بھارت –افریقہ پروجیکٹ ساجھیداری پر 14 ویں سی آئی آئی – ایگزم بینک کانفرنس نئی دہلی میں اختتام پذیر

Image default
Urdu News

نئی دہلی، مارچ،بھارت – افریقہ پروجیکٹ ساجھیداری  پر 14 ویں سی آئی آئی – ایگزم بینک کانفرنس  آج نئی دہلی میں ختم ہوگئی۔ تین روزہ کانفرنس کا انعقاد  کانفرنس کی وزارت نے  بھارتی صنعتی کنفڈریشن  ( سی آئی آئی )  اور  ایگزم بینک آف انڈ کے اشتراک سے کیا تھا۔ کامرس کے سکریٹری ڈاکٹر انوپ وادھون نے  اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ  افریقہ ملکوں کے ساتھ تجارتی تعلقات  پچھلے برسوں میں مستحکم ہوئے ہیں اور   ساجھیداری باہمی طور پر مفید ثابت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  اس کانفرنس میں  جنوب – جنوب  تعاون  کے تحت  بھارت – افریقہ   ساجھیداری  کو ایسے وقت میں اجاگر کرتی ہے جب کہ عالمی معیشت  مختلف چیلنجوں میں گھری ہوئی ہے ، جو  تحفظاتی رجحان میں اضافے  اور تجارتی  تصادم کی وجہ سے پیدا ہوئے ہیں۔ بھارت – افریقہ باہمی ساجھیداری کو  بھارت  کے ایک  بڑی معیشت کے طور پر  ابھرنے کے ساتھ ساتھ  افریقہ کی  نئی اقتصادی  قوت کے طور پر کچھ  افریقہ ملک دنیا میں 10 سب سے تیز تر ابھرنے والی معیشتوں میں شامل ہونے کی وجہ سے  اہمیت حاصل ہے۔

کامرس کے سکریٹری  نے کہا کہ  یہ کانفرنس افریقہ کے ساتھ طویل مدتی تعلقات کے حکومت ہند کے  وسیع ویژن اور بھارت  – افریقہ اقتصادی ساجھے داری کے منظر نامے کو وسیع کرنے کے حکومت ہند کے  پختہ عزم  کو مزید پختہ کرتی ہے۔ انہوں نے  کہا کہ  کئی ہندوستانی انجینئرنگ کمپنیاں مختلف افریقہ ملکوں میں سڑکوں ، شاہراہوں ،  بندر گاہوں کے فروغ ، بجلی کی پیداوار  اور تقسیم کاری اور واٹر شیڈ پروجیکٹوں کو نافذ کرکے افریقہ میں بنیادی  ڈھانچے کی کمی کو پورا کرنے میں مصروف ہیں۔  بھارت  ترقیاتی تعاون  سوڈان  اور  روانڈا  میں باندھ اور بجلی کے پروجیکٹوں سے لے کر  تنزانیہ  میں  پانی صاف کرنے کے پلانٹس ، اتھوپیا میں چینی کی فیکٹریوں ، موزمبیق  اور سوزی لینڈ میں آئی ٹی پارکوں ، گھانا میں صدارتی محل کی تعمیر اور گامبیا میں قومی اسمبلی  کی عمارت کی تعمیر تک پھیلا ہوا ہے۔

ڈاکٹر انوپ وادھون نے بتایا کہ  افریقہ میں بھارت کی رسائی  کے ایک حصے کے طور پر  وزارت خارجہ نے  10 ستمبر  2018 کو  پورے افریقہ میں ای – اروگیہ  بھارتی نیٹ ورک پروجیکٹ  کو قائم کرنے کی خاطر  ٹیلی کمیونی کیشنز  کنسل ٹینٹ انڈیا لمیٹڈ ( ٹی سی آئی ایل ) کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔ یہ پروجیکٹ بھارت اور افریقہ کے درمیان  ایک ڈیجیٹل پل کے طور پر کام کرے گا اور دونوں ملکوں کے درمیان  فاصلے کو مزید کم کرے گا۔ یہ پروجیکٹ تعلیم اور صحت کے سیکٹر میں  پائیدار ترقیاتی اہداف  کے حصول اور  افریقہ میں  نوجوان آبادی  کو زیادہ  با اختیار بنانے  کے لئے  افریقہ کے سفر میں  مزید  امداد  فراہم کرے گا۔

 یہ کانفرنس ، جو  2005 میں اپنے آغاز سے  ہر سال منعقد ہوتی ہے ،   بھارت اور افریقہ کے سینئر وزیروں ، پالیسی سازوں ، سینئر عہدے داروں ، بزنس لیڈروں ، بینکروں ،  ٹیکنالوجی کے ماہرین ، اسٹارٹ اپ  صنعت کاروں  اور  دیگر  ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر  یکجا کرتی ہے۔ یہ کانفرنس بھارت – افریقہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات  کو مزید مستحکم کرتی ہے اور  سرحد پار کے پروجیکٹوں میں ساجھیداری  کی ایک وسیع رینج فراہم کرتی ہے۔

اس کانفرنس میں افریقہ کے 500 سے زیادہ  مندوبین نے شرکت کی۔ جمہوریہ گھانا کے نائب صدر  ڈاکٹر محمدو  باوُو میاں ، جمہوریہ گنی کے وزیراعظم  ڈاکٹر ابراہیم قصوری  فوفانا اور  لیسوتھو کی سلطنت کے نائب وزیراعظم مویانی مولے لکی نے بھی کانفرنس میں شرکت کی۔

Related posts

گلیوں کو روشن کرنے کے قومی پروگرام کے تحت اب تک 49 لاکھ ایل ای ڈی اسٹریٹ لائٹس کی تنصیب

راجستھان میں چوتھے مرحلے میں 29اپریل کو 13 لوک سبھا سیٹوں پر ووٹنگ

فرانس کے صدر کے دورے کے دوران وزیراعظم کی جانب سے پریس بیان