آئی سی اے آر نے 12 زبانوں میں ماہی گیری کے شعبے کے لئے ایڈوائزری جاری کی

Image default
Urdu News

نئی دہلی: کووڈ-19 کا وبائی مرض پوری دنیا میں پھیل گیا ہے اور اس کے نتیجے میں لاک ڈاؤن کیا گیا ہے۔ لاک ڈاؤن نے ملک میں ماہی گیری اور ماہی پروری کے شعبوں کو کئی طریقے سے برعکس طور پر متاثر کیا ہے۔کھلے پانی میں جاکر ماہی گیری کے عمل میں تعطل پیدا ہونے کے علاوہ تازے پانی اور سمندری پانی میں ماہی پروری کا کام بھی متاثر ہو ا ہے۔مچھلیوں کے بچے پیدا کرنے سے متعلق متعدد سرگرمیاں، ان کے لئے چارہ تیار کرنے کے پلانٹ، سپلائی اور مارکیٹ چین وغیرہ بھی بری طرح سے متاثر ہوئی ہے۔ مجموعی طورپر ماہی گیر ، مچھلی کے دھندے سے جڑے ہوئے کارکنان، ڈبہ بندی کرنے والے اور ان کی برادریاں اس وبائی مرض کے اثرات جھیلنے کے لئے مجبور ہیں اور اس نے پوری ویلیو چین کو متاثر کیا ہے اور ا س کے ساتھ ہی ساتھ اس پر انحصار کرنے والوں کی روزی روٹی بھی متاثر ہوئی ہے۔

زرعی شعبے میں تمام تر شراکت داروں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے زرعی تحقیقی بھارتی کونسل(آئی سی اے آر) زرعی تحقیق و ترقیات کا محکمہ (ڈی اے آر ای)، وزارت زراعت اور کاشتکاروں کی فلاح و بہبود، حکومت ہند نے اپنے تحقیقی اداروں کی توسط سے مختلف ذیلی شعبوں میں مصروف عمل اراکین کو بیدار اور خبردار کرنے کےلئے متعدد اختراعی اقدامات کئے ہیں۔

ماہی گیری کے شعبے میں ، جس میں مچھلیاں پکڑنے سمیت ماہی پروری اور دیگر ذیلی سرگرمیاں بھی شامل ہے، آئی سی اےآر نے ماہی گیری سے وابستہ اداروں کے توسط سے ایڈوائزریاں جاری کرنےکے کام میں قائدانہ کردار ادا کیا ہے، تاکہ کارکنان کی سلامتی کو یقینی بنایا جاسکے اور اس وبائی مرض کو ان میں پھیلنے سے روکا جاسکے۔اپنی اسی کوشش کے تحت آئی سی اے آر-ماہی پروری کی ٹیکنالوجی سے متعلق مرکزی ادارے (آئی سی اے آر-سی آئی ایف ٹی)، کوچی نے ماہی گیروں ، ماہی گیر کشتیوں کے مالکان، جن ساحلوں پر ماہی گیری کی جاتی ہے، وہاں کے لئے، مچھلی منڈیوں اور سمندری خوراک کو ڈبہ بند کرنے والے پلانٹوں کے لئے انگریزی اور ہندی کے علاوہ 10 علاقائی زبانوں میں ایڈوائزریاں جاری کی ہیں۔

 آئی سی اے آر –سی آئی ایف آر آئی)، بیرک پور نے دریاؤں ، ذخائر اور پانی والی زمینوں میں ماہی گیری کی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے لئے ایڈوائزریاں جاری کی ہیں۔ ان ایڈوائزریوں کو پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کے ذریعے مقبول عام بنایا گیا، ریاستی محکمہ ماہی گیری تک ان کی تشہیر کی گئی، ترقیاتی ایجنسیوں، این جی اوز، ایس ایچ جی کی مدد سے بھی نیز سوشل میڈیا کا سہارا بھی لیا گیااور تشہیر کی گئی۔ ملک بھر میں اس طرح کی کوششوں کی متعلقہ شعبے میں عمدہ طور پر یذیرائی کی گئی ہے۔

ان بروقت جاری کی گئی ایڈوائزریوں کی اہمیت تسلیم کرتے ہوئے روم کے خوراک اور زرعی اداروں کی تنظیم (ایف اے او) نے سفارش کی ہے کہ آئی سی اے آر-سی آئی ایف ٹی اور آئی سی اے آر –سی آئی ایف آر آئی کے ذریعے تیار کی گئی ایڈوئزریوں کو رضاکارانہ رہنما خطوط کے طورپر عالمی ماہی گیری کے شعبے کے لئے پوری دنیا میں درج ذیل ویب سائٹ پر زیر تشہیر لایا جائے۔ (Webpage: http://www.fao.org/3/ca8959en/ca8959en.pdf)آئی سی اے آر اور اس کے اداروں کی کوششوں کے لئے یہ ایک بڑا اعتراف کہا جاسکتا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ عالمی ماہی گیری شعبہ کونسل کی ان کوششوں سے مستفید ہوگا۔

Related posts

پہلے قومی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری ایوارڈز کیلئے تجاویز طلب کی گئیں

کابینہ نے اترپردیش میں کشی نگر ہوائی اڈے کو بین اقوامی ہوائی اڈہ اعلان کئے جانے کو دی منظوری

جناب منوج سنہا نے دربھنگا –جالندھر سٹی انتودیہ ایکسپریس کو جھنڈی دکھا کر روانہ کیا