آیوش کی وزارت نے ملک بھر میں آیوش 64 کی دستیابی بڑھانے کے لئے اقدامات کیے

Image default
Urdu News

کووڈ-19 عالمی وبا کے معاملوں میں حالیہ کچھ ہفتوں کے دوران اضافہ ہوا ہے اور اس وبا کو سرکاری صحت کا ایک سب سے بڑا چیلنج قرار دیاگیا ہے جو اس صدی میں ملک کے سامنے درپیش ہے۔ اس مدت کے دوران حفظان صحت کے آیوش نظام کی صلاحیت کو بڑے پیمانے پر افراد اور میڈیکل پریکیشنرس کے ذریعے بروئے کار لایاگیا ہے، جو فزیکل اور جذباتی صحت کے امور سے نمٹنے میں پیش پیش نظر آتا ہے اور کئی غیر معمولی نتائج اطلاعات بھی ملی ہیں۔

کووڈ-19 کے علاج کے لئے پولی ہربل آیورویدک میڈیسن (دوا) آیوش-64 کو دوبارہ تجویز کرنا اس شعبے میں سب سے اہم پیش رفت ہے۔آیوش-64 ملیریا کے علاج کے لئے 1980 می پہلی بار تیار کی گئی تھی اور یہ سبھی انضباطی ضرورتیں، کوالٹی اور فارماکوپویل معیارات کو پورا کرتی ہے۔ سی سی آر اے ایس نے حال ہی میں ملک بھر میں میڈیکل کالجوں اور دیگر کئی تحقیقی اداروں اور کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (سی ایس آئی آر) کے اشتراک سے غیر علامات والے ہلکے سے معتدل کووڈ-19 کے علاج پر توجہ دیتے ہوئے اس دوا کی زبردست اور پوری طرح کلینکل آزمائش کی تھی۔ ملک کےمشہور سائنسدانوں کی قیادت میں آزمائش نے یہ ظاہر کیا کہ آیوش -64 اینٹی وائرل ایمیون ماڈیولز اور اینٹی پای ریٹک پراپرٹیز ہے۔ یہ غیر علامات والے ہلکے سے معتدل کووڈ-19 انفیکشن کے علاج میں سود مند پائی گئی۔ اس کے نتیجے میں کووڈ-19 کے لئے اب دوبارہ دوا تجویز کی گئی ہے۔ یہ اعلان وزارت کی جانب سے 29 اپریل 2021 کو ایک پریس کانفرنس میں کیاگیا۔

وزارت نے تب سے ملک بھر میں آیوش-64 کی تقسیم کےعمل کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں اور اس کی پیداوار بڑھائی ہے تاکہ یہ ایک مختصر وقت میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کے لئے دستیاب ہوسکے۔اس کوشش کے حصے کے طور پر سی سی آر اے ایس اور نیشنل ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ سینٹر (این ڈی آر سی) نے ایسی تعاون کے ساتھ آیوش 64 کی زیادہ پیداوار اور آیوش-64 کے کمرشیلائزیشن کے لئے ایک اقرار نامے پر دستخط کئے۔ 27 اپریل 2021 کو آیوش کی وزارت نے اے ایس یو میڈیسن (دواؤں) کی تمام ریاستی لائسینسنگ اتھارٹیز کے لئے ایڈوائزری جاری کی تاکہ موجودہ عندیوں کے علاوہ ہلکے سے معتدل کووڈ-19 کے علاج کے لئے ایک طریقہ کار کے طور پر آیوش 64 دوبارہ تجویز کی جاسکے۔

ملک بھر میں آیوش-64 کی دستیابی کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزارت نے مزید دواساز کمپنیوں کی اس بات کے لئے حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اس دوا کے لئے مینوفیکچرنگ لائسنس حاصل کریں ٹکنالوجی کی منتقلی کے لئے خواہشمند کمپنیاں این آر ڈی سی اور سی سی آر اے ایس سے رجوع کرسکتی ہیں۔ سی سی آر اے ایس آیوش -64 دوا تیار کرنے میں اے ایس یو ڈرگس مینوفیکچررس کو تکنیکی تعاون وامداد فراہم کرے گی۔

Related posts

جنوبی افریقہ کے جوہانسبرگ میں برکس آؤٹ ریچ مذاکرات میں وزیر اعظم کا خطاب

الیکشن کمیشن آف انڈیا نے 17ویں لوک سبھا کے نئے منتخبہ ارکان کی فہرست صدر جمہوریہ ہند کو پیش کی

نمامی گنگے کے تحت 929 کروڑ روپئے مالیت کے 12 پروجیکٹوں کو منظوری دی گئی