں  گورنروں کی حکمرانی کے تحت   پنچایت انتخابات کرانے کا ذکر کرتے ہوئے جناب نائیڈو  نے   خوشی کا اظہار کیا کہ 74  فیصد رائے دہندگان نے انتخابات میں حصہ  لیا اور  4483   میں سے تقریباََ   3500  پنچایتوں کا انتخاب عمل میں آیا۔

          نائب صدر جمہوریہ  نے کہا کہ دفعہ  370  کے خاتمے کے بعد پنچایتیں  اب اور زیادہ  متحرک ہوجائیں  گی کیونکہ  تین   ایف  ایس  -فنڈ ز  ، فکنشنز اور فنکشنریز    ان کے حوالے کئے جائیں  گے۔انہوں  نے کہا کہ  ’  پنچایتوں  کے مالی اختیارات میں   دس  گنا اضافہ کردیا گیا ہے اور ان کے مالی اختیارات کو ایک لاکھ  روپے تک بڑھادیا گیا ہے ۔‘

          نائب صدر جمہوریہ  نے کہا کہ اس کے علاوہ   پنچایتوں  کو  ٹیکسوںمیں اضافہ  کرکے  اپنے وسائل بڑھانے کے اختیارات  بھی دئے گئے ہیں۔  انہوں  نے کہا ’’  پنچایتوں کو  اب یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ  خدمات کا اپنے معیار میں  بہتری  پیدا کرنے  کی خاطر  آئی سی ڈی ایس  اور پی ایم اے وائی جیسی اسکیموں کا آڈٹ کراسکتی ہیں  ۔‘‘

          اس  طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ  زیادہ فنڈز  ،فکنشنز  اور فنکشنریز  حوالے کرنے سے   کام کاج کا  تین جہتی انتظامیہ نظام  مزید موثر ہوجائے گا،  جناب  نائیڈو  نے  کہا  کہ  14 ویں مالی کمیشن کی طرف سے  مقرر  کئے گئے ضابطوں کے مطابق  پنچایت  انتخابات  نہ کرائے جانے کی وجہ سے جموں  وکشمیر کو  تقریباََ چار ہزار کروڑروپے کا نقصان ہورہا تھا۔انہوں  نے کہا  :’’  اب جبکہ انتخابات کرائے جاچکے ہیں ،  مالی کمیشن کی طرف سے سفارد کردہ  رقمیں  آنی شروع ہوجائیں  گی۔ مجھے  یہ معلوم کرکے خوشی ہوئی ہے  کہ  500  کروڑروپے سے زیاد ہ کی رقم  پہلے ہی جاری کردی گئی ہے اور مزید تین   ہزار کروڑ روپے جلد ہی جاری کئے جائیں  گے ۔ یہ پنچایت  نظام کے لئے ایک بڑی تبدیلی کا باعث ہوگا۔‘‘

          نائب صدر جمہوریہ  نے یہ تجویز  بھی کیا کہ بلدیاتی اداروں کے انتخابات ہر پانچ سال میں کرایا جانا لازمی بنایا جانا چاہئے ۔ انہوں  نے کہا  :’’  ریاستوں  کو نہ تو  یہ اختیار ہونا چاہئے اور نہ ہی  یہ ان کے امکان میں ہونا چاہئے کہ وہ انتخابات ملتوی کردیں  یا انہیں اور آگے بڑھادیں ۔‘‘

          یہ بات بتاتے ہوئے  کہ  موثر مقامی حکمرانی  ترقی  پر بہتر طور پر  عملدرآمد ،فلاح وبہبود کے اقدامات اور  بہتر خدمات کی فراہمی  کے لئے ضروری  ہے ، نائب صدر جمہوریہ  نے کہا کہ بلدیاتی اداروں کے لئے جو رقمیں  مختص  کی جائیں  ، انہیں  پنچایتوں ، میونسپلٹیوں   اور کارپوریشنو  ں  کے کھاتوں  ہی میں  جانا چاہئے  اور ان رقموں کا استعمال  متعلقہ اداروں  کے  ریزولوشنز  کے مطابق ہونا چاہئے ۔

          نائب صدر جمہوریہ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ  بات چیت  اس کے زیر قبضہ  کشمیر کے  بارے میں  ہی کی جائے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ قوم  کا تحفظ  ، اس کی سلامتی اور یکجہتی  ہر بھارتی کے لئے سب سے  زیادہ اہمیت  رکھتی ہے ۔

About admin