بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے انصاف کے ورچول سربراہی اجلاس کی میزبانی کی

Image default
Urdu News

نئی دہلی، شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے رکن ممالک کے وزرائے انصاف کی ساتویں میٹنگ کی میزبانی 16 اکتوبر 2020 کو قانون و انصاف، مواصلات اور الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر جناب روی شنکر پرساد کے ذریعے کی گئی۔

جمہوریۂ بھارت کے قانون و انصاف کے وزیر جناب روی شنکر پرساد، جمہوریۂ قزاکستان کے وزیر انصاف  جناب ایم بی بیکے تایو، پیپلس ریپبلک آف چائنا کے وزیر انصاف جناب تانگ یی جن، جمہوریہ کرغز کے وزیر انصاف جناب ایم ٹی ڈزمانکولوو، اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون و انصاف کی وزارت کی مجاز نمائندہ محترمہ امبرین عباسی، روسی فیڈریشن کے وزیر انصاف جناب کے اے چیوئی چینکو، جمہوریہ تاجکستان کے وزیر انصاف جناب ایم کے اشریون، جمہوریہ ازبکستان کے وزیر انصاف جناب آر کے ڈیولیتوو نے وزرائے انصاف کی اس میٹنگ میں حصہ لیا۔ قانون و انصاف کی وزارت کے قانونی امور کے محکمہ کے سکریٹری جناب انوپ کمار میندی رتا نے وزرائے انصاف کی اس میٹنگ میں کلیدی خطبہ اور اختتامی بیان دیا۔

ایس سی او کے رکن ممالک کے وزرائے انصاف کے اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قانون و انصاف ، مواصلات اور الیکٹرانکس و   اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزیر جناب روی شنکر پرساد نے  سبھی کو سستا اور آسان  انصاف دلانے کے لئے  وزیر اعظم جناب نریندر مودی کی دوراندیش قیادت میں حکومت ہند کے ذریعے کئے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

انھوں نے سماج کے حاشئے پر پڑے لوگوں کو مفت قانونی مدد دستیاب کرانے کے لئے پرو بونو لیگل سروسیز  شروع کرنے کا ذکر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ 2017 میں شروع کی گئی ٹیلی – لاء خدمات کے ذریعے اب تک 3.44 لاکھ مفت قانونی مشورے غریب لوگوں کو ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے دیئے گئے ہیں۔ انھوں نے روایتی اینٹ اور مورٹار والے آرکیٹیکچر سے لیس کورٹ سے پروسیس آٹومیشن کی جانب حکومت کے کامیاب ٹرانسفارمیشن کے ایک جزو کے طور پر ویڈیو – کانفرنسنگ کی سہولت والے ای – کورٹ پروجیکٹوں اور ورچول کورٹ کی شروعات پر روشنی ڈالی۔ کووڈ-19 کی وبا کے دوران بھارت کی مختلف عدالتوں میں ویڈیو کانفرنس کے توسط سے 25 لاکھ سے زیادہ سماعتیں ہوئیں، جن میں سے 9000 ورچول سماعت اکیلے سپریم کورٹ میں ہوئی ہے۔ انھوں نے کمرشیل کورٹس ایکٹ اور آربیٹریشن لاز سمیت حکومت کے ذریعے کاروبار کو فروغ دینے والے قوانین و ضوابط بنانے کو اعلیٰ ترجیح دیئے جانے کے فیصلے سے مجمع کو واقف کرایا، تاکہ بھارت کو سرمایہ کاری اور تجارت کا ایک پسندیدہ مرکز بنایا جاسکے۔

مرکزی وزیر نے ایس سی او رکن ممالک کے وزرائے قانون کے فورم کی سرگرمیوں کے جزو کے طور پر اس پلیٹ فارم کے ذریعے نشان زد کئے گئے شعبوں میں خیالات، بہترین طور طریقوں اور تجربات کے لین دین کو بڑھاوا دینے کی درخواست کی۔ انھوں نے خاص طور پر فورم میں اور عام طور پر ایس سی او میں کی جارہی متعدد سرگرمیوں کو مزید وسیع بنانے پر زور دیا۔

اس سے قبل ایس سی او کے رکن ممالک کے ماہرین کے ورکنگ گروپ نے متبادل ازالہ تنازعات نظام کو فروغ دینے کی اہمیت پر تبادلہ خیال کیا اور ساتھ ہی کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر قانون سمیت سبھی شعبوں میں تعاون پر زور دیا۔

ایس سی او کے رکن ممالک نے وزرائے انصاف کے ساتویں اجلاس میں تعاون کے شعبوں پر غور و فکر کیا گیا۔ کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے قانونی معلومات کے باہمی لین دین کی حددرجہ موزونیت پر زور دیا گیا اور اے ڈی آر میکانزم کے شعبے میں تعاون کی ضرورت کو قبول کیا گیا ہے۔ ایس سی او کے رکن ممالک نے وزرائے انصاف کے ساتویں اجلاس کے بعد ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا گیا۔

اس مشترکہ بیان کی اہم خصوصیات حسب ذیل ہیں:

  1. ایس سی او کے رکن ممالک کے وزرائے انصاف کے درمیان تعاون پر معاہدے (دوشانبے، 18 اگست 2015) کے نفاذ کے کام کو مضبوط کرنا ہے۔
  2. 2018-2020کے لئے فورنسک سرگرمیوں اور قانونی خدمات پر ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپوں کے کارروائی منصوبے کے نفاذ پر کام جاری رکھنا اور ساتھ ہی 2021-2023 کے لئے کارروائی منصوبہ تیار کرنا ہے۔
  3. متبادل ازالہ تنازعات میں بہترین طور طریقوں کا مطالعہ کرنے کے لئے (ایس سی او رکن ممالک کے قوانین و انصاف) وزارتوں کے نمائندوں کے لئے تبادلہ خیال کے مطابق پروگراموں کے انعقاد پر غور کرنا۔
  4. قومی قانون کے مطابق آپسی قانونی تعاون اور قانونی خدمات کے فروغ کے متعلق امور پر پارٹیوں کی صورت حال پر تبادلہ خیال جاری رکھنا۔
  5. ایس سی او مشاہد اور مذاکرات معاون ملکوں کے وزرائے انصاف کے ساتھ تعاون کو سرگرم طریقے سے فروغ دینا۔
  6. قومی قوانین کو پیش نظر رکھتے ہوئے قانونی معلومات کے لین دین کے لئے ایک آن لائن پلیٹ فارم فروغ دینے کے لئے کوشش جاری رکھنا۔

اس تین روزہ صلاح و مشورے میں بھارت، قزاکستان، چین، جمہوریہ کرغز، پاکستان، روسی فیڈریشن، تاجکستان اور ازبکستان کی (قانون و انصاف) وزارت اور قانون و انصاف کی وزارت کے سینئر افسروں / ماہرین نے حصہ لیا۔ وزارتی سطح کی اس میٹنگ سے قبل افسران کی سطح پر تبادلہ خیال ہوا۔ قانون و انصاف کی وزارت کے قانونی امور کے محکمہ کے سکریٹری جناب انوپ کمار مینڈی رتا نے بھی 13 اور 14 اکتوبر 2020 کو ماہرین پر مشتمل ورکنگ گروپ کی دوسری میٹنگ میں میزبانی کی۔ یہ میٹنگیں ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے منعقد کی گئیں۔

Related posts

کام، علم اور جذبہ غیر معمولی نتائج پیدا کرتے ہیں : نائب صدرجمہوریہ

11-2010 ء سے 17-2016 ء کے دوران خوراک کو ڈبہ بند کرنے کے شعبے میں 6492.19 ملین امریکی ڈالر کی ایف ڈی آئی حصص کی آمد

’حکومت خواتین کے خلاف سائبر جرم کی اطلاع دینے کے لیے سائبر جرم رپورٹنگ پورٹل تیار کرے گی : مرکزی وزیر داخلہ