تجارت وصنعت کے وزیر ولادی ووستوک میں اعلیٰ اختیاراتی وفد کی قیادت کررہے ہیں – Online Latest News Hindi News , Bollywood News
Breaking News
Home » Urdu News » تجارت وصنعت کے وزیر ولادی ووستوک میں اعلیٰ اختیاراتی وفد کی قیادت کررہے ہیں

تجارت وصنعت کے وزیر ولادی ووستوک میں اعلیٰ اختیاراتی وفد کی قیادت کررہے ہیں

نئیدہلی: تجارت وصنعت کے وزیر جناب پیوش گوئل 11سے  13 اگست 2019  کے دوران ہریانہ ، گجرات ،اترپردیش اورگوا  کے وزرائے اعلیٰ پر مشتمل ایک اعلیٰ اختیاراتی وفد کی قیادت کررہے ہیں۔ اس وفد میں 140  بھارتی کمپنیاں  بھی شامل ہیں۔ یہ وفد روس میں  ولادی ووستوک گیا ہوا ہے ۔ یہ دورہ وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی جانب سے روس کے صدر ولادی میر پوتن کو کرائی گئی یقین دہانی کی تکمیل  ہے ،جس  کا سلسلہ اس سال کے اوئل میں  بشکیک میں  ہوئی دونوں رہنماؤں  کی ملاقات سےمربوط ہے ، جو ایس سی اوسربراہ ملاقات کے شانہ بہ شانہ منعقدہوئی تھی اور جس کا مقصد بھارت سے روس کے مشرقی بعید خّطے میں تجارت وصنعت کے  مواقع کی تلاش اور ان کو فروغ دینا تھا۔

          تقریباََ 200 روسی کمپنیوں، سرمایہ کاری ایجنسیوں ،سرمائے سے متعلق ایجنسیوں نے رو س کی جانب سے اس اہتمام میں حصہ لیا ۔ کمپنیوں نے  توسیع شدہ بی ٹو بی فارمیٹ کے تحت اپنے شناخت شدہ شراکتداروں  کے ساتھ علیحدہ سے گفت وشنید کا اہتمام کیا اور مزید گفتگو  کے لئے  روابط قائم کئے ۔ کمپنیوں  کا تعلق مختلف النوع ترجیحاتی شعبوں سے ہے ، جن میں معدنیات کا شعبہ ، مخصو ص ارضیات کا شعبہ ، توانائی ، جنگل بانی  ،عمارتی لکڑی ،حفظان صحت ،زراعت ،خوراک ڈبہ بندی ،چینی مٹی ، سیاحت اوربنیادی ڈھانچے شامل ہیں۔

بھارت کی جانب سے اس اہتمام میں  انویسٹ انڈیا  اور فیڈریشن آ ف انڈین چیمبرس آف  کامرس  اینڈ انڈسٹری  نیز روس کی   مشرق  بعید اور آر کیٹک   کی ترقی کی وزارت  الیگزینڈر کوز لوف  کی قیادت میں  مشرق بعید سرمایہ کاری اور برآمدات فروغ ایجنسی روس کی جانب سے  آگے آئی  اور ضروری امور انجام دئے۔

          12 اگست 2019  کو  کمپنیوں  نے اپنی جانب سے مختلف النوع   اجلاسات کا اہتمام کیا اور پریذینٹیشن کے توسط سے  امکاناتی شعبوں میں  باہمی اشتراک کے امکانات کی  جھلک  پیش کی ۔ان اجلاسات  میں   مشرق بعید کے خطوں  کے کئی گورنر حضرات اور طرفین کے سینئر افسران نے شرکت کی ۔

مکمل اجلاس جس میں  تقریباَل400  مندوبین ،روسی ڈپٹی وزیر اعظم یوری ٹرٹنیف  اور بھارت  کے وزیر تجارت نے  شرکت کی اور  ترجیحاتی شعبوں میں  تجارتی روابط  میں گوناگونی پید  ا کرنے پر زور دیا تاکہ 2025  تک 30  ملین امریکی ڈالر کے بقدر کی تجارت کا نشانہ حاصل کیا جاسکے ۔ پیوش گوئل نے  متعلقہ کمپنیوں پر واضح کیا کہ وہ  باہم  آگے آئیں اور  ہر ایک کمپنی  اپنی ہم پلہ کمپنی کے ساتھ براہ راست گفت وشنید  کرے اور شراکتداری کے امکانات تلاش کرے  اور باقاعدہ  پروجیکٹ تجاویز  پیش کرے تاکہ عملی نتائج سامنے آسکیں ۔ اختتامی اجلاس   روسی مشرق بعید   کے خطوں  اور بھارت کی پانچ ریاستوں کے مابین تجارت ، معیشت ،سرمایہ کاری ،سائنٹفک اورتکینکی تعاون کو وسعت دینے  اور اسے مستحکم بنانے کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچا  ۔ ایمٹی یونیورسٹی  اور مشرق بعید فیڈرل یونیورسٹی  کے مابین ایک مفاہمتی عرضداشت پر دستخط ہوئے  جس  کے تحت تعلین اورتحقیق کے شعبوں میں تعلقات کو فروغ دیا جائے گا اورتعلیمی اورثقافتی تبادلے عمل میں آئیں گے۔معاہدے کے تحت  نمائندگان کا دفتر ،  یوگ کے لئے مرکز کے قیام  اور روسی زبان وثقافت  کے مطالعے کے لئے مشکل مرکز کھولنے کے امور بھی طے پائے ۔قومی ہنر مندی  ترقیات  کارپوریشن  اور مشرق  بعید سرمایہ کاری اور برآمداتی ایجنسی کے مابین ہنر مندی ترقیات سے متعلق  ایک مفاہمتی عرضداشت پر بھی دستخط کئے گئے۔

ہریانہ کے وزیر اعلیٰ جناب منوہر لال کھٹر نے  روسی زبان میں  اپنا خطبہ  پیش  کیا اور روسی سرمایہ کاروں  کو گروگرام اور ہریانہ آنے کی دعوت دی ۔  گوا کے وزیر اعلیٰ ڈاکٹر پرمود ساونت نے   روسی تاجروں کو  سرگرمی کے ساتھ  آئندہ منعقد ہونے والی  وائی برینٹ گوا گلوبل ایکسپو اینڈ سمٹ  میں شریک ہونے کی دعوت دی ۔ اترپردیش کے وزیر اعلیٰ  یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی تقریر میں  توانائی ،زراعت اور خوراک ڈبہ بندی کے شعبوں  میں اشتراک کی ضرورت نمایاں کی ۔ گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے  سونے اور ہیرے کی کانکنی میں اشتراک کے امکانات پر بطور خاص زور دیتے ہوئے قدرتی وسائل کو بروئے کار لانے میں جدید ترین ٹکنالوجی کے استعمال پر زور دیا۔

یہ دورہ  بھارت اورروس کے مابین تجارت اوراقتصادی تعاون  کو مثبت طورپر آگے بڑھانے کا باعث ثابت ہوگا اور  ماہ ستمبر میں   منعقد ہونے والے   پانچویں  مشرقی فورم کے لئے ایک تمہیدی سرزمین  فراہم کرائے گا،جس کے دوران وزیر اعظم جناب نریندر مودی ولادی ووستوک کے اپنے اولین دورے کے دوران وہاں  مہمان خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوں گے۔

About admin