ای-شرم میں رجسٹریشن سے غیر منظم محنت کشوں کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ آسانی سے مل سکے:بھوپیندر یادو

Urdu News

دو ماہ سے بھی کم عرصے میں 4کروڑ (40ملین سے زیادہ)سے زیادہ مزدوروں نے ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کرایا ہے۔محنت و روزگار کے زیر جناب بھوپیندر یادو نے اپنے ٹوئٹ پیغام میں یہ معلومات ساجھا کرتے ہوئے کہا کہ رجسٹریشن کرانےسے غیر منظم کام گاروں کو سرکاری منصوبوں کا فائدہ آسانی سے مل سکے گا۔

تعمیرات ، ملبوسات سازی، ماہی گیری، گِگ اور پلیٹ فارم ورک، اسٹریٹ وینڈنگ، گھریلو کام، زراعت و اُس سے متعلقہ کام ، ٹرانسپورٹ شعبے جیسے مختلف کاروبار میں لگے مزدوروں نے پورٹل پر رجسٹریشن کرایا ہے۔اِن میں سے کچھ شعبوں میں غیر مقیم مزدوروں کا اوسط زیادہ ہے۔غیر مقیم مزدوروں سمیت تمام  غیر منظم مزدور اب ای-شرم پورٹل پر رجسٹریشن کے ذریعے مختلف سماجی تحفظ اور روزگار پرمبنی منصوبوں کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

لائیو اعدادو شمار کے مطابق پورٹل پر 4.09کروڑ مزدوروں نے رجسٹریشن کرایا ہے۔اِن میں سے تقریباً 50.02فیصد مستفدین خواتین ہیں اور 49.98 فیصد مرد شامل ہیں۔ یہ انتہائی حوصلہ بخش ہے کہ مرد اور خواتین کی یکساں اوسط اِس مہم کا حصہ بنی ہے۔صنف کی بنیاد پر رجسٹریشن میں ہفتہ وار بہتری آئی ہے۔مرد اور خاتون مزدوروں نے تقابلی اوسط میں رجسٹریشن کرایا ہے، جیسا کہ نیچے دیئے گئے گراف کے ذریعے دکھایا گیا ہے۔

تازہ ترین اعدادو شمار کے مطابق اُدیشہ، مغربی بنگال، اترپردیش، بہار اور مدھیہ پردیش ریاستیں سب سے زیادہ رجسٹریشن کے ساتھ اس پہل میں سب سے آگے ہیں۔جیسا کہ نیچے دیئے گئے گراف میں دکھایا گیاہے۔حالانکہ اِس تعداد کو احتیاط کے ساتھ ملحوظ خاطر رکھاجانا چاہئے۔ چھوٹی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں(یوٹی) میں یقینی طور سے رجسٹرڈشدہ افرادی قوت کی تعداد کم ہے۔ ساتھ ہی اِس مہم کو میگھالیہ، منی پور، گوا اور چنڈی گڑھ جیسی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام ریاستوں میں رفتار دیئے جانے کی ضرورت ہے۔

بھارت میں روزگار پیدا کرنے میں اِن دو شعبوں میں وسیع گنجائش کو دیکھتے ہوئے رجسٹرڈ شدہ مزدوروں کی سب سے بڑی تعداد کا تعلق زراعت اور تعمیراتی شعبے سے ہے۔ اِس کے علاوہ گھریلو ملازمین، ملبوسات سیکٹر کے مزدوروں، آٹو موبائل اور ٹرانسپورٹ شعبے کے مزدوروں، الیکٹرونکس اور ہارڈ ویئر  کے مزدوروں، مالی سازو سامان کے مزدوروں، تعلیم، صحت دیکھ بھال، خوردہ، سیاحت اور ہاسپٹلٹی، غذائی صنعت جیسے گونا گوں اور مختلف کاروبار کے مزدوروں نے اِ س پورٹل پر اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔

اِ ن اِندراج شدہ مزدوروں میں سے تقریباً 65.68 فیصد 40-16سال کی عمر زمرے کے ہیں اور 34.32 فیصد 40 سال اور اُس سے زیادہ کی عمر زمرے کے ہیں۔اِن مزدوروں کے سماجی ڈھانچے میں دیگر پسماندہ طبقات(او بی سی)اور عام برادریاں شامل ہیں۔اِن زمروں سے بالترتیب تقریباً 43 فیصد اور 27 فیصد  کا تعلق اِن برادریوں سے ہے، جبکہ 23 فیصد اور 7 فیصد ایسے لوگ ہیں، جن کا تعلق درج فہرست ذات اور درج فہرست قبائل سے ہے۔

جیسا کہ اُوپر دیئے گئے گراف میں دکھایا گیا ہے رجسٹریشن کی مناسب اوسط کو سی ایس سی کے ذریعے آسان بنایا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کیرالہ اور گوا جیسی کچھ ریاستوں میں اور شمال مشرقی بھارت ، میگھالیہ اور منی پور میں لوگوں کے ایک بڑے حصے نے پورٹل میں از خود رجسٹریشن کرایا ہے۔دادر اور نگر حویلی ، انڈمان ونکوبار جزائر اور لداخ جیسی زیادہ تر ریاستوں کے ساتھ بھی ایسا ہی ہے۔

حالانکہ ، تازہ ترین اَپ ڈیٹ کے مطابق مزدوروں کی بڑی تعداد (77 فیصد)نے سی ایس سی کے ذریعے اپنا رجسٹریشن کرایا ہے۔جیسا کہ اُوپر دیئے گئے اعدادو شمار میں دکھایا گیا ہے۔سی ایس سی کی رسائی میں ہفتہ در ہفتہ بہتری آئی ہے۔اس لیے کم سہولت والے شعبوں میں سی ایس سی کی رسائی ایک اہم ذریعے کی شکل میں اُبھر کر آئی ہے۔مزدوروں کو پورٹل پر خود کو رجسٹرڈ کرنے کےلئے اپنے نزدیکی سی ایس سی میں جانے اور اس عمل کا فائدہ اٹھانے کے لئے حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، جس سے مختلف فلاحی پروگراموں تک باآسانی رسائی حاصل کی جاسکتی ہے اور اُس کا فائدہ اٹھا یا جاسکتا ہے۔

جناب بھوپیندر یادو، جناب رامیشور تیلی، سیکریٹری محنت و روزگار ، جناب سنیل برتھوال(سیکریٹری ایل این ای)اور چیف لیبر کمشنر (سینٹرل) اور سی ایل سی کے دیگر ریجنل حکام غیر منظم مزدوروں اور ٹریڈ یونین و میڈیا کے افراد کے ساتھ بات چیت کررہے ہیں۔ای-شرم پورٹل کی خصوصیات اور فوائد کے بارے میں اُنہیں حساس بنانے کےلئے، تاکہ مزدوروں کو دستیاب طریقوں سے خود کو رجسٹریشن کرانے کےلئے حوصلہ افزائی کی جاسکے اور مختلف سماجی تحفظ و فلاحی منصوبوں کا فائدہ اٹھایا جاسکے۔

یہ رجسٹریشن اہم فلاحی پروگراموں اور غیر منظم شعبوں اور روزگار  میں

Related posts

جناب نتن گڈکری نے ایم ایس ایم ای اور صنعتوں سےزور دے کر کہاہے کہ وہ شاہراہوں سے متصل شجر کاری اور درختوں کا رکھ رکھاؤکریں

مہاراشٹر، پنجاب، کرناٹک، گجرات اور مدھیہ پردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 77.7 فی صد نئے معاملے سامنے آئے ہیں

وزیرمملکت ، ڈاکٹرجتیندرسنگھ نے ‘توقعاتی اضلاع کی تبدیلی ’ سے متعلق پروگرام کے تحت شمال مشرقی اضلاع کے موضوع پرتبادلہ خیالات کے لئے میٹنگ طلب کی