تین فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے زیادہ پیداواردینےوالی نباتاتی انواع کو فروغ دیا – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » تین فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے زیادہ پیداواردینےوالی نباتاتی انواع کو فروغ دیا
‘Plant more Saplings to stop the Imbalance in Nature’: Environment Minister

تین فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے زیادہ پیداواردینےوالی نباتاتی انواع کو فروغ دیا

نئی دہلی،27۔فروری،انڈین کونسل آف فاریسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن(آئی سی ایف آر ای) ، دہرادون نے زیادہ اُپج دینے والی 20مختلف نباتاتی انواع کو فروغ دیا ہے۔ آئی سی ایف آر ای کی ویرائٹی ریلیزنگ کمیٹی(وی آر سی) نے آج یہاں منعقدہ ایک میٹنگ کے دوران ان نباتاتی انواع کے اجراء کو منظوری دی۔

فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیو ٹ دہرا دون نے میلیا ڈوبیا کی دس امپرووڈ ورائٹیز اور یوکلپٹس ٹیری ٹیکومِس کے تین کلونوں پر دس سال سے زیادہ وقت تک کام کیا۔ یوکلپٹس ٹیری ٹیکومِس ایک ایسا ٹِمبرہے، جس کی صنعتوں میں زبردست مانگ ہے۔ آج جس کلیٹورس مِلیاکا اجراء کیاگیا، اسے ڈِریک یا مالابار نیم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ فی اکائی علاقے میں اس کی پیداوار کی شرح بہت اونچی یعنی اوسطاً 34.57 کیوبک میٹر فی ہیکٹیئر سالانہ ہے۔ یہ شاندار بول فارم سے بھی متصف ہے، جو کہ پلائی ووڈ کی صنعت میں بہت ہی مطلوب ہے۔ اسی طرح سے آج یوکلپٹس کی جن قسموں کا اجراء کیاگیا ہے، ان کی پیداواربھی 19.44 کیوبک میٹر فی ہیکٹیئر سالانہ ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کی پیداوارکی موجودہ سطح پانچ سے سات کیوبک میٹر فی ہیکٹیئرسالانہ ہے۔ ان کلونوں کو پِنک ڈیزیز اور وال گیسپ کا مزاہم بھی پایا گیا ہے۔ کوئمبٹورمیں واقع انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ جینیٹک اینڈ ٹِری بریڈنگ میں جو ریسرچ کیاگیا، اس کا نتیجہ کیسوارینا ایکیوسیٹی فولیا ایکس کیزوایریناجُن گھنیانا کے پانچ اِنٹر اِسپیسفیک ہائبِرڈس کے فروغ کی شکل میں برآمد ہوا۔ اسے ٹِمبرکےطورپراستعمال کیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح سے جبل پور میں واقع ٹروپیکل فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے طبی پودے راؤلفیاسَرپینٹینا کی دو اقسام کو بھی فروغ دیا ہے۔

ان انواع کو جاری کئے جانےسے پہلے سخت طویل زمینی تجربات سے گزرناپڑا۔ جس وی آر سی کی میٹنگ میں ان انواع کا اجراء کیاگیا، وہ میٹنگ جنگلات کے ڈائریکٹر جنرل کی صدارت میں ہوئی اور خصوصی سکریٹری ڈاکٹر ایس ایس نیگی نے ان انواع کےاجراء کو منظوری دی۔ جن تین اداروں نے ان ورائٹیز کو فروغ دیا ہے، ان میں فوریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایف آر آئی) دہرادون، انسٹی ٹیوٹ آف فاریسٹ جنیٹکس اینڈ ٹِری بِریڈنگ(آئی ایف جی ٹی بی) ، کوئمبٹور اورٹروپیکل فاریسٹ ریسرچ انسٹی ٹیو ، جبل پور، شامل ہیں۔ آئی سی ایف آر ای کے ڈائریکٹر جنرل اوروی آر سی کے شریک صدر ڈاکٹر ششی کمار، ٹی ایف آر آئی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرکاشم ، ایف آر آئی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سویتا، آئی ایف جی آر بی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر پرشانت اور متعلقہ موضوع کے دو ماہرین ڈاکٹر ڈی کے کھرانہ، ڈاکٹر وِشنوبھٹ، جناب اومکار سنگھ، پی سی سی ایف(ایچ او ایف ایف )، اے جی ایم یو ٹی اور ڈاکٹر امریندرکور، پی سی سی ایف (ایچ او ایف ایف) ہریانہ بھی وی آر سی کی میٹنگ موجود تھے۔ انڈین کونسل آف فاریسٹری ریسرچ اینڈ ایجوکیشن (آئی سی ایف آر ای) ، دہرادون کا قیام ماحولیات، جنگلات اور آب و ہوا کی تبدیلی کی وزارت کے تحت ایک خودمختار ادارے کے طورپرعمل میں آیاتھا۔ یہ ادارہ جنگلاتی انواع پر جامع تحقیق کا کام انجام دیتا ہے۔ آئی سی ایف آ ر ای کے تحت کام کرنے والے 9 انسٹی ٹیوٹ شجرکاری والے پودوں کی انواع کو بہتر بنانے کے کام میں مصروف عمل ہیں تاکہ پیداوار، معیار اور پیداواریت میں اضافہ کیا جا سکے، جس سے گھریوں سطح پر صنعتوں کی مانگ کو پورا کیاجا سکے۔

About admin

Leave a Reply

Your email address will not be published.