بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) اور ہندوستان نے مفاہمت نامہ پر دستخط کئے

Image default
Urdu News

نئی دہلی، بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) اور امور خارجہ کی وزارت نے آج یہاں میزبان ملک کے طور پر ایک مفاہمت نامہ پر دستخط کئے۔ یہ معاہدہ  آئی ایس اے کو قانونی حیثیت کے علاوہ ٹھیکہ دینے، منقولہ اور غیرمنقولہ اثاثوں کی خرید و فروخت، قانونی کارروائیوں کرنا اور ان کے دفاع کا اختیار دے گا۔ اس معاہدہ کے تحت وہ اختیارات حاصل ہوں گے، جو اس کے آزادانہ کام کاج اور پروگراموں کے عمل درآمد کے لئے آئی ایس اے ہیڈ کوارٹر کے لئے ضروری ہوتے ہیں، جیسے ٹیکس مراعات اور ٹیکس سے چھوٹ وغیرہ دے گا۔ آئی ایس اے کو فریم ورک معاہدے کی دفعہ 10 کے مطابق اسے اختیارات و مراعات حاصل ہوں گے۔

معاہدے پر وزارت خارجہ کے وزیر مملکت جنرل (ڈاکٹر) وی کے سنگھ اور آئی ایس اے کے عبوری ڈائریکٹر جنرل جناب اوپیندر ترپاٹھی نے بجلی، نئی اور قابل احیا توانائی کے وزیر مملکت (آزادانہ چارج) جناب آر کے سنگھ کی موجودگی میں دستخط کئے۔

دستخط کے عمل کے دوران جناب آر کے سنگھ نے کہا کہ آئی ایس اے میں دنیا میں ترقیاتی تبدیلیاں لانے کی صلاحیت موجود ہے۔ انھوں نے کہا کہ توانائی اب کم ترقی یافتہ گرم ممالک کو آسان شرائط پر اور قابل استطاعت شرحوں پر بھی دستیاب ہوں گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ کئی ممالک نے قابل احیا توانائی کے شعبے میں ہندوستان کے تجربات سے کچھ سیکھنے میں اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ ہماری صنعتوں کو ان ممالک میں بنیادی ڈھانچے کرنے ہوں گے اور اس سلسلے میں ضروری خطرات سے گریز کے تعلق سے بات چیت کرنی ہوگی۔

جنرل (ڈاکٹر) وی کے سنگھ نے بھی آئی ایس اے کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایس اے کو ایک ہزار گیگاواٹ سے زائد شمسی توانائی کی تیاری میں ہزار بلین سے زائد امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا بڑا کام کرنا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئی ایس اے کو اپنے مقاصد کے حصول کے لئے کثیر سطحی اور باہمی بارڈر ایجنسیوں کے ساتھ مالی شراکت داری کے لئے فرم قائم کرنے کی ضرورت ہے۔

جناب اوپیندر ترپاٹھی نے میزبان ملک معاہدے پر دستخط کو ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے حکومت ہند کا اس کے فراخ دلانہ تعاون کے لئے شکریہ ادا کیا۔

اس موقع پر نئی اور قابل احیا توانائی کی وزارت کے سکریٹری: سکریٹری (ای آر)، وزارت داخلہ اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔

پس منظر نامہ:

بین الاقوامی شمسی اتحاد (آئی ایس اے) 30 نومبر 2015 کو پیرس میں اقوام متحدہ کی آب و ہوا کی تبدیلی سے متعلق سی او پی21 کانفرنس کے موقع پر اقوام متحدہ کے جنرل سکریٹری کی موجودگی میں وزیراعظم جناب نریندر مودی اور فرانس کے صدر کے ذریعے مشترکہ طور پر شروع کی گئی ایک پہل ہے۔ آئی ایس اے کا اصل مقصد 2030 تک دنیا میں بڑے پیمانے پر شمسی توانائی کی پیداوار اور منطقہ حارہ کے درمیان واقع121 ممالک میں جزوی یا مکمل طور پر امکانی ٹیکنالوجیوں کو اپنانے کا راستہ بنانے کے لئے ایک ہزار بلین امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری، سستی ٹیکنالوجی تیار کرنے اور لاگت میں کمی لانے کی مستقل کوشش کرنا ہے۔ آئی ایس اے فی الحال چار پروگراموں پر عمل درآمد کررہا ہے، یعنی زرعی استعمال کے لئے شمسی توانائی کا بڑے پیمانے پر استعمال، شمسی مِنی گرڈس کی کم قیمت پر تنصیب، مخصوص علاقوں میں شمسی توانائی کی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے مکانوں کی چھتوں پر شمسی توانائی کے پینل کی تنصیب۔

اس سلسلے میں معاہدے کا فریم ورک 6 دسمبر 2017 سے نافذ العمل ہوگیا ہے۔ آئی ایس اے پہلا بین حکومتی معاہدہ بن گیا ہے، جس کا صدر دفتر ہندوستان میں ہے۔ آئی ایس اے نے 11 مارچ 2018 کو اپنا یوم تاسیس منایا تھا۔

Related posts

گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ہومیو پیتھک علاج کے خواہش مند مریضوں کی تعداد میں 50 فیصد اضافہ

وزارت دفاع کی ویب سائٹ کواستعمال کرنے والوں کے لیے مزید آسان بنایا گیا

صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے میانما کے صدر اوراسٹیٹ کونسلر سے ،نے پائی تا میں ملاقات وگفتگو کی