جناب سنتوش گنگوار نے امپھال میں شمال مشرقی ریاستوں کے وزرائے صحت اور سینئر افسروں کی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی

Image default
Urdu News

نئی دہلی، محنت اور روزگار کےوزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب سنتوش کمار گنگوار نے کہا ہے کہ شمال مشرقی علاقے کو ترقیاتی عمل میں اہم مقام دینا حکومت ہند کی ترجیح ہے۔ وہ آج امپھال میں شمال مشرقی علاقے کے محنت کے وزرا کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ سے خطاب کررہے تھے۔ چارج سنبھالنے کے بعد یہ ان کی پہلی علاقائی میٹنگ تھی۔ جناب گنگوار نے ٹیکسٹائل کے وزیر کی حیثیت سے شمال مشرقی ریاستوں کے اپنے دوروں کا ذکر کیا جو انہوں نے علاقے کی ٹیکسٹائل صنعتوں کو فروغ دینے کے لئے کئے تھے۔ جناب گنگوار نے اہمیت کے حامل مسائل پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔

جائزہ میٹنگ میں اروناچل پردیش، آسام، میگھالیہ، منی پور، میزورم، ناگالینڈ اور تریپورہ کے وزرائے محنت اور محنت کے سکریٹریوں  نے شرکت کی۔  منی پور کے  وزیراعلی جناب این برین سنگھ نے میٹنگ کا افتتاح کیا۔ جائزہ میٹنگ میں  بچہ مزدوری، چائے باغات میں کام کرنے والے کارکنوں، ای ایس آئی سی کارکنوں، سماجی تحفظ کی اسکیموں، بی او سی کارکنوں کے  محصول فنڈ، کانوں کے تحفظ وغیرہ اور انہیں مزید بہتر بنانے کی اسکیموں پر عمل در آمد کے بارے میں مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

 وزیراعلی جناب این برین سنگھ نے اپنی تقریر میں  ان اقدامات کے  اعداد و شمار پیش کئے جو ان کی حکومت نے اپنی ریاست کے کارکنوں کی حالت کو بہتر بنانے کے میدان میں کئے ہیں۔ انہوں نے اس طرح کی اہم کانفرنس کے انعقاد کے لئے منی پور کو منتخب کرنے پر محنت کے وزیر جناب سنتوش کمار گنگوار کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا۔

جناب گنگوار نے شمال مشرقی ریاستوں سے درخواست کی کہ وہ 27 ہزار کروڑ روپے کے بی او سی ڈبلیو محصول فنڈ کو استعمال کریں  جو تعمیراتی مزدوروں کے تحفظ، صحت اور فلاح و بہبو د کے لئے دستیاب ہے۔  انہوں نے تجویز پیش کی کہ ہوٹل، ٹیکنکل مراکز اور اسکولوں وغیرہ جیسے  بنیادی ڈھانچوں کی تعمیر کے بجائے ریاستوں کو زیادہ توجہ تعمیراتی کام کرنے والے افراد کے سماجی تحفظ اور فلاحی اسکیموں پر دینی چاہیے۔ انہوں نے یہ درخواست بھی کی  کہ مرکزی حکومت کی سماجی تحفط کی اسکیموں کو کارکنوں کی فلاح و بہبود کے لئے موثر طور پر استعمال کیا جائے۔  ان اسکیموں  میں پردھان منتری سرکشا بیمہ یوجنا (پی ایم ایس بی وائی)  اور پردھان منتری جیون جیوتی بیمہ یوجنا   (پی ایم جے جے بی وائی) جیسی اسکیمیں شامل ہیں۔

حکومت ہند نے حال ہی میں بچہ مزدوری کے بارے میں محنت کی بین الاقوامی تنظیم کے کنونشنوں کی  توثیق کی ہے۔  بچہ مزدوری کو ختم کرنے کو بہت سنجیدگی سے لیا گیا ہے۔ 26 ستمبر 2017 کو محنت اور روزگار کی وزارت نے ایک خصوصی پورٹل پینسل (پی ای این سی آئی ایل)  شروع کیا ہے جس کا مقصد بچہ مزدوری کو ختم کرنے کے لئے ایک بہتر طریقہ کار کو یقینی بنانا ہے۔ وزیر موصوف نے شمال مشرقی ریاستوں کی حکومتوں سے درخواست کی کہ وہ اس پورٹل کی بڑے پیمانے تشہیر کریں اور  این سی ایل پی  پر عمل درآمد کے لئے کام کریں۔

جناب گنگوار نے کہا کہ انہوں نے اپنی پہلی علاقائی جائزہ میٹنگ کے لئے شمال مشرقی علاقے (امپھال) کو خاص طور پر منتخب کیا ہے کیونکہ ان کی وزارت اس علاقے میں مختلف سطحوں پر اپنی سرگرمیوں میں اضافہ کررہی ہے۔ ای ایس آئی سی یہاں اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے۔ ڈی جی ایف اے ایس ایل آئی  نے پچھلے سال شیلانگ میں نئے علاقائی محنت ادارے کا سنگ بنیاد پہلے ہی رکھ دیا تھا۔  کل گوہاٹی میں وی وی گری نیشنل لیبر انسٹی ٹیوٹ اور ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنس ایک مفاہمت میں شامل ہورہے ہیں۔ انہوں نے  زور دیکر کہا کہ اس تال میل سے شمال مشرقی علاقے کے مسائل کی مزید تحقیق میں مدد ملے گی اور زیادہ باخبر فیصلوں کا التزام کیا جاسکے گا۔

 جناب گنگوار نے مرکز اور ریاست کے درمیان ایک بہتر تال میل کی ترجیح اور اہمیت کا اعادہ کیا اور ریاستوں کا  ان کی شرکت کے لئے شکریہ ادا کیا۔ میٹنگ میں محنت اور روزگار کی وزارت کی سکریٹری محترمہ ایم ستیہ وتی اور وزارت کے دیگر سینئر افسران نے بھی شرکت کی۔

Related posts

کرائے کی کوکھ کے لئے بھارت آنے والے غیر ملکیوں کو ویزا نہیں

جھارکھنڈمیں چھٹے عام انتخابات 2019کے چھٹے مرحلے کے انتخابات گریڈیہہ ، دھنباد ، جمشیدپوراورسنگھ بھو

ڈوپنگ کے خلاف بالکل برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنائیں:وجے گوئل

Leave a Comment