خواتین کے خلاف جرائم

Urdu News

نئی دہلی،23؍مارچ،خواتین اور بچوں کی ترقی کی وزیر مملکت محترمہ کرشنا راج نے آج راجیہ سبھا میں ایک سوال کا تحریری جواب دیتے ہوئے ایوان کو مطلع کیا کہ کام کرنے کے مقام پر عورتوں کو جنسی طور پر حراساں کئے جانے سے متعلق (روک تھام، پابندی اور ازالہ) قانون-2013 کی دفعہ-23 کے تحت یہ متعلقہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس قانون کے نفاذ کی نگرانی کرے اور اس قانون کے تحت درج کئے

جانے والے معاملات اور حل کئے جانے والے معاملات کے اعدادشمار محفوظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال اس طرح کے اعداد وشمار یکجا کرنے کیلئے کوئی مرکزی نظام موجود نہیں ہے۔ البتہ قومی جرائم ریکارڈ بیورو (این سی آر بی) نے 2014 سے دفتروں میں خواتین کی حرمت کی توہین (تعزیرات ہند کی دفعہ-509) کے زمرے کے تحت اعدادوشمار یکجا کرنا شروع کئے ہیں۔ انہوں نے بتایا سال 2014 میں اس طرح کے 57 معاملات درج کئے گئے، 47 افراد پر فرد جرم عائد کی گئی اور دو افراد کو قصور وار

قرار دیا گیا۔ اسی طرح 2015 کے دوران کُل 119 معاملات درج کئے گئے، 71 افراد کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی اور پانچ افراد کو قصوار وار قرار دیا گیا۔

Related posts

ای-ویزا کے ساتھ آنے والے بحری سیاحوں کو بایو میٹرک اندراج کی ضرورت سے چھوٹ

چوتھے اسکارپئین کلاس کی آبدوز ’ویلا ‘بحریہ میں شامل

نیشنل ٹیسٹ پریکٹس ایپ کو 72 گھنٹے سے بھی کم مدت میں 2 لاکھ سے زائد طلبا نے ڈاؤن لوڈ کیا: جناب رمیش پوکھریال نشنک

Leave a Comment