جموں و کشمیر اور لداخ کے علاقوں میں 8 میڈیکل کالجز اور جموں اور سری نگر میں ایمس جیسے دو اداروں کو منظوری: جی کرشنا ریڈی

Image default
Urdu News

نئی دہلی، داخلی امور کے مرکزی وزیر مملکت جناب جی کشن ریڈی نے لوک سبھا میں جموں و کشمیر اور لداخ کے نئے تشکیل  شدہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ترقی سے متعلق ایک سوال کے تحریری جواب میں بتایا کہ حکومت سابقہ ہند، جموں اور کشمیر  ریاست کے ساتھ ساتھ  نو تشکیل شدہ جموں کشمیر کے مرکزی انتظام والے علاقوں اور مرکز کے زیر انتظام لداخ کی مجموعی ترقی کے لئے پوری طرح عہد بستہ ہے ۔

جناب ریڈی نے ایوان کو مطلع کیا کہ  ساتویں مرکزی پے کمیشن (سی پی سی) بھتے مثلاً چلڈرن ایجوکیشن الاؤنس، ہاؤس الاؤنس ، ٹرانسپورٹ الاؤنس، ایل ٹی سی، طے شدہ میڈیکل الاؤنس ، جو اس وقت کی جموں کشمیر ریاست میں ساڑھے چار لاکھ ریاستی سرکاری ملازمین کو نہیں دیئے گئے تھے،  اب  منظور کئے گئے ہیں جن کی مالیت تقریباً 4800 کروڑ روپے ہے اور یہ ان سبھی ملازمین کے لئے ہے جو  31 اکتوبر 2019 میں جموں کشمیر اور لداخ  کے مرکز کے زیر انتظام علاقے تشکیل دیئے جانے کے  بعد سے کام کررہے ہیں۔ چونکہ اب نوتشکیل شدہ مرکز کے زیر انتظام علاقوں کا وجود قائم ہوگیا ہے لہذا  سبھی ساتویں سنٹرل پے کمیشن  اور دیگر بھتے  دونوں مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے تمام ملازمین کےلئے دستیاب ہوں گے۔

جناب ریڈی نے مزید بتایا کہ 31 اکتوبر 2019 کو دو مرکز  کے زیر انتظام علاقوں کی تشکیل کے بعد  ٹیکسوں کے شیئر اور  چودھویں مالیاتی کمیشن کی گرانٹس کے باقی شیئر کے طور پر 14559.25 ان دونوں  مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں  تقسیم کئے گئے ہیں جو اس وقت کی جموں کشمیر ریاست کو دیئے گئے تھے۔ ان میں سے اب تک 2944.31 کروڑ روپے پہلے ہی  جموں کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو جاری کئے گئے ہیں اور  لداخ کے مرکز کے زیر انتظام علاقے کو 1275.99 کروڑ روپے جاری کئے گئے ہیں۔

دفعہ 35 اے اور دیگر آئینی ابہام کے پیش نظر ان خطوں کے عوام کو تمام حقوق سے محروم رکھا گیا تھا جو آئین میں درج ہیں۔ اس کے علاوہ مختلف مرکزی قوانین کے دیگر فائدوں سے بھی محروم رکھا گیا تھا جو ملک میں دیگر شہریوں کو حاصل ہیں۔ پارلیمنٹ کی سفارش کی بنیاد پر دفعہ 370 کے تحت صدر جمہوریہ کی جانب سے جاری کئے گئے اعلانیہ کے بعد اور جموں کشمیر اور لداخ کی مرکز کے زیر انتظام علاقوں کے طور پر تشکیل  نو کے بعد  اس طرح کے تمام پہلوؤں سے نمٹا گیا اور اب جموں و کشمیر اور لداخ خطے  ملک کے دیگر حصوں کے طرح ترقی کرسکتے ہیں۔

 مرکز کی اسپانسر والی اسکیم کے تحت حکومت نے  جموں و کشمیر اور لداخ خطوں میں 8 میڈیکل کالجوں کے قیام کو منظوری دی ہے۔ یہ میڈیکل کالجز جو  نفاذ کے مختلف مرحلوں میں ہے،  جموں کشمیر میں ڈوڈہ ، کٹھوعہ، بارہمولہ، اننت ناگ، راجوری، اودھم پور، ہنڈواڑہ، (ضلع کپواڑہ) کے  ضلعوں میں قائم کئے جائیں گے اور لداخ میں لیہ ضلع میں قائم ہوگا۔ مرکزی وزیر مملکت نے بتایا کہ حکومت نے  جموں اور سری نگر میں ایمس کی طرح دو اداروں کی تشکیل کو بھی منظوری دے دی ہے۔

Related posts

وزیراعظم نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ لاک ڈاؤن پر سختی سے عمل کریں

ٹکنالوجی نے دیہی نوجوانوں کو شفافیت، خوشحالی اور مواقع فراہم کرائی ہے : نائب صدر جمہوریہ

وزیر دفاع نے محکمہ دفاعی پیداوار سے متعلق کافی ٹیبل بک کا اجرا ء کیا